عرب، اسرائیل شطرنج: ایک اور پسپائی

عرب، اسرائیل شطرنج: ایک اور پسپائی
عرب، اسرائیل شطرنج: ایک اور پسپائی

  

1949ء میں ریاست اسرائیل کے قیام کے بعد سے لے کر ہنوز، صہیونی ریاست کا جغرافیہ پھل پھول رہا ہے اسرائیلی حکمران، ریاست کے جغرافیئے کو اپنی تاریخ کے مطابق ترتیب دینے میں مشغول ہیں ان کی تاریخ کوئی پوشیدہ یا خفیہ نہیں ہے وہ ریاست اسرائیل کے جغرافیئے کو اپنے اعلان کردہ تاریخی حقائق کے مطابق ترتیب دینے میں مشغول ہیں گزرے 70,72 سالوں کے دوران صہیونی حکمرانوں نے ایک لمحے کے لئے بھی اپنی تاریخ سے آنکھ نہیں موڑی ہے وہ اس عرصے کے دوران، اپنے تاریخی جغرافیئے کی ترتیب سے بھی غافل نہیں رے ہیں۔ گریٹر اسرائیل کی اعلان کردہ تعمیر جاری رہی اب شاید انہیں اپنے تاریخی جغرافیے کی تکمیل کے لئے ریاست اسرائیل کی سرحدوں میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے وہ اس حوالے سے جو کچھ کرنا چاہتے تھے کر چکے ہیں اب انہیں اپنے نجات دہندہ یعنی مسیح موعود کا انتظار ہے لیکن اس کی آمد سے پہلے، گریٹر اسرائیل کی تکمیل ضروری ہے جغرافیہ تو شاید انہوں نے مکمل کر ہی لیا ہے اب تھرڈ ٹیمپل یعنی ہیکل سلیمانی کی تیسری دفعہ تعمیر کرنا باقی ہے اور یہ تعمیر وہ انہی بنیادوں پر کرنا چاہتے ہیں جن پر نبی داؤدؑ نے کی تھی جس کی تکمیل ان کے بیٹے سلیمانؑ نے کی تھی پھر اللہ سبحانہ، و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو عروج بخشا۔ ان پر من و سلویٰ اتارا لیکن ان کی نافرمانیوں اور سر کشیوں کے باعث اللہ کے عذاب کا کوڑا ان پر برسا اور وہ عیسیٰؑ ابن مریم کو صلیب دینے کے جرم میں ہمیشہ کے لئے راندہ درگاہ قرار پائے۔ ویسے عیسیٰؑ کو انہوں نے بظاہر موت کے گھاٹ اتاردیا تھا قرآن میں اللہ رقمطراز ہے کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے تھے۔ اس کے بعد اڑھائی ہزار سال تک یہودی دنیا میں تتر بتر رہے اور 1949ء میں ایک صلیبی سازش کے تحت ارض فلسطین میں لا بسایا گیا۔

خطہ عرب 22 مسلمان ممالک پر مشتمل ہے اور اس میں 428 ملین مسلمان بستے ہیں 13.51 ملین کلومیٹر (مربع) رقبہ قدرتی وسائل بشمول تیل و گیس سے مالا مال ہے جبکہ اسرائیل کا رقبہ صرف 22 ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی 91 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے،70,72 سال گزرنے کو ہیں عرب ممالک کیا 56 مسلم ممالک بھی مل جل کر فلسطینی بھائیوں کو ان کے حقوق نہیں دلا سکے ہیں۔

اسرائیلی حکمران اقوام عالم کے ”احکامات“ کی بھی پرواہ نہیں کرتے، اقوام عالم نے خطے میں ارض فلسطین میں دو ریاستیں (یہودی ریاست، فلسطینی ریاست) قائم کرنے کی منصوبہ سازی کے ذریعے اسرائیل تخلیق کیا تھا اسرائیل اپنے قیام کے روزِ اول سے ہی اقوام عالم کی طے شدہ حدود کو پامال کرتا رہا ہے تاکہ گریٹر اسرائیل قائم کیا جا سکے اب تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کے بعد گریٹر اسرائیل کے قیام کا صیہونی خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔ پونے دو کروڑ مسلمانوں کے 59 سے زائد ممالک جن میں کئی ایک ملٹری پاور بھی ہیں اور ایک ملک تو ایٹمی طاقت بھی ہے اسرائیل کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے سے روکنے کی سکت نہیں رکھتے۔

اب باتیں سفارت اور سیاست سے نکل کر طاقت اور صرف طاقت پر آن پہنچی ہیں جہاں تک طاقت کا سوال ہے معاشی و عسکری طاقت کے لحاظ سے اہل حرم کسی طور بھی کمزور نہیں ہیں لیکن اس طاقت کے ”منصفانہ استعمال“ کے حوالے سے مخلص اور قابل قیادت شاید ہمارے ہاں موجود نہیں ہے۔

صیہونی اور صلیبی قیادت نے تمام ایسے اقدامات بڑی تندہی کے ساتھ کئے ہیں جن کا نتیجہ افتراق و انتظار اور کمزوری کی صورت میں نکلا ہے آج ہم ہر طرح کے انتشار کا شکار ہیں ہمارے ہاں اسرائیل کو تسلیم کرنے، ایک حقیقت ماننے اور تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے فکری و عملی انتشار پایا جاتا ہے۔ عربوں نے بشمول سعودی عرب و امارات،مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دینے کی بجائے مسلم دشمن، اسلام دشمن بی جے پی مودی کا ساتھ دینا ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ اسے سرکاری اعزازات سے نوازنے اور بت پرستی کے مراکز تعیمر کر کے دینے میں عافیت سمجھی ہے۔ امارات میں سرکاری طور پر بت خانے کا افتتاح بھی کر دیا گیا ہے۔ اب تو متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کا باقاعدہ اعلان بھی کر دیا ہے گویا ایک اور مسلم ملک غاصب کے سامنے سرنگوں ہو گیا ہے۔ امریکی سرپرستی میں اسرائیل گریٹر بنتا چلا جا رہا ہے؛ امریکی صیہونی؛ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہودی داماد نے جو امریکی حکومت کے نمائندہ برائے مشرق وسطی تعینات کئے گئے ہیں واضح طور پر کہا ہے کہ ایک اور عرب ملک بہت جلد اسرائیل کو تسلیم کرلے گا۔ اس حوالے سے سعودی عرب اور بحرین کا نام لیا جا رہا ہے با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پہلے اور پھر بحرین اسرائیل کو تسلیم کرے گا گویا اب وکٹیں تیزی سے گرنا شروع ہو جائیں گی۔ عالم عرب، اسرائیل کے سامنے سربسجود ہونے جا رہا ہے۔

ہمارے ہاں بھی اس بارے باتیں ایک بار پھر ہونا شروع ہو گئی ہیں کہ ہمارا، اسرائیل کے ساتھ کیا جھگڑا ہے عرب اسے تسلیم کرنے لگے ہیں تو ہمیں بھی اسے تسلیم کر لینا چاہئے۔یہ بحث اب زور شور سے جاری ہے اخبارات میں کالم بھی آنا شروع ہو گئے ہیں سوشل میڈیا میں یہ ٹاپ ٹرینڈ کی طرف جا رہا ہے ہماری نئی نسل کو تو پتہ ہی نہیں ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا جھگڑا کیا ہے بیت المقدس کیا ہے، مسجد اقصیٰ کی ہمارے دین و ایمان میں کیا حیثیت ہے۔ یروشلم کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیوں نہیں رکھنے ہیں، اسرائیل کے ساتھ ہمارا جھگڑا، فلسطینیوں یا عربوں کی وجہ سے نہیں ہے؟ ویسے تو ہماری نوجوان نسل کو تو شاید یہ بھی پتہ نہ ہو کہ مسئلہ کشمیر کیا ہے، ہمارا ہندوستان کے ساتھ کیا جھگڑا ہے؟ ہم نے ایٹم بم کیوں بنایا ہے؟ ہماری مسلح افواج کی نہ صرف پاکستان کے لئے بلکہ عالم عرب اور عالم اسلام کے لئے کیا اہمیت ہے؟ ایٹمی پاکستان کتنا اہم ہے؟ ہم اور ہماری نوجوان نسل نو مغربی اور ہندی تہذیب و تمدن کا شکار ہو گئی ہے۔

پاکستان کی نظر یاتی اساس کہیں گم ہو گئی ہے۔ ریاست پاکستان کی نظریاتی و فکری بنیادوں کے بارے میں ہمیں شاید بہت زیادہ فکر نہیں ہے بلکہ ہم تو جدید دنیا کے رسوم و رواج اپنانے میں مگن ہیں مغربی و ہندی تہذیب و تمدن کی چمک کا شکار ہیں۔ ایسے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں ہمیں نہ تو زیادہ فکر ہے اور نہ ہی اس مسئلے کی فکری، نظری اور عملی اہمیت بارے کچھ پتا ہے، جبکہ ہمارے دشمن، صیہونی، یہودی، عیسائی اور ہندو مل جل کر بڑی تندہی کے ساتھ ہماری فکری و نظری جڑیں کھودنے کے ساتھ ساتھ ہمیں بے بس کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو اس حوالے سے باشعور بنانے کی شعوری کاوشیں کی جائیں۔ ہنگامی بنیادوں پر فکری اور نظریاتی محاذ پر منظم کام کیا جائے۔ ہمارے دشمن ہمیں کمزور کرنے کے لئے جو کچھ کر رہے ہیں اس کا فوری تدارک کرنا ضروری ہے۔ وگرنہ کہیں بہت زیادہ دیر نہ ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -