سینیٹ اجلاس، 10سال میں پاکستان اسٹیل ملز کو 169بلین روپے سے زائد آپریشنل خسارہ ہوا: حکومت 

  سینیٹ اجلاس، 10سال میں پاکستان اسٹیل ملز کو 169بلین روپے سے زائد آپریشنل ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سینیٹ کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران پاکستان اسٹیل ملز کو 169بلین روپے سے زائد کا مجموعی آپریشنل خسارا ہوا،جبکہ مالی سال 2018-19 میں 16بلین روپے سے زائد کا مالی خسارا ہوا، حکومت پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، منافع بخش ادارہ بنانے اور مسائل کوحل کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے، سی ای او کی میرٹ پر سلیکشن کی گئی،15ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے کووڈ 19کے تناظر میں پاکستان کو قرضوں، گرانٹس اور تکنیکی معاونت کے طور 3302ملین امریکی ڈالر کی رقم فراہم کرنے کا عزم کیا، اس کل رقم میں سے 2660ملین ڈالر ابھی تک تقسیم کئے جا چکے ہیں، مالی سال 2019-20کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے 1135بلین روپے کی ضمنی گرانٹس کی اجازت دی گئی، بہت سی ضمنی گرانٹس ہم نے کلیئر کی ہیں،جبکہ پارلیمنٹ سے منظور کرانی ہیں،ریٹائرمنٹ کی عمر کو کم کرنے یا ماہانہ پنشن روکنے کی کوئی تجویز خزانہ ڈو یژن کے زیر غور نہیں، ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمدخان اور وفاقی وزیر صنعت و پیداور حماد اظہر نے ارکان کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے جبکہ وزارت خزانہ، اقتصادی امور اور صنعت پیداوار نے تحریری جوابات میں کیا۔منگل کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر ذیشان خانزادہ کے سوال کے تحریری جواب میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے ایوان کو مزید بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز ملازمین شکایات کو ختم کرنے کیلئے حکومت جون 2013سے تنخواہیں جاری کر رہی ہے۔ وزیر مملکت پارلیمانی امورعلی محمد خان نے ایوان کو بتایا کہ ہم نے پانچ سال کا بیک لاک کلیئر کیا،ایک ضمنی سوال کے جواب میں علی محمد خان نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں پہلے نمبر پر بلوچستان اور دوسرے نمبر پر سندھ اس کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا ہے،سینیٹر کیشو بائی کے سوال کے جواب میں حماد اظہر نے بتایا کہ ادارہ شماریات کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو منفی 3.03(عبوری) رہی جسے بعد میں 2.93فیصد قرار دی گئی ہے، یہ شرح نمو جولائی 2019 تا فروری 2020 کے درمیان رہی جو فروری 2018 تا فروری 2019 کے مقابلے میں تھی۔قبل ازیں سینیٹ نے سابق سینیٹر جسٹس (ر)محمد افضل لون کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تعزیتی قرارداد منظور کر لی۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ظفر الحق نے تعزیتی قرارداد پیش کی۔ چیئرمین سینیٹ کی ہدایت پر سینیٹر مولانا فیض محمد نے مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے بھی دعا کرائی۔ دریں اثناحکومت کی جانب سے پیش کردہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری ٹرسٹ بل 2020اور دی کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹانسز (ترمیمی)بل 2020کی ایوان بالا نے کثرت رائے سے منظوری دیدی۔ بل کی منظوری کے بعد سینیٹر سراج الحق نے کہا اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری ٹرسٹ بل 2020کے حوالے سے انہوں نے ترامیم پیش کی تھیں، انہیں یہ ترامیم پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ چیئرمین نے کہا کہ آپ ترامیم جمع کرا دیں، ان کو زیر غور لے آئیں گے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا یہ بل ترامیم کیلئے آج تک موخر کئے گئے تھے، اگر ترامیم کو زیر غور نہیں لانا تھا تو پھر موخر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا اکثریت کی بنیاد پر بل منظور کئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا جب بھی یہ ترامیم پیش کی جائیں گی تو ان کو زیر غور لایا جائے گا۔

سینیٹ اجلاس

مزید :

صفحہ آخر -