پاکستانی اور انڈین میڈیا: دونوں طرف ہے آگ……

پاکستانی اور انڈین میڈیا: دونوں طرف ہے آگ……
پاکستانی اور انڈین میڈیا: دونوں طرف ہے آگ……

  

میں حیران ہوتا ہوں کہ ہمارے ملک میں گزشتہ کئی عشروں تک دہشت گردی کا بازار گرم رہا اور آج بھی اس کی باقیات موجود ہیں لیکن مجال ہے ہمارے پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا میں کسی ایسی اردو کتاب کا تذکرہ کیا گیا ہو جو اس موضوع پر کسی پاکستان لکھاری نے تصنیف کی۔ ہاں مغربی میڈیا نے اس پر بہت سی کتابیں تحریر کیں، ان کے بعض معروف میگزینوں میں دہشت گردی اور اس کی روک تھام کے لئے کئی مضامین بھی لکھے گئے جو ظاہر ہے انگریزی میں تھے۔ لیکن میری نظر میں اردو زبان کے کسی بھی میگزین یا اخبار میں ایسے آرٹیکل شاذ ہی دیکھنے اور پڑھنے کو ملے جن میں اس موضوع پر کوئی سیر حاصل اور پروفیشنل اعتبار سے قابلِ اعتبار یا وقیع تحریر لکھی گئی۔ دوسری طرف پرنٹ میڈیا ہو کہ الیکٹرانک میڈیا، سیاسی موضوعات پر کالموں، مضامین اور بحث و مباحث وغیرہ کی کوئی کمی دیکھنے کو نہ ملے گی۔ ہم کیسی قوم ہیں کہ اپنی ترجیحات کا ادراک نہیں کرتے۔ بس بُت بن کر ٹاک شوز دیکھتے سنتے رہتے ہیں یا خاموش اور بے زبان قارئین بن کر اخباروں کے ادارتی صفحات کو الٹتے پلٹتے رہتے ہیں۔

میں ایک اور بات پر بھی اکثر حیران ہوتا ہوں کہ پاکستان کے ہمسایوں میں بھی ایک طویل عرصے سے جنگ و جدل کی سی کیفیت ہے۔ مثلاً ہم جانتے ہیں کہ بھارت ہمارا دشمن نمبر ایک ہے۔ اس نے گزشتہ 20برسوں میں اپنے ہاں غیر ملکی اسلحہ جات کے ڈھیر لگا دیئے، دن رات ایل او سی پر حملے ہوتے رہے (اور آج بھی ہو رہے ہیں) لیکن اس کی وہی خبریں ہمارے میڈیا پر آتی ہیں جو آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کی جاتی ہیں۔ کسی ٹی وی چینل کی سکرین پر آج تک ایل او سی کے کسی گھرانے کے افراد کو لا کر اس کی زبان سے وہ حالتِ زار نہیں سنوائی گئی جس کا واویلا صرف اور صرف نیوز ریڈرز یا کوئی اینکرز کرتے رہتے ہیں۔ شہید ہونے والوں کے لواحقین کو آج تک کسی نے کسی ٹی وی ٹاک شو میں بلا کر اس سے دریافت نہیں کیا کہ اس کے شہید (یا شہدا) پر کیا گزری اور اب وہ خود کس حال میں ہیں۔کبھی کوئی اخباری نمائندہ ایل او سی پر پہنچ کر زخمی ہونے والے مردوں اور خواتین کے انٹرویو ریکارڈ کرکے میڈیا پر نہیں لایا نہ ہی کسی نے وہ تمام تفصیلات پرنٹ میڈیا پر کسی سیر حاصل مضمون کی صورت میں شائع کیں ……

میں حیران ہوتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟کیا پاک فوج نے ایل او سی پر جانے اور مرنے والوں یا زخمی ہونے والوں کے لواحقین سے رابطہ کرنے سے منع کر رکھا ہے؟ کیا حکومت یا فوج کی پالیسی یہ ہے کہ انڈیا کی طرف سے ڈھائے جانے والے ان مظالم کی کوئی تفصیل میڈیا پر نہ دی جائے؟…… اگر ایسا ہے تو اس کا برملا اظہار کرنے میں کیا قباحت ہے؟…… کیا اس قسم کے انٹرویوز، کالم یا مضامین غیر ملکی میڈیا  نے نشر یا شائع نہیں کئے اور کروائے جا سکتے؟ کیا اگر ایسا کیا جائے تو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا کیس زیادہ مضبوط نہیں ہو جائے گا؟

میں حیران ہوتا ہوں کہ پاکستان کا کوئی لکھاری اردو یا انگریزی زبان میں ایل او سی پر خود جا کر کوئی ایسی باتصویر کتاب شائع کیوں نہیں کرتا جو بین الاقوامی ضمیر کو بیدار کرنے میں ایک موثر رول ادا کرے۔ ہم روزانہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو خود ہی سناتے رہتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ دوسری اقوام خودبخود جور و ستم کی ان داستانوں کو سن کر پاکستان کے موقف کی تائید کریں گی…… ہم کتنے نادان اور کیسے بھولے پنچھی ہیں۔

دوسری طرف 15جون کو انڈیا کے 20 فوجی چین کی PLA نے مار دیئے…… وہ دن اور آج کا دن، انڈیا اور تو کچھ نہیں کر سکتا لیکن واویلا تو مچا رہا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ انڈین آرمی بھی چین کی اس ”جارحیت“ کا ترکی بہ ترکی جواب دیتی اور چین کے اگر زیادہ نہیں تو کم از کم 20سولجرز ہی ہلاک کر دیتی۔ وہ ایسا تو نہ کر سکی لیکن اس کا میڈیا دن رات چین کی اس ”عسکری دراز دستی“ کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے۔ فرانس سے 5رافیل طیارے منگوانے کا ناٹک اس تواتر اور اس ”تزک و اختشام“ سے رچایا گیا کہ خود انڈیا کے اندر کئی واقفانِ حال دانتوں میں انگلیاں داب کر بیٹھ گئے۔ فرانس سے اڑ کر ان طیاروں کا امارات آنا، وہاں رات بھر قیام کرنا، پھر وہاں سے پرواز کرکے بحرہند کی حدود میں داخل ہونا اور وہاں انڈین نیوی سے رابطہ کرکے اپنی ”آمد“ کو ایک عظیم Event بنانا، پھر دو SU-30 کی حفاظتی پشتیبانی میں ان 5رافیلوں کو انبالہ ائربیس پر اترتے ہوئے دکھانا وغیرہ نجانے کس کو ڈرانے اور مرعوب کرنے کے اقدامات تھے۔ انڈیا کے وہ سولجرز جو چین کے ہاتھوں مارے گئے، ان کے لواحقین ان خبروں کو دیکھ دیکھ اور سن سن کر کیا تاثر لیتے ہوں گے؟…… اشرفیاں لٹ گئیں تو کوئلوں کو سربمہر کر دیا گیا!

میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ انڈیا ہمارا کیسا ہمسایہ ہے کہ چندی گڑھ سے اڑان بھرنے والے غیر ملکی ٹرانسپورٹ طیاروں (AN-32 اور C-17وغیرہ) کو لداخ اور دولت بیگ اولدی میں اترتے ہوئے دکھانے کی خبروں کے ساتھ ساتھ بتایا جاتا ہے کہ رشین ٹی۔ 90ٹینک چین کی سرحد پر پہنچا دیئے گئے ہیں اور اب کوئی ”چینی سورما“ اس طرف میلی آنکھ سے تو دیکھے، لگ پتہ جائے گا!……

پھر خبریں فلیش کی گئیں کہ زمینی اور فضائی راستوں سے 30ہزار تازہ دم انڈین فوجی لداخ میں اتار دیئے گئے ہیں!……چلو چھٹی ہوئی، اب چین کی عسکری قیادت کے چھکے چھڑانے کی گھڑی آن پہنچی ہے…… دوسری طرف چین چپ چاپ بیٹھا ہے۔ کسی چینی میڈیا کی طرف سے اس بھاری انڈین کمک (Reinforcement) پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ کسی چینی نیوز چینل یا اخبار نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم نے تبت اور سنکیانگ میں دو کوروں کی نفری بہت پہلے سے متعین کر رکھی ہے جوان 30ہزار بھارتی فوجیوں کا ”مَکُو“ ٹھپ سکتی ہے۔

یاد رہے کہ انڈیا کی طرف سے جن 30ہزار ٹروپس کو لداخ بھجوانے کا دعویٰ کیا گیا ہے تو یہ نفری تقریباً ایک کور (تین ڈویژن) بنتی ہے۔ ایک ڈویژن میں دس سے بارہ ہزار فوجی ہوتے ہیں اور اس حساب سے ایک کور میں 30سے 35ہزار فوجی ہو گئے۔ انڈیا نے جب بار بار 30,000ٹروپس کی لداخ میں آمد کا شور مچایا تو بھارت کے کئی سینئر ریٹائرڈ فوجی افسروں کی سمجھ میں یہ بات نہ آ سکی کہ کیا لداخ میں ایک نئی کور پہنچا کر اس کا ’اچار‘ ڈالا جائے گا؟ لداخ، جموں اور کشمیر میں تو پہلے ہی تین کوریں موجود ہیں (14کور،15کور اور 16کور)…… اب اس نئی کور کی آمد کا مقصد کیا چین سے باقاعدہ لارج سکیل کی کسی لڑائی (Battle) کی تیاری کی جا رہی ہے؟…… اب ایک ماہ رہ گیا ہے،لداخ میں اور اکتوبر سے شدید سردی شروع ہو جائے گی اور ان 30ہزار ٹروپس کا بھگوان ہی رکھوالا ہوگا۔ انڈین میڈیا دن رات ان سولجرز کی قوتِ حرب و ضرب کا چرچا کرتا رہا ہے۔ کہتا رہا ہے کہ ان میں ”سپیشل ٹروپس“ بھی ہیں جن سے مراد وہ آفیسرز اور جوان ہیں جن کو گوریلا وار فیئر کا خصوصی تجربہ حاصل ہوتا ہے، جو چھاتہ بردار (ائر بورن) آپریشنوں میں استعمال کئے جاتے ہیں یا جن کو ہم پاکستان میں SSG کہتے ہیں۔

انڈین آرمی ایک پروفیشنل آرمی ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ ایک نئی کور کو کسی نئی جگہ بھجوانے میں انتظام و انصرام کی دشواریاں کیا ہوتی ہیں۔ ان کا اسلحہ بارود، راشن پانی، پٹرول، خیمے، کھانے پکانے کے انتظامات، اسلحہ اور ایمونیشن ذخیرہ کرنے کے اقدامات، میڈیکل، نقل و حرکت کی SOPs وغیرہ کے انتظامات میں کیسی کیسی مشکلات حائل ہوتی ہیں۔

میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر انڈین آرمی میں پیشہ ورانہ امور کی کوئی شُد بُد ہے تو یہ 30,000 ٹروپس کا ڈھنڈورہ جو انڈین میڈیا پیٹ رہا ہے، کتنا درست ہے یا کیا یہ اپنی پبلک کو خوش کرنے، اسے دلاسا دینے اور اس کا مورال اونچا کرنے کی سبیلیں ہیں؟……

اکتوبر سے مارچ تک کے 6ماہ لداخ میں شدید سردی کے مہینے ہوتے ہیں۔ ان میں ایک نئی کور کو ڈیپلائے کرنا کوئی آسان کام نہیں …… اب یا تو انڈین میڈیا جھوٹ بول کر اپنی پبلک اور افواج کا مورال بلند کرنے کی ناکام کوشش کررہا ہے یا بین الاقوامی برادری میں اپنے ابلاغی رول کی جگ ہنسائی کروا رہا ہے۔ آخر ٹائمز آف انڈیا "NDTV"دی ہندو، انڈیا ٹوڈے وغیرہ جیسے ابلاغی اداروں کی اپنی ایک پہچان اور وقعت بھی تو ہے۔ آج کا دور میڈیا کا ”وبائی دور“ ہے، اس میں جھوٹ یاایکٹنگ زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتی، اس لئے مجھے یقین ہے کہ انڈیا کو اپنے یہ 30,000سولجرز اکتوبر سے پہلے پہلے واپس لے جانے ہوں گے یا اگر ان کو جموں کشمیر کی کوروں سے لیا گیاہے (جسے فوجی اصطلاح میں Milkingکہتے ہیں) تو ان کو واپس ان کوروں میں بھجوانا پڑے گا۔ لیکن میں حیران ہوتا ہوں کہ آج کے جدید عسکری ماحول میں انڈیا جیسا بڑا ملک اور اس کی بڑی فوج یہ ڈینگیں کیوں مار رہی ہے…… اگر پاکستانی میڈیا عسکری امور کی ابجد سیکھنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کا دشمن نمبر ایک بھی تو یہی کچھ کر رہا ہے۔ یعنی دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی!

مزید :

رائے -کالم -