کپاس کی فصل کی بہتر نگہداشت کیلئے سفارشات جاری

کپاس کی فصل کی بہتر نگہداشت کیلئے سفارشات جاری

  

لاہور(سٹی رپورٹر) ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق اس وقت کپاس کی فصل پر سفید مکھی،چْست تیلہ،تھرپس،لشکری سنڈی،ڈسکی کاٹن بگ اور ملی بگ کا حملہ مشاہدہ میں آیا ہے۔ان سے بچاؤ کے لئے کاشتکار ہفتہ میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں اور اگر ان کیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے تجاوز کرے تو محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملے کے مشورہ سے سپرے کریں۔کاشتکار سفید مکھی کے تدارک کیلئے 120تا140 لٹر صاف پانی کا استعمال کریں اور شدید حملہ کی صورت میں پاور سپرے مشین کے ساتھ سپرے کریں۔فنگس کے حملے کی صورت میں کاشتکار پھپھوندی کْش دوائی مثلاً تھائیو فینیٹ میتھائل بحساب 250گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔کپاس کے کاشتکار گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے 4 جنسی پھندے فی ایکڑ لگائیں اور ہر15 دن کے وقفے سے جنسی کیپسول تبدیل کریں۔

یاد رہے،ماہ اگست میں گلابی سنڈی کی دوسری نسل نمودار ہوجاتی ہے اس لئے کاشتکار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں اور حملہ کی صورت میں مقامی محکمہ زراعت کے مشورہ سے سپرے کریں۔سپرے صبح یا شام 5 بجے کے بعد کریں اور اندھا دھند سپرے کرنے سے اجتناب کریں۔کاشتکار پھل کے کیرے کو روکنے کے لئے جبریکس بحساب10 گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔پھول آنے پر پوٹاشیم نائٹریٹ بحساب 200 گرام،زنک سلفیٹ بحساب250 گرام،بورک ایسڈ300 گرام100 لٹر پانی میں حل کر کے فی ایکڑ سپرے کریں۔کاشتکار یوریا کھاد کا استعمال کم کریں اس سے سفید مکھی کے حملے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔یوریا کے متبادل گوارہ کھاد یا امونیم سلفیٹ کا استعمال کریں البتہ پتہ مروڑ وائرس کے حملے کی صورت یا کپاس کا قد چھوٹا رہ جانے کی صورت میں یوریا کھاد بحساب آدھی بوری فی ایکڑ15 دن کے وقفے کے ساتھ بذریعہ ڈرم میں ڈال کر استعمال کریں۔کپاس کی بڑھوتری روکنے کے لئے میپی کواٹ کلورائیڈ بحساب40 سے60 ملی لیٹر100 لٹر پانی میں حل کر کے فی ایکڑ15 دن کے وقفے سے دو بار سپرے کریں۔کاشتکار زیادہ بارش ہونے کی صورت میں زائد پانی کی نکاسی کا انتظام کریں اور وتر آنے پر 2 فیصد یوریا کا سپرے اور ایک بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں۔

مزید :

کامرس -