کمزورمعیشت کورونا اور بھارت بڑے چیلنجز تھے، کپتان کریز پر سیٹ ہو گئے، لمبی اننگز کیلئے تیار، کسی کو این آر او نہیں ملے گا: وفاقی وزراء 

      کمزورمعیشت کورونا اور بھارت بڑے چیلنجز تھے، کپتان کریز پر سیٹ ہو گئے، ...

  

 اسلام آ باد (سٹاف رپورٹر) سال 2018کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت 18اگست 2018کو تشکیل دی گئی تھی اور عمران خان نے بطور وزیراعظم حلف اٹھایا تھا۔ حکومت کو 2سال مکمل ہونے پر وفاقی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے وفاقی وزرا، مشیر خزانہ اور معاون خصوصی نے مشترکہ نیوز بریفنگ کی جس میں وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر اقتصادیات حماد اظہر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور معاون خصوصی برائے تخفیف غربت ثانیہ نشتر نے شرکت کی۔ نیوز بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات شبلی فراز کہا کہ عمران خان نے دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کو ختم کرکے درست اور غلط کی سیاست شروع کی یہی بیانیہ ہم لے کر چل رہے ہیں کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاست کا مقصد فلاحی ریاست کا قیام ہے۔ عوام کے مفادات پر اپنے مفاد کو ترجیح دے کر سیاست کو پیشہ بنادیا گیا تھا جسے عوام نے مسترد کردیا۔ ففتھ جنریشن وار چل رہی ہے دشمن ہمیں ہر طرح کا نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ہماری معیشت تباہ کرنا، ملک میں ناامیدی پھیلانا چاہتا ہے۔ یہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے جس میں ہر پاکستانی صحافی بن گیا ہے، اب ہمیں یہ جنگ پورے ملک کی سطح پر لڑنی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی پالیسی رہی ہے کہ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کیا جائے جبکہ کہ گزشتہ ادوار کے دوران ایک عرصہ وزیر خارجہ ہی موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے بہت سے فورم پر ہمارا نقطہ نظر پیش ہی نہیں ہوپا یاتھاتاہم ہماری کوششوں سے بھارت کی پالیسی ناکامی ہوئی اور پاکستان کامیاب رہا۔ پاکستان تو کہتا ہی تھا لیکن آج چین بھارت کے توسیع پسندانہ منصوبوں پر سوال اٹھارہا ہے اور لداخ میں جو ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ نیپال کی پارلیمان سے منظور ہونے والی قراردادیں سامنے ہیں، بنگلہ دیش جسے بھارتی کیمپ کا تصور کیا جاتا تھا لیکن جب سے شہریت قانون آیا وہاں ایک سرد مہری دکھائی دے رہی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین ہمارا آزمایا ہوا دوست ہے جس کے ساتھ ہمارے اسٹریٹیجک شراکت داری رہی ہے جسے ہم نے معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا ہے جس کی ایک زندہ مثال سی پیک 2ہے جس میں صنعتی انقلاب، زرعی پیدوار میں فروغ، تخفیف غربت اور انسانی وسائل کی ترقی شامل ہے۔ ترکی کے ساتھ بھی تجارت اور سرمایہ کاری حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ یورپین یونین کے ساتھ نیا اسٹریٹیجک منصوبہ طے پایا ہے۔ افریقہ میں ہم نے تجارت اور معاشی سرگرمیاں بڑھانے کی منصوبہ بندی کی۔انہوں نے کہا کہ دنیا نے افغانستان کا فوجی حل تلاش کرنے کے لیے کھربوں ڈالر خرچ کر ڈالے لیکن بالآخر دنیا قائل ہوئی اور آج ساری دنیا ہمارے نقطہ نظر کو تسلیم اور افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کی معترف ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا پاکستان، لیکن اسے عمران خان کی حکومت میں بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا اوربھارت کو بے نقاب کیا گیا۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت آئی تو کمزور معیشت کوسہارا دینا تھا اور ہم نے مشکل حالات میں بڑے فیصلے کیے۔ ہمیں ماضی کے قرضوں کا بوجھ بھی ہلکا کرنا پڑا۔ حکومت نے ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے مراعات دیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار حکومت نے اخراجات میں کمی کی۔20ارب کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ تھا اورڈیفالٹ کا خدشہ تھا لیکن عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک نے مدد کی۔ بیرونی خسارے کو 20ارب ڈالر سے کم کر کے 3 ارب ڈالر پر لایا گیا۔ کابینہ کی تنخواہیں کم کی گئی اور فوج کے اخراجات کو منجمد کیا گیا۔ وزیر اعظم ہاس کے اخراجات کو کم کیا گیا۔ حکومت نے ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے مراعات دیں۔ دو سال کے دوران حکومت نے 5ہزار ارب روپے کے قرضے واپس کیے اور زراعت کیلئے 280ارب روپے کا پیکج دیا۔وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بتایا کہ حکومت نے کورونا صورتحال میں بھی ادویات کی ترسیل کا سلسلہ جاری رکھا، ٹیکسز کی شرح کوکم کیاگیا۔ تعمیراتی شعبے کے لیے پیکج دیا، کفایت شعار پالیسی کے تحت کچھ اداروں کو مختلف اداروں میں ضم کیاگیا۔  ملک سے اسمگل شدہ فون ختم کیے گئے، دو سال میں سیمنٹ کی سیل 41فیصد بڑھی ہے اور اس وقت ایکسپورٹ گروتھ 6فیصد ہے۔ حکومت نے امپورٹ کو کم اور ایکسپورٹ پر زیادہ توجہ دی۔ ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی لائی گئی۔ الیکٹرک وہیکل اور موبائل مینوفیکچرنگ کی پالیسی بنائی گئی۔ وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے اپوزیشن کیلئے بری خبر ہے کہ کپتان کریز پر سیٹ ہوگئے ہیں اور لمبی اننگز کھیلنے کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم کسی کو این آر او نہیں دیں گے، عمران خان کی حکومت نے ثابت کیا ملک کے مفاد میں وہ سب کو ساتھ لیکر چلتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت کودھچکا لگا۔ پاکستان کی کامیاب پالیسیوں کے باعث کورونا پرقابو پایاگیا۔وزیراعظم نے 2سال میں بالاکوٹ، بھارت، کورونا اورکمزور معیشت جیسے چیلنجزکاسامنا کیا۔ معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے بتایا کہ احساس کفالت پروگرام بہترین منصوبہ تھا جس کی 15ماہ پہلے منظوری ہوئی۔ 70لاکھ مستحقین کوماہانہ وظیفہ دیا جا رہا ہے۔ بلاسود قرضے دینے کامنصوبہ متعارف کرایا گیا۔ احساس لنگر خانوں پرتوجہ دی گئی اور احساس اسکالرشپس پروگرام متعارف کرایا گیا۔

وفاقی وزراء

مزید :

صفحہ اول -