ملک پر نالائق، نااہل اور چور ٹولہ مسلط، بیروزگاری، مہنگائی میں خوفناک اضافہ ہوا 

  ملک پر نالائق، نااہل اور چور ٹولہ مسلط، بیروزگاری، مہنگائی میں خوفناک ...

  

 لاہور، پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک، جنرل رپورٹر) اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی 2سالہ کارکردگی ناکامی کی منہ بولتی تصویر ہے۔ تحریک انصاف حکومت نے ملک کوتباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ وقت کیساتھ ساتھ قومی معاملات میں بد انتظامی بڑھ رہی ہے۔ شہباز شریف نے حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر اپنے ٹویٹ میں سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورننس سے خارجہ پالیسی ہو یا معاشی پالیسی، عمران خان کی قومی معاملات میں بد انتظامی مزید بڑھی ہے۔ عوام کو اس بدترین سیاسی انجینئرنگ کے تجربے کی سزا مسلسل بھگتنا پڑ رہی ہے۔مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ دو سال سے نالائق، نا اہل اور چور ٹولہ پاکستان پر مسلط ہے۔ جھوٹ بولنے کا ریکارڈ قائم کیا گیا، آج جو کارکردگی بتائی گئی وہ ڈھٹائی کی اعلیٰ مثال تھی۔ ملک میں ہر طرف بے روزگاری اور مہنگائی کا طوفان ہے جبکہ غریب عوام کی سننے والا کوئی نہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ آج ملک میں ہر طرف بے روزگاری ہے، عوام کے پاس روزگار ہے نہ دو وقت کی روٹی، جس ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ جھوٹے وعدے اور دعوے کیے گئے، مختصر ترین وقت میں تاریخی ناکامی کسی دور میں نہیں ہوئی، واحد وزیراعظم ہیں جو نوٹس لے کر تباہی کرتے ہیں، نالائق کھلنڈروں کا ٹولہ ملک پر مسلط ہے۔ادھر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت نے دو سال میں ملک کو مزید معاشی تباہی دی ہے،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پہلے سے زیادہ آج ملک میں کرپشن ہو رہی ہے۔ٹویٹر پر اپنے بیان میں بلاول بھٹو نے کہا کہ دو سال برسراقتدار حکومت نے ملکی تاریخ کی بدترین معیشت دی، کشمیر سے لے کر سعودی عرب تک خارجہ پالیسی ناکام ہوئی اور جمہوریت انسانی حقوق مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں، بے روزگاری بلند سطح پر ہے۔جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا کہ حکومتی دو سال دراصل تباہی کے دو سال ہیں کیونکہ ان دو سالوں میں ملک کو تباہی کے دہانے کھڑا کردیا گیا ہے، ملکی معیشت بدترین صورتحال اختیار کرچکی ہے جبکہ داخلہ و خارجہ پالیسی بھی مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے۔اپنے بیان میں اسفندیارولی خان نے کہا کہ دو سال کے دوران جمہوریت کے خلاف سازشوں میں مزید تیزی آئی اور اٹھاروہویں آئینی ترمیم پر بھی کئی حملے ہوئے۔ 50لاکھ گھر دینے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ چکے ہیں، بلکہ غربت نے لاکھوں افراد کو بے گھر کردیا ہے۔ہم سوال پوچھتے ہیں کہ ایک کروڑ نوکریاں کہاں ہیں؟ لاکھوں لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے، دو وقت کی روٹی ملنا مشکل ہوچکی ہے۔ موجودہ حکومت کا بڑا نعرہ کرپشن کے خلاف کارروائیاں تھیں جبکہ یہ خود سب سے بڑے کرپٹ نکلے کیونکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق عمران نیازی کے دور حکومت میں کرپشن میں اضافہ ہوا۔ دو سال کے دوران کوئی میگا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، صوبوں کو انکے حقوق نہیں دئیے گئے۔ خیبرپختونخوا میں ایک ہی منصوبہ بی آر ٹی گزشتہ صوبائی دور حکومت میں شروع کیا گیا لیکن اس میں بھی کرپشن کی انتہا کی گئی اور کسی کو تحقیقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔2 سال میں آٹے کی فی کلو اوسط قیمت میں 12 روپے اضافہ ہوا۔ چینی کی اوسط قیمت فی کلو 40 روپے بڑھ گئی، یہ پیسہ کن کی جیبوں میں گیا؟شوگرکمیشن، آٹا چوری، ماسک چوری، دوائیاں چوری، کیا کیا چوری نہیں کی گئی لیکن سزا کسی کو نہ مل سکی۔ جہانگیر ترین، خسرو بختیار اور دیگر وزراء کے خلاف جو چارج شیٹ بنائی گئی تھی ان پر کتنا عمل ہوسکا؟ اس وقت مہنگائی پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے لیکن حکومت دو سالہ کامیابی پر شادیانے بجارہی ہے۔ اختیارات نچلی سطح تک دینے کے دعویداروں نے کسی بھی صوبے میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے۔کرپشن کی انکوائریوں پر سٹے آرڈرز لئے گئے اور عدالتی حکم امتناعی کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ دو سال میں صرف دوستوں اور ان افراد کو نوازا گیا جو عمران خان کو اقتدار میں لائے ہیں۔

 اپوزیشن 

مزید :

صفحہ اول -