عاشقی میں نام کرنے آ گئے ہیں

عاشقی میں نام کرنے آ گئے ہیں
عاشقی میں نام کرنے آ گئے ہیں

  

نام کو گمنام  کرنے آگئے ہیں

پختہ کاری خام کرنے آ گئے ہیں

جس گلی میں صبح نہ آئی ہمیں

اُس گلی میں شام کرنے آ گئے ہیں

شکریہ بے کار جاتی زندگی!

ہم کو بھی کچھ کام کرنے آ گئے ہیں

عمر صرفِ خواب کر دی اور پھر

خواب کو نیلام کرنے آ گئے ہیں

وہ جنہیں تہذیبِ خواہش تک نہیں

عاشقی میں نام کرنے آ گئے ہیں

شاعر:مقصود وفا

مزید :

شاعری -سنجیدہ شاعری -