عوا م کو گھر کی دہلیز پرانصاف فراہم کرنا ان کا حق ہے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

عوا م کو گھر کی دہلیز پرانصاف فراہم کرنا ان کا حق ہے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

  

 سیالکوٹ(بیورورپورٹ)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کہا ہے کہ سیالکوٹ کی مٹی نے علامہ محمد اقبالؒ جیسے مردِ قلندر کو جنم دیا، جس نے ناصرف برصغیر کے مسلمانوں کو ایک روشن امید دیکھائی بلکہ دنیا کے جس خطے میں بھی کسی بھی زبان میں اقبال ؒ کو پڑھا گیا پڑھنے والوں کی شخصیت پر عجیب سحرڈالا، کیوں کہ اقبال کا کلام عجب رمک اور تحریکی جذبوں کے ساتھ متحرک کردار کیلئے اکساتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکیم الامت کے شہر میں آنا میری آرزو تھی اور بغیر کسی دعوت کے اس شہر میں از خود آنا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اقبال ؒ ایک ایساقلندر طریق انسان ہے جو فقیری میں نام پیدا کرتا ہے اور یہاں کے بسنے والے بہت سے فلاحی منصوبے اپنی جیب سے کرتے ہیں اپنے شہر کی سڑکوں اور ائیرپورٹ کی(بقیہ نمبر12صفحہ6پر)

 اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کے پیچھے اقبال کے فیضاں کا اثر ہے جبکہ سیالکوٹ کے شہر کے برعکس دوسرے شہر کے باسی یہ کام حکومت کا فریضہ سمجھتے ہیں۔اقبال ؒ نے اپنے شہر کے باسیوں کیلئے ہی کہا تھا”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیر ہے ساقی ئ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ کے ”اقبال ہال“ میں بار اوربنچ کے اراکین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ بہادر علی خان،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ علی نواز، صدرڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سید علی نجم گیلانی، سیکرٹری عثمان علی مشتاق بھی موجود تھے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سیالکوٹ میں بینکنگ، ایف آئی اے اور انسداد دہشت گردی کے کورٹس کے قیام،و کلاء کے چمبرز کی تعمیر کیلئے اراضی کی فراہمی، کنزیومر کورٹ کی ضلع کچہری میں منتقلی اور ججز کیلئے کورٹ روم کی تعداد بڑھانے کے مطالبات کے جواب میں کہاکہ عوام کا حق ہے کہ ان کو انصاف ان کی گھر کی دہلیز پر فراہم کیا جائے۔ اس امر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سیالکوٹ میں بینکنگ، ایف آئی اے اور انسداد دہشت گردی کے کورٹس کے قیام کا فیصلہ زیر التواء کیسسز کی تعداد کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی و صوبائی حکومت کو اس سلسلہ میں لکھیں گے۔انہوں نے کہاکہ میری سوچ اور اپروچ وہی ہے جو آپ کی ہے۔ میری اس شہر کے ساتھ دیرینہ وابستگی ہے۔ انہوں نے کہاصارفین کی عدالت کو کچہری میں ہونا چاہیئے اس کی منتقلی کیلئے چیف سیکرٹری پنجاب سے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ رابطہ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان وکلاء کے لئے ان کے چمبرز کیلئے صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو کورٹس میں اس کیلئے دستیاب موزوں جگہ کی نشاندہی کیلئے لیٹر لکھا جاچکا ہے اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ کی جانب سے مجوزہ جگہ کے بارے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ ان کو آج ہی رپورٹ بھجوائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر نوجوان وکلاء کو کلائنٹ سے ملنے،کیس کی تیاری اور دستاویزات کوسنبھالنے کیلئے آفس نہیں ہوگا تو وہ عدالتوں میں بہتر انداز میں پیش نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہاکہ میری یہ کوشش ہوگی کی نوجوان وکلاء کو بہتر ماحول فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ ججز کی تعداد کا مسئلہ حل کیلئے فی جج مقررہ کیسز کے اطلاق سے حل کیا جائے گا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کہاک کہ کورونا کی وجہ سے گذشتہ پانچ ماہ کے دوران کورٹس نے صرف ارجنٹ کیسز پر کام ہوا۔ انہوں نے کہاکہ انصاف کی بلا تعطل اور جلد فراہمی سائلین کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے بار اور بینچ کو تلقین کی کہ وہ کیس مینجمنٹ کو اپناتے ہوئے تمام قانونی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کیسسز کو نمٹائیں اور گذشتہ پانچ ماہ کی تاخیر کا ازالہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ جج صاحبان وکلاء اورکلائنٹ کی جائز پرابلم کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے تواریخ کو سیٹ کریں تا کہ ایسی شہادت (گواہ) یا ثبوت رہ نہ جائے جس سے حقدار کو اس کے حق سے محروم ہونا پڑے۔ انہوں نے کہاکہ دو، دوسال چلنے والے اعلیٰ عدالتوں سے ریمانڈ ہونے والے کیسز پر ریفشر کی درخواست قبول نہیں کریں اور کیس ٹو کیس جائزہ لیں گے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ علی نواز، صدرڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سید علی نجم گیلانی اور سیکرٹری عثمان علی مشتاق نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان کو ان کی پیرنٹ بار میں تشریف آوری پر ا ن کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں یادگار شہداء سانحہ ڈسٹرکٹ جیل پر پھول چڑھائے اور شہید ہونے والء ججز کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان یادگار کے قریب اپنے ہاتھوں سے انجیر کا پودا بھی لگایا۔ سیشن کورٹ آمد پر جوڈیشری کے افسران نے چیف جسٹس لاہور ہائی کا استقبال کیا جبکہ پولیس کے چاک و چوبند دستے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ 

چیف جسٹس قاسم خان

مزید :

صفحہ آخر -