شیخوپورہ، گاڑیوں سے پرچی فیس  کی آڑ میں لوٹ مار کا بازار گرم

شیخوپورہ، گاڑیوں سے پرچی فیس  کی آڑ میں لوٹ مار کا بازار گرم

  

شیخوپورہ(محمد ارشد شیخ/مدثر احمد خان سے) میونسپل کمیٹی شیخوپورہ کی طرف سے کمرشل چھوٹی گاڑیوں، موٹرسائیکل رکشوں اور لوڈرگاڑیوں کی پرچی فیس کے ٹھیکے کی آڑ میں سرکاری افسران کی مبینہ ایماء پر غنڈوں نے جگہ جگہ لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ”روزنامہ پاکستان“سروے کے مطابق پچھلے سال نوے لاکھ روپے کے ہونے والے مذکورہ ٹھیکے کو اس مرتبہ جون میں فیروز والا کی ایک پارٹی نوید اینڈ کمپنی کو 37لاکھ روپے کے عوض ٹھیکہ دے دیا گیا جس سے میونسپل کمیٹی کے بعض افسران اور کلر ک بادشاہ بھی مستفید ہوئے اس کے عوض ٹھیکیدار میونسپل کمیٹی کی طرف سے ریکوری کے لئے مقرر کردہ7 پوائنٹس جناح پارک، لنڈا بازار، لیاقت سکول، عمر شادی ہال، چھتری چوک اور جنڈیالہ روڈ وغیرہ کی بجائے بتی چوک، لاہور روڈ، گوجرانوالہ روڈ، فیصل آباد روڈ، سرگودھا روڈ، منڈی مویشاں بائی پاس چوک، ہاؤسنگ کالونی بائی پاس چوک، فیصل آباد روڈ چونگی پھاٹک سٹاپ اور دیگر متعدد غیر قانونی مقامات پر اپنے غنڈے کھڑے کر کے رکشہ ڈرائیوروں اور لوڈر گاڑیوں کو زبردستی روک کر 20روپے کی سرکاری پرچی فیس کی آڑ میں سینکڑوں روپے دیدہ دلیری سے بھتہ وصول کر رہے ہیں اور ان کے اس غیر قانونی عمل میں مبینہ طور پر متعلقہ محکمہ کے آفیسران و ملازمین اور بعض پولیس اہلکار ان کی بھر پور معاون کر رہے ہیں۔ شیخوپورہ کی عوامی و سماجی تنظیموں نے ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ اور اے ڈی سی آر و ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی شیخوپورہ رانا شکیل اسلم سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹھیکیداروں کی اس غنڈہ گردی کو فوری طور پر روک کر انہیں میونسپل کمیٹی شیخوپورہ کے قوانین کے مطابق کام کرنے کا پابند کیا جائے جبکہ میونسپل کمیٹی شیخوپورہ اور ٹھیکیداروں کے ذرائع نے الزامات کی تصدیق نہیں کی۔ 

پرچی فیس

مزید :

صفحہ آخر -