سیکرٹریوں کو 15دنوں کے اندر اپنے محکموں میں 2سال سے زائد کام کرنیوالے سٹاف کے تبادلوں کا ہوم ورک تیار کرنے کی ہدایت 

سیکرٹریوں کو 15دنوں کے اندر اپنے محکموں میں 2سال سے زائد کام کرنیوالے سٹاف کے ...

  

پشاور(سٹاف پورٹر)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس آج سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیر، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سینءئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے تمام وزراء اور سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ وہ پندرہ دنوں کے اندر اپنے محکموں میں دو سال سے زائد ایک ہی عہدے پر کام کرنے والے سٹاف کے تبادلوں کا ہوم ورک تیار کریں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اور ضلعی سطح پر دفتروں میں طویل عرصے تک تعینات اہلکاروں کا فیلڈز میں تبادلہ کیا جائے۔ایک دفعہ ٹرانسفر کے بعد کسی کی کوئی سفارش نہیں آنی چاہیے۔کارکردگی اور شہرت کے بنیاد پر اہلکاروں کی بلیک، گرے اور وائیٹ لسٹیں تیار کی جائیں۔گرے لسٹ میں شامل اہلکاروں کا تبادلہ اور بلیک لسٹ میں شامل اہلکاروں کے خلاف کاروائی عمل لائی جائے۔کسی بھی تحصیلدار اور پٹواری کو ان کے اپنی تحصیل اور علاقے میں تعینات نہ کیا جائے۔تمام محکمے ای ٹرانسفر پالیسی اپنانے پر کام کریں۔وزراء باقاعدگی سے اپنے محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔تمام وزرا اور سیکریٹریز کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔صوبے میں بہتر طرز حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنائیں گے۔موجودہ صوبائی حکومت کے دو سال کامیابی سے مکمل ہونے پر کابینہ کو مبارکباداگلے تین سالوں میں صوبے کو مزید اٹھائیں گے۔وزیراعلیٰ نے بی آرٹی کی تکمیل پر بھی کابینہ کو مبارکباد دی۔صوبائی کابینہ نے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر احساس نشونما پروگرام کیلئے محکمہ صحت کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ ایک مفاہمتی یاداشت پردستخط کرنے کی منظوری دی۔یہ پائلٹ پراجیکٹ ابتدائی طور پرضلع خیبر اور ملاکنڈ میں شروع کیا جارہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت تقریباً ڈھائی سال تک زچہ و بچہ کو فوڈ سپلیمنٹ دیا جائیگااور لڑکے کی صورت میں ہر تین ماہ بعد 1500روپے اور لڑکی کی صورت میں ہر تین ماہ بعد2000روپے بھی فراہم کئے جائیں گے۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا پاور کرشرز رولز2020 کی منظوری دیدی ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سیکرٹریز کمیٹی کی میٹنگ میں ہدایت کی تھی کہ جتنے ایکٹ بھی پاس ہوئے ہیں ان کیلئے جلد از جلد رولز بنائے جائیں۔نئے رولز کے تحت سالانہ لائسنس اور تجدید کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔پاور کرشر رولز 2020 کے تحت شہری آبادی میں 500میٹر تک پاور کرشرزکارخانے جبکہ دیہی علاقوں میں 300میٹر تک قائم نہیں کئے جا سکیں گے۔کابینہ کوگندم اور آٹے کی صورتحال کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پرگندم کی پاسکواورامپورٹ کے ذریعے 10لاکھ میٹرک ٹن تک بڑھائی جا رہی ہے جبکہ ملز کو روزانہ کا کوٹہ 2000میٹرک ٹن سے بڑھا کر 3000 میٹرک ٹن کر دیا جائیگا۔صوبائی کابینہ نے کرونا کی صورتحال میں بہتری کے پیش نظر محکمہ صحت کو ضروری اشیاء کی خریداری کیلئے کیپرا ایکٹ2012ء پروکیورمنٹ سے استثنیٰ کی منسوخی کی منظوری دیدی ہے۔ واضح رہے کہ محکمہ صحت نے اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کو ایک سمری بھیجی جس میں موقف اپنایا گیا کہ محکمہ صحت کو کرونا صورتحال میں بہتری کے پیش نظر اب ایمرجنسی میں خریداری کی مزید ضرورت نہیں۔ اس لئے کیپرا رولز سے استثنیٰ کو منسوخ کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے سمری کی منطوری دیتے ہوئے اسے کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی جس کی آج کابینہ نے منظوری دیدی۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا پولیس ترمیمی بل2020ء کی منظوری دیدی جسے صوبائی اسمبلی کی منظوری کیلئے پیش کیا جائیگا۔بل کے تحت پولیس شہداء کے بچوں کی بھرتی کیلئے با قاعدہ5 فیصد کوٹہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ ان کی سنیارٹی شہادت کی تاریخ سے متعین ہوگی۔ مزید برآں ترمیمی بل کے تحت20فیصد کوٹہ گریجویٹ کانسٹبلز یا ہیڈ کانسٹبلز کیلئے مختص کیا گیا ہے تاہم یہ پولیس سروس کمیشن کے مقابلے کا امتحان پاس کرنے سے مشروط ہوگا۔اسی طرح 50فیصد ہیڈ کانسٹیبلز کا کوٹہ محکمانہ پروموشن کمیٹی کی سفارش سے پرُکیا جائیگا جبکہ 25فیصد کوٹہ براہ راست پبلک سروس کمیشن سے نئے بھرتی ہونے والے امیدواران کیلئے رکھا گیا ہے۔ یہ تمام کوٹے صوبائی اسمبلی کی منظوری سے مشروط ہوں گے۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ کوآرڈینیشن یونٹ رولز2020ء کی اصولی منظوری دیدی ہے۔ان رولز کے تحت حلقہ بندیوں کیلئے قائم اتھارٹی تحلیل کر دی گئی ہے کیونکہ یہ اختیار سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔صوبائی کابینہ نے تحصیل ہیڈ کوارٹر مٹہ کی کیٹگری بی ہسپتال کی تعمیراورضلع سوات میں بچوں کے ہسپتال کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ذریعے تعمیر کی منظوری دیدی۔صوبائی کابینہ نے جسٹس اعجاز انور فاضل جج پشاور ہائی کورٹ کی بطور ممبر لیبر ایپیلیٹ ٹریبونل تعیناتی کی منظوری دیدی ہے۔صوبائی کابینہ نے کوآپریٹیو ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ رجسٹرار کی پوسٹ کوگریڈ۔16سے17، انسپکٹر کی پوسٹ کو گریڈ۔11سے 16 اور سب انسپکٹر کی پوسٹ کو گریڈ۔7سے 11 میں اپ گریڈیشن کی منظوری دیدی ہے۔کابینہ نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اپ گریڈیشن کے کیسزمحکمہ فنانس میں قائم کمیٹی کے ذریعے کئے جائیں اور کابینہ میں پیش نہ کی جائیں۔صوبائی کابینہ نے منظورشدہ اسکیموں کی لاگت میں 10فیصد اضافے کو15فیصد تک بڑھانے کی منظوری دیدی ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مینول کے مطابق15فیصد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے جبکہ فنانشل پاور رولز 2018ء میں 10فیصد تک اضافہ ظاہر کیا گیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے اس مقصد کیلئے  فنانشل پاور رولز 2018ء میں مذکورہ ترمیم کی منظوری دی تاکہ اسے پلاننگ کمیشن کے مینول کے مطابق کیا جا سکے۔صوبائی کابینہ نے واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی کوہاٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرکی تعیناتی کیلئے عارف رؤف جبکہ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی مردان کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے تعیناتی کیلئے شاہ حسین کے ناموں کی منظوری دیدی۔کابینہ نے رضی الدین خان کی بطور ایڈیشنل ایڈوکیٹ سوات تعیناتی کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے گریڈ۔21کے آفیسر سید کامران شاہ کی بطور منیجنگ ڈائریکٹر للسائل والمحروم تعیناتی کی بھی منطوری دی۔صوبائی کابینہ نے بونیر میں اینٹی ٹیرارزم کیمپ کورٹ کیلئے اجمل خان وزیر اینٹ ٹیرارزم کیمپ منگورہ کو اضافی چارج دینے کی بھی منظوری دی۔صوبائی کابینہ نے محکمہ صحت کی ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کی تشکیل نو کی بھی منظوری دی۔ میڈیکل ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے نئے نن آفیشل ممبران میں ڈاکٹر احمد نواز، ڈاکٹر سید منیب شاہ، ڈاکٹر عامر غفور، ڈاکٹر ابرار حسین، ڈاکٹر نثار احمد اور ڈاکٹر سہیل ناصر شامل ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -