ٹرمپ امریکہ کے غلط صدر، مشعل اوبامہ 

ٹرمپ امریکہ کے غلط صدر، مشعل اوبامہ 

  

   واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) ڈیمو کریٹک پارٹی کا چار روزہ قومی کنونشن 17اگست کو امریکی ریاست ملواکی کے شہر وسکونسن میں شروع ہو گیا۔ جس کے اختتام پر 20اگست کو توقع کے مطابق صدارت کیلئے سابق نائب صدر جوبیڈن اور نائب صدارت کیلئے خاتون سینیٹر کمالا ہیرس کو رسمی طور پر پارٹی کی طرف سے ٹکٹ جاری کیا جائیگا۔ کورونا وائرس کے باعث اس مرتبہ دونوں پارٹیوں کے قومی کنونشن عملاً ”ورچوئل“ ہی ہو نگے جس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ ترمندوبین اور مقرر اس میں آن لائن شرکت کریں گے۔ صرف کنونشن کے مقام پر پارٹی انتظامیہ یا کنونشن کے اہم منتظمین موجود ہوں گے۔ پہلے روز سابق صدر بارک اوبامہ کی اہلیہ مشعل اوبامہ کا پہلے سے ریکارڈ شدہ خطاب نشر کیا گیا جس میں انہو ں نے صدر ٹرمپ پر شدید نکتہ چینی کرکے ہلچل مچا دی۔ جس کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے اس کا تابڑ توڑ جواب دیا۔ مشعل اوبامہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا غلط صدر قرار دیتے ہوئے انہیں امیگریٹ بچوں کو ان کے والدین سے الگ کرکے پنجروں میں قید کرنے کا  الزام لگایا۔  ان کا کہنا تھا صدر ٹرمپ امریکہ کو درپیش معاشی و سماجی مسائل سے نبرد آزما ہونے میں ناکام رہے ہیں۔ مشعل اوبامہ نے ٹرمپ انتظامیہ کی کورونا وباء کے حوالے سے پالیسی پر بھی کڑی تنقید کی اور بتایا کہ صدر ٹرمپ سابق حکومتوں کے بہت محنت سے قائم کئے گئے بین الاقوامی ا تحا دوں سے الگ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے جوبیڈن کو ٹرمپ کے مقابلے پر اہل رہنما قرار دیا۔دوسری طرف صدر ٹرمپ نے مشعل اوبامہ کے ریکارڈ شدہ کلیدی خطاب کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا اگر کوئی خطاب لائیو نہیں ہے تو اس میں کوئی گرم جوشی نہیں ہوسکتی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطابات میں جوبیڈن پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ کے دروازے تارکین وطن کیلئے دوبارہ کھل جائیں گے۔

مشعل اوبامہ

مزید :

صفحہ اول -