کراچی کے مسئلے پر متحدہ کا آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان

    کراچی کے مسئلے پر متحدہ کا آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان

  

  کراچی (اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے کراچی کے مسائل میں حل میں ناکامی پر حکومت سندھ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسئلے کے حل کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کردیا ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کراچی میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جب سے کورونا کا مسئلہ شروع ہوا ہے تو کیونکہ کراچی کی آبادی تین کروڑ سے زائد ہے تو اس لیے کراچی میں یہ مسئلہ زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جب سے یہ وبا امڈ آئی ہے اس وقت سے صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان ایک بحث شروع ہو چکی ہے، ایک قدرتی آفت آئی ہے اور پہلے دن سے پوائنٹ اسکورنگ شروع ہو چکی ہے، پریس کانفرنس پر پریس کانفرنس ہو رہی ہیں، کبھی صوبے کی طرف سے دن میں دو دو پریس کانفرنس ہو رہی ہیں تو وفاق کی طرف سے اس کا جواب دیا جا رہاہے یعنی کراچی کا مسئلہ حل کرنا دونوں کے لیے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے کوئی ذاتی انا اور ضد کا مسئلہ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ نے صوبائی حکومت کے بھی ان اقدامات کی حمایت کی جس میں لاک ڈاؤن تھا اور وفاقی حکومت کے بھی اقدام کی حمایت کی جس میں انہوں نے پالیسی کی سطح پر کورونا کے متاثرین کے لیے پالیسی دی اور سب سے بڑی بات کہ انہوں نے تاجر برادری اور حکومت سندھ کے درمیان بھی پل کا کردار ادا کیا۔ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے کہا کہ ہم تو گزشتہ چار سال سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ کراچی کے مسئلے کا حل کراچی والوں کو پتہ ہے، نہ یا مسئلہ اسلام آباد سے بیٹھ کر حل ہو سکتا ہے نہ یہ مسئلہ لاڑکانہ سے کنترول ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلسل کراچی پر ایک سیاست کی جا رہی ہے، یہ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی تختہ مشق بن گئی ہے، جب سب نے کراچی کے معاملے پر احتجاج اور شور کیا تو خدا خدا کر کے ایک کمیٹی قائم کی گئی اور کمیٹی کے مینڈیٹ طے ہونے تھے اور پرسوں تک سب ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او کو کراچی کے مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی ہدایت کی لیکن نجانے 12 گھنٹے میں ایسا کیا ہوا کہ وزیر اعلی سندھ نے صفائی کو سندھ کا مسئلہ بنا لیا، جو پریس کانفرنس کل کی گئی ہے اس میں کراچی کی محبت کہیں نہیں ہے، کراچی میں آپ کی جو ناکامی ہے اس کا ذکر کہیں نہیں ہے۔انہوں نے حکومت سندھ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو کراچی کے بھرے ہوئے نالوں سے پانی نکالنا ہو تو آپ کو فوج کے پمپ چاہیے ہوتے ہیں، گاڑیاں اور افراد ڈوب جائیں تو بحریہ کے غوطہ خور چاہیے ہوتے ہیں، آپ کی فصلوں پر سنڈی حملہ کر دے تو ایئرفورس سے طیارے چاہیے ہوتے ہیں۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ کمیٹی اس شہر کا مستقل حل نہیں ہے اور ہم چار سال سے کہہ رہے ہیں کہ یہ لنگڑا لولا بلدیاتی نظام جان بوجھ کر اپنی کرپشن چھپانے اور کراچی کو تباہ کرنے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔خواجہ اظہار الحسن نے وزیر اعلی سندھ کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہتے ہیں ایگزیکٹو اتھارٹی حکومت کی ہے لیکن وہ ایگزیکٹو اتھارٹی ہے کہاں، کچرے کے سربراہ آپ لیکن آپ سے وہ نہیں اٹھ رہا، پانی پہنچانے کی ذمے داری آئینی قانونی طاور پر آپ کی ہے لیکن کراچی سسک رہا ہے، سیوریج کے مسائل آپ کے بلدیات کے وزیر کے براہ راست زیر اثر ہیں لیکن 70فیصد کراچی میں گٹر ابل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ تو خود کراچی کو سندھ سے علیحدہ کر رہے ہیں، آپ کی پالیسی کراچی کو سندھ سے علیحدہ کر رہی ہے، کیا کسی وزیر اعلی کو یہ کہنا چاہیے کہ ہم نے کراچی کہ یہ دیا، وہ دیا؟ اور کراچی سے لینے کا سوال کر لو تو فورا سندھ خطرے میں پڑ جاتا ہے، کراچی کو اختیار اور کراچی کو وسائل دینے کی بات کرو تو پورا صوبہ خطرے میں آجاتا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -