سابق ڈپٹی سیکرٹری معظم کالرو کا اغواء‘  کیس کی سماعت یکم ستمبر تک ملتوی

  سابق ڈپٹی سیکرٹری معظم کالرو کا اغواء‘  کیس کی سماعت یکم ستمبر تک ملتوی

  

 ملتان (خصو صی رپورٹر)  انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک ملتان کے جج محمد عاشق نے قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سیکرٹری معظم کالرو کے اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ میں ملوث خاتون ملزمہ خورشید بی بی کی وفات پر (بقیہ نمبر14صفحہ6پر)

اسکا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جمع ہونے پر اسکی حد تک کیس ختم جبکہ دیگر ملزمان کے خلاف کیس کی سماعت یکم ستمر تک ملتوی کردی ہے۔قبل ازیں فاضل عدالت میں پولیس تھانہ الپہ کے مطابق ملزمان جاوید اقبال اور اشتیاق کے خلاف ڈاکٹر اختر علی ملک نے 25 جنوری 2014 ء کو اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر مدعی نے الزام عائد کیا اسکا بھائی جوکہ قومی اسمبلی پاکستان میں ڈپٹی سیکرٹری کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہا ہے وہ چھٹی لیکر گھر آیا تو ملزمان جو کہ سفید کار میں سوار تھے اور گاڑی سے اترتے ہی بھائی معظم علی کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تفتیش کی لیکن ملزم جاوید اقبال گرفتار نہ ہوا تھا جسے 19 اگست 2019 کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ مقدمہ کی ملزمہ وفات پاچکی ہے جس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جمع ہونے پر اسکی حد تک کیس ختم کردیا گیا ہے۔

ملتوی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -