تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹ ادو: ڈائیلسز سنٹر کی 4 مشینیں خراب 

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹ ادو: ڈائیلسز سنٹر کی 4 مشینیں خراب 

  

 کوٹ ادو (تحصیل رپورٹر)تحصیل ہیڈ کوارٹرہسپتال کوٹ ادو انتظامیہ کی نااہلی کے باعث افتتاح کے چند ماہ بعد ہی ڈائیلسز سنٹر کی 4 مشینیں جواب دے گئیں، مشینوں کی خرابی سے ایک ہفتہ میں درجنوں ڈائیلسز ملتوی ہوگئے۔ تفصیل کے مطابق تحصیل ہیڈ کوارٹر (بقیہ نمبر26صفحہ6پر)

ہسپتال کوٹ ادو کی انتظامیہ کی ناہلی کے باعث افتتاح کے چند ماہ بعد ہی ڈائیلسز سنٹر کی 4 مشینیں خراب ہو گئی ہیں،تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹ ادو میں بننے والے ڈائیلسز سنٹر جس کا افتتاح 28 فروری کو ممبر صوبائی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری اشرف خان رند نے سی او ہیلتھ مظفرگڑھ اور ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کے ہمراہ کیا تھا،افتتاح کے چند ماہ بعد ہی ڈائلیسز سنٹر کی مشینیں جواب دے گئیں،مشینوں کے واٹر فلٹریشن پلانٹ خراب ہونیکی وجہ سے 4 مشینیں ایک ہفتہ سے بند پڑی ہیں اور گردے صاف کروانے والے انتہائی نازک حالت کے مریضوں کوڈائیلسز کیلئے نئی تاریخیں دی جارہی ہیں،ہیپاٹائیٹس سی کے مریضوں سمیت 27سے زائد مریضوں کے ڈائیلسز ملتوی ہوچکے ہیں جو پرائیویٹ ہسپتالوں سے ڈائیلسز کروانے پر مجبور ہیں، جبکہ ڈائیلسز مشینیں خراب ہونے سے باری کا انتظار کرنیوالے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، جس سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، مریضوں رقیہ بانو،اسماء بی بی،محمد وارث، غلام محمد، پروین بی بی اور دیگر مریضوں نے پریس کلب کوٹ ادو میں بتایا کہ جمعہ اور منگل کے دن ان کی ڈائیلسزکی جاتی ہے،مشیبیں خراب ہونے کی وجہ سے ان کے گردے واش نہ ہوسکے جبکہ آج بھی انکی باری تھی مگر دھکے کھا کر واپس جا رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر نے انہیں ملتان اور مظفرگڑھ سے گردے واش کرانے کا مشورہ دے دیا ہے،مریضوں نے کہا کہ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ سے بارہا شکایت کی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی، دوسری طرف ڈائلیسز سنٹر کے انچارج ڈاکٹر طارق شبیر سنانواں نے موقف اختیار کیا کہ ڈائلیسز سنٹر میں کل5 مشینیں ہیں جس میں 3مشینیں خراب ہیں جن کے واٹر فلٹریشن پلانٹ کام نہیں کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹ ادو کے ایم ایس ڈاکٹر ضیاء الحسن نے مظفرگڑھ کے ٹیکنیشن کو اطلاع کر دی ہے چونکہ اس کے انجینئر ملتان سے آتے ہیں جیسے ہی ٹیکنیشن اور انجینئر نے ان کی مرمت کی تو انہیں فنکشنل کردیا جائے گا 

خراب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -