افغانستان کے 101ویں یوم آزادی پر صدارتی محل، ریڈزون دھماکوں سے لرزا ٹھے 

افغانستان کے 101ویں یوم آزادی پر صدارتی محل، ریڈزون دھماکوں سے لرزا ٹھے 

  

 کابل (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)افغانستان کے 101ویں یوم آزادی پر دارالحکومت کابل دھماکوں سے رلز اٹھا، نامعلوم مقام سے داغے گئے 14 راکٹوں کی زد میں آ کر افغان صدر کے 6حفاظتی دستے میں شامل اہلکاروں سمیت 24عام شہری جن میں 6بچے بھی شامل ہیں شدید زخمی ہو گئے جبکہ متعدد اہم عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔افغا ن میڈیا کے مطابق منگل کے روز ملک بھر میں یوم آزادی کی مناسبت سے تقریبات جاری تھیں اور کابل میں صدر اشرف غنی کو سرکاری تقریب سے خطاب کرنا تھا کہ سفارتی علاقے پر راکٹ حملہ ہو گیا اور چند ہی منٹوں میں 14 راکٹ کابل کے ریڈ سکیورٹی زون کے مختلف مقامات پر آکر لگے۔راکٹ حملے اتنے شدید تھے کہ پورا علاقہ لرز اْٹھا اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی۔افغان صدر کے حفاظتی دستے کے 6محافظ اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے،حکام نے ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ حملے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کا گھیراو کرکے لاک ڈاؤن کر دیا اور ریسکیو ادارے امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ دارالحکومت کے مختلف مقامات سے 24 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا جن میں سے 4 کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔افغان طالبان سمیت کسی بھی شدت پسند جماعت نے تاحال حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے راکٹ علاقے میں گھو منے والی دو مشکوک گاڑیوں سے کیے گئے جن کی شناخت نہیں ہوسکی۔وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرائین نے کہا کہ زیادہ تر مارٹر گولے رہائشی مکانات پر گرے جس کی تحقیقات جاری ہے۔عینی شاہدین کے مطابق ایک مارٹر گولہ وزیر اکبر خان کے اطراف میں گرا جہاں سفارتکار اور سینئر سرکاری عہدیدار رہائش پذیر ہیں۔ واضح رہے یہ حملہ حکومت کے اس بیان کے ایک روز بعد کیا گیا کہ وہ طالبان کے بقیہ 320 قیدیوں کو اس وقت تک رہا نہیں کرے گی جبکہ وہ مزید افغان فوجیوں کو رہا نہیں کر دیتے۔افغان حکومت کا یہ فیصلہ روایتی لویا جرگے کیخلاف ہے اور اس سے بین الافغان مذاکرات میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے۔ادھرطالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں مارٹر حملے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

کابل حملہ

مزید :

صفحہ اول -