ملتانی مخدوم، وزیر اعظم اِن ویٹنگ کی لکیر مٹ گئی

ملتانی مخدوم، وزیر اعظم اِن ویٹنگ کی لکیر مٹ گئی
ملتانی مخدوم، وزیر اعظم اِن ویٹنگ کی لکیر مٹ گئی

  

ملتانی مخدوم شاہ محمود حسین قریشی کے بارے میں بڑھتی ہوئی چہ میگوئیاں ہم ملتانیوں کے لئے خاصی تشویش کا باعث ہیں جب سے انہوں نے کشمیر کے تناظر میں سعودی عرب کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان دیا ہے، ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں ابھی تک تو یہ عقدہ بھی حل نہیں ہو رہا کہ سعودی عرب جیسے برادر اسلامی ملک کے لئے شاہ جی نے جو لب و لہجہ اختیار کیا وہ ان کی اپنی سوچ تھی یا انہیں یہ بڑھک مارنے کے لئے کہا گیا تھا۔ سعودی عرب کے حکمرانوں کو یہ کہنا کہ وہ اب فیصلہ کریں کہ کشمیر کے مسئلے پر ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں، ہمارا کبھی بھی یہ بیانیہ نہیں رہا، سعودی عرب تو خیر ہمارے دکھ سکھ کا ساتھی ہے اور ہمیشہ اس نے کڑے وقت میں ہماری معیشت کو سہارا دیا ہے، یہ بات تو وزارتِ خارجہ کی طرف سے کسی عام سے ملک کو بھی نہیں کہی گئی۔  کیونکہ یہ خارجہ پالیسی کی حکمت کے خلاف ہے کہ آپ کسی ملک کو ایسی وارننگ جاری کریں، ہر ملک کی اپنی مرضی ہے اور وہ اپنے مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر اپنی پالیسی بناتا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر تو پوری دنیا بھارت کے بڑے حجم کی وجہ سے اس کی کھل کر مخالفت نہیں کرتی، تو کیا ہم پوری دنیا کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ فیصلہ کرے کشمیریوں کے ساتھ ہے یا نہیں۔ ملتانی مخدوم سے یا تو الفاظ کا چناؤ غلط ہوا ہے یا پھر کسی کی آشیر باد سے جوشِ جذبات میں یہ کہہ گئے، جو نہ صرف ان کے بلکہ پاکستان کے بھی گلے پڑ گیا ہے۔ اگرچہ سعودی عرب نے وزیر خارجہ کے اس بیان پر کوئی سرکاری ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن دیئے گئے ایک ارب ڈالرز کی فوری واپسی اور ادھار پر دیئے جانے والے تیل کی بندش جیسے فیصلے اس کی ناپسندیدگی کا مظہر ہیں۔

اب کہنے والے تو یہ تک کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ سعودی عرب کے دورے پر گئے ہیں تو وہ بھی اس بد مزگی کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ بالفرض ملتانی مخدوم کو اگر کسی نے کہا بھی تھا کہ وہ وزارتِ خارجہ کی پالیسی میں اتنے بڑی تبدیلی کا اظہار کریں تو انہیں پہلے خود سو بار سوچنا چاہئے تھا۔ حیرت ہے انہوں نے اس بیان کے اثرات پر غور ہی نہیں کیا۔ یہ وہی ملتانی مخدوم ہیں جنہوں نے امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے معاملے پر استعفےٰ دیدیا تھا کیونکہ بقول ان کے وہ پاکستان کی خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دینا چاہتے تھے۔ اس بار انہوں نے بلا سوچے مجھے برسوں کے آزمائے ہوئے دوست ملک پر اچانک فائر کر دیا۔ کیا کسی ملک کے گلے پر انگوٹھا رکھ کر اس سے بات منوائی جا سکتی ہے۔ ملک بھی ایسا ہو کہ ہمارا نہیں بلکہ ہم اس کے قدم قدم دست نگر رہے ہیں اور اس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا۔ کیا شاہ محمود قریشی اکیلے اس کھیل میں ملوث ہیں یا وزارت خارجہ نے انہیں یہ راہ دکھائی۔ ویسے تو کہا جاتا ہے کہ فوج خارجہ پالیسی پر گہری نظر رکھتی ہے اور اس کے بغیر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آ سکتی، تو پھر یہ سب کیسے ہوا۔ کیا ملتانی مخدوم کسی سازشی تھیوری کا شکار ہوئے یا اوور سمارٹ ہونے کی وجہ سے اس صورت حال کا شکار ہوئے۔ ابھی تو ان واقعات کی بازگشت بھی جاری تھی جو ایوانِ وزیر اعظم میں ہوئے اور جن میں فیصل واؤڈا نے ملتانی مخدوم کو آڑے ہاتھوں لیا تھا کہ وہ وزیر اعظم بننے کے لئے سازشیں کر رہے ہیں بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تھی اور وزیر اعظم عمران خان مداخلت کر کے فیصل واؤڈا کو اپنے ساتھ اندر لے گئے تھے۔ کیا ملتانی مخدوم ایسی کسی سازش کا شکار تو نہیں ہو گئے جو ان کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لئے کی گئی۔ اس شبے کو تقویت اس لئے ملتی ہے کہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے شاہ جی کے اس بیان کا حوالہ دیئے بغیر وزارتِ خارجہ کی کشمیر پالیسی پر کڑی تنقید کی۔ اسے ناکام قرار دیا۔ کیا کابینہ کی ایک وزیر دوسرے وزیر کو اس طرح تنقید کا نشانہ بنا سکتی ہے۔ کشمیر پالیسی کی ناکامی کا مطلب ہے حکومت کی پالیسی ناکام ہو گئی، تو کیا ڈاکٹر شیریں مزاری اتنی طاقتور ہو گئی ہیں کہ اپنی ہی حکومت و ناکام قرار دے رہی ہیں؟ نہیں صاحب وہ خود ایسا نہیں کرسکتیں، یہ تو واقعات کا تسلسل لگتا ہے جو ہمارے پیارے ملتانی مخدوم کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لئے بڑے خوبصورت سکرپٹ کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے۔

کہتے ہیں لالچ اور خوش فہمی دو ایسی برائیاں ہیں جو انسان کی ہنڈیا بیچ چوراہے کے پھوڑ دیتی ہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ملتانی مخدوم کی حسرتِ نا تمام کے ہوائی قلعے بہت بلند رہے ہیں وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ تحریک انصاف میں نمبر ٹو ہیں، اس لئے اب نمبر ون بننے کی کوشش عین فرض ہے۔ یہ مائنس ون فارمولا بھی انہیں بہت پسند ہے۔ آج تک انہوں نے کھل کر اس کی تائید نہیں کی کہ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف کی حکومت چل ہی نہیں سکتی، بلکہ بعض وزراء نے خود وزیر اعظم کو یہ باور کرایا کہ کچھ لوگ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں اور خود کو متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ باتیں بھی سامنے آ چکی ہیں کہ پارٹی کا وائس چیئرمین ہونے کے باوجود شاہ محمد قریشی کی وزیر اعظم عمران خان سے آزادانہ ملاقات ناممکن ہو چکی اور ایک بار تو انہیں مبینہ طور پر بزور طاقت وزیر اعظم کے کمرے میں جانے سے روکا بھی گیا۔ ملتانی مخدوم کی سب سے بڑی ناکامی اس وقت بھی سامنے آئی جب وہ جنوبی پنجاب سکریٹریٹ کا مرکزی دفتر ملتان میں نہ بنوا سکے۔ وزیر اعظم عمران خان کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور سکریٹریٹ بہاولپور میں قائم ہو گیا۔ عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے، لیکن پیارے ملتانی مخدوم کو سامنے کی حقیقتیں دیکھ کر بھی خوابوں میں رہنے کی پرانی عادت ہے۔ انہوں نے انتخابات سے پہلے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا خواب دیکھا تھا، اس کی بڑی تیاری بھی کی تھی۔ لیکن حیران کن طور پر وہ قومی اسمبلی کا انتخاب جیت کر اسی حلقے میں صوبائی اسمبلی کی نشست ہار گئے۔ اس میں بھی ان کے لئے کئی اشارے موجود تھے، مگر انہوں نے یہاں سے ہار کے یہ ٹارگٹ بنا لیا کہ اب مرکز میں نمبر ون بنیں گے۔

ملتانی مخدوم کے لئے شاید وہ دن بھی بڑی اہمیت کا حامل تھا جب جہانگیر ترین اور کپتان کے درمیان دوریاں پیدا ہوئیں چینی سکینڈل میں جہانگیر ترین کا نام آ گیا اور وہ ملک سے باہر چلے گئے۔ وہ جہانگیر ترین کو اپنے راستے کا بہت بڑا کانٹا سمجھتے تھے اس کا انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں اظہار بھی کر دیا تھا کہ جہانگیر ترین کا نا اہل ہونے کے باوجود کابینہ اجلاس میں بیٹھنا بدنامی کا باعث ہے۔ مگر شاید شاہ جی یہ بھول گئے کہ عمران خان اتنے بھی بھولے نہیں جتنا وہ انہیں سمجھ رہے ہیں۔ آج ہمارا یہ ملتانی مخدوم یکاد تنہا کھڑا ہے، حکومت کے اندر اس کے حق میں آواز بلند ہو رہی ہے اور نہ باہر کے حالات ساز گار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے اس منجدھار سے نکلنے کے لئے اس بار وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ البتہ یہ بات تو طے ہے کہ وزیر اعظم ان ویٹنگ کی لکیر ان کے ہاتھوں سے مٹ چکی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -