پین کے مطالبہ پر سکول کھولنے بارے لائحہ عمل پر غور کرینگے: اکبر ایوب خان 

پین کے مطالبہ پر سکول کھولنے بارے لائحہ عمل پر غور کرینگے: اکبر ایوب خان 

  

پشاور(سٹاف پورٹر)صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم اکبر ایوب خان نے کہا ہے کہ پرائیویٹ سکول ایجوکیشن نیٹ ورک کی ڈیمانڈ پر سکول کھولنے کے حوالے سے لائحہ عمل پر غور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو درخواست کریں گے کہ وفاق کو 15 ستمبر سے پہلے سکول کھولنے کی سفارش کی جائے۔ تاہم تمام سرکاری اور نجی سکولزمقررہ ایس او پیز پر عمل درآمدکے پابند رہیں گے جس کے با رے میں اعلا میہ جلد جا ری کر دیا جا ئے گا۔وہ نجی سکولز کھولنے کے حوالے سے پرائیویٹ سکولز ایجوکیشن نیٹ ورک کے عہدیداران سے بات چیت کر رہے تھے۔سیکرٹری ایجوکیشن ندیم اسلم چوہدری، مینجنگ ڈائریکٹر پی ایس آر اے تاشفین حیدر، پین کے صدر سلیم خان، فضل اللہ داؤد زئی، سید انس تکریم اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔پین کے عہدیداران نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاؤن کریں گے اور حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں گے تاکہ طلباء کرونا وباء سے محفوظ رہ سکیں اور تعلیمی سرگرمیاں بھی بحال رہیں۔صوبائی وزیر تعلیم اکبر ایوب خان نے کہا کہ سکول کھولنے کے حوالے سے وفاقی سطح پر مختلف میٹنگز منعقد کیے جا رہے ہیں جس میں کرونا کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء ہمارا قیمتی سرمایہ ہے اور ان کی صحت کے پیش نظر تمام فیصلے کیے جاتے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے خیبرپختونخوا اور پورے ملک میں تعلیمی سرگرمیاں بہت جلد شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے بچوں کو سکولز بلانے کے بجائے ان کو گھروں کے لیے ہوم ورک دیں اور سکول کھولنے کے چند دن بعد جائزہ امتحان منعقد کیے جائیں۔ انھوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ سکول کھولنے تک وہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں رہنمائی کریں۔سیکرٹری ایجوکیشن ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ تمام نجی سکولوں کو ریوائزڈ ایجوکیشن کلینڈر بھی بہت جلد جاری کروا دیا جائے گا۔ طلباء اور اساتذہ کو سکول کھولنے کے بعد سخت محنت کرنی ہوگی تاکہ عالمی وباء کی وجہ سے جو تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہے ان کا جلد ازالہ کیا جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سکول کھولنے کے بعد ہر بچے کے لیے فیس ماسک پہننا لازمی ہوگا اور دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانا سکولز سربراہان کی ذمہ داری ہوگی۔

مزید :

صفحہ اول -