مہنگائی عروج پر!

مہنگائی عروج پر!

  

چینی کے بارے میں حکومتی اقدام کے بعد سے اب تک نرخوں پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا، اور چینی بازار میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔پشاور میں فی کلو110روپے اور دور دراز علاقوں میں نرخ اِس سے بھی زیادہ ہیں۔لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں 100 روپے فی کلو بک رہی ہے۔ قیمتوں میں اتنے بڑے اضافے کے باوجود حکومت یا انتظامیہ کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔اس کے ساتھ ہی آٹا بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے، چکیوں پر نرخ70 سے72 روپے فی کلو ہو گئے ہیں۔ سرکاری نرخوں 860 روپے والا تھیلا دستیاب نہیں اور کہیں ہے تو اس کا وزن کم کر دیا گیا ہے، اسی طرح تنور والوں نے نان کی قیمت بڑھا کر 12 روپے سے 15 روپے کر دی،تاہم روٹی کی قیمت 8 روپے برقرار رکھتے ہوئے وزن میں کمی کر دی ہے۔ حکومت مہنگائی کے حوالے سے عوام کو کوئی بھی ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ چینی آٹا اپنی جگہ، انڈوں، چاول، دالوں اور سبزیوں کے نرخ بھی نیچے نہیں آ رہے۔ ادرک جیسی سبزی ایک ہزار سے بارہ سو روپے فی کلو بک رہی ہے، عوام اس صورتِ حال سے پریشان اور احتجاج کرتے ہیں۔ ان کی سننے والا کوئی نہیں، حکومت کو مہنگائی کے حوالے سے فوری انتظامات کرنا ہوں گے۔ دوسری صورت میں ترقیاتی کام اور منصوبوں کا عوامی سطح پر کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -