بالکونی سے دیکھتے ہوئے لوگ

بالکونی سے دیکھتے ہوئے لوگ
بالکونی سے دیکھتے ہوئے لوگ

  

دُور سے آج دیکھتے ہوئے لوگ

تھے کبھی مجھ کو چاہتے ہوئے لوگ

سرد لہجوں میں کر رہے ہیں کلام

صحن میں دھوپ سینکتے ہوئے لوگ

رفتہ رفتہ زُباں تک آئیں گے

یہ مِری بات کاٹتے ہوئے لوگ

جانے کیا کیا لگی ہوئی تھی بھیڑ

کھو گئے مجھ کو ڈھونڈتے ہوئے لوگ

دیکھتا ہوں گلی کے مُڑنے تک

بالکونی سے دیکھتے ہوئے لوگ

جانے کب سو گئے اُڑا کر نیند

وہ مِرے ساتھ جاگتے ہوئے لوگ

شاعر:راول حسین

مزید :

شاعری -غمگین شاعری -