پیمرا نےوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے متعلق خبر نشر کرنے پر دو نجی ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری کر دیا

پیمرا نےوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان ...
پیمرا نےوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے متعلق خبر نشر کرنے پر دو نجی ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری کر دیا

  

اسلام آبا د(ویب ڈیسک) پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے دو نجی ٹی وی چینلز 'اب تک' اور 'بول نیوز' کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے درمیان میبنہ تلخ کلامی کی خبر نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پیمرا سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 'اب تک ٹی وی چینل نے 18 اگست 2020 کو شام 5 بج کر 47 منٹ پر وزیر خارجہ اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے سے متعلق جھوٹی خبر نشر کی'۔نوٹس کے مطابق ٹی وی چینل نے کہا کہ 'شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے درمیان مبینہ تلخ کلامی ہوئی'۔

پیمرا کے مطابق تلخ کلامی کے بعد وزیرخارجہ اور اعظم خان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، جس کے بعد شاہ محمود قریشی وزیر اعظم ہاؤس میں داخل ہوئے اور عمران خان سے شکایت بھی کی'۔نوٹس میں کہا گیا کہ چینل نے کہا کہ 'وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے متمنی تھے لیکن انہیں وزیر اعظم دفتر کے باہر پرنسپل سیکریٹری نے اندر جانے سے روکا، جس پر تلخ کلامی ہوئی'۔

پیمرا کے مطابق 'خبر حکومت کے متعلقہ دفاتر سے تصدیق یا جائزہ لیے بغیر نشر ہوئی اور جعلی خبر تھی جس کا ثبوت حکومت کے ترجمان کی جانب سے جاری اس کی تردید ہے'۔

چینل کو کہا گیا ہے کہ'جھوٹی خبر کو بغیر تصدیق کے نشر کرنے سے چینل کے ایڈیٹوریل بورڈ کی کارکردگی اور اختیار کیے گئے گیٹ کیپنگ کے طریقہ کار پر سنجیدہ تشویش ہے'۔

وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ 'جھوٹی خبر نشر کرنا پیمرا آرڈیننس 2002 کی سیکشن 20 (ایف)کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی شق 3، 4(7اے سی، 10)، 5 اور 17 کی کھلی خلاف ورزی ہے'۔پیمرا کا کہنا ہے کہ جھوٹی خبر نشر کرنا سپریم کورٹ کی جانب سے 2018 میں لیے گئے از خود نوٹس پر دیے گئے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے۔

نجی ٹی وی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ خبر کی تردید کرے اور اسی طرح معذرت کرے اور چینل کے چیف ایگزیکٹیو افسر 3 روز کے اندر تحریری جواب داخل کرادیں تاکہ ان کے خلاف سیکشن 29 اور 30 کے تحت قانونی کارروائی شروع نہ کی جائے۔چینل مزید ہدایت کی گئی ہے کہ 'اس کے سربراہ بذات خود یا اپنے نمائندے کے ذریعے تحریری جواب کے ساتھ 24 اگست کو صبح ساڑھے گیارہ بجے اسلام آباد میں پیمرا کے ہیڈکوارٹرز میں سماعت کے لیے پیش ہوں'۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 'اگر اس نوٹس پر عمل نہیں کیا گیا تو پیمرا قوانین کے تحت لائسنس حاصل کرنے والے کے خلاف اقدامات کیے جائیں گے'۔

قبل ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں 'اب تک' کی خبر پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'جو دل کرتا ہے اس کو جھوٹی خبر کے طور پر چلا دیا جاتا ہے'۔ان کا کہنا تھا کہ 'شاہ محمود اور اعظم خان دو معزز اور عزت دار لوگ ہیں، دونوں کے درمیان آج کوئی ملاقات تک نہیں ہوئی اور آپ ان کی لڑائی کی جھوٹی بات کرتے ہیں، ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا'۔

شہباز گل نے کہا کہ 'چینل کے خلاف پیمرا جارہے ہیں اور سخت کارروائی کی درخواست کریں گے کیونکہ آپ کو اندازہ نہیں کہ پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کی جھوٹی خبر بین الاقوامی میڈیا کیسے چلائے گا'۔بعد ازاں پیمرا نے نجی ٹی وی چینل 'بول نیوز' کو بھی مبینہ تلخ کلامی کی خبر نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا جسے شہباز گل نے اپنے ٹوئٹ کے ساتھ جاری کیا۔

پیمرا سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 'بول نیوز نے 17 اگست 2020 کو سمیع ابراہیم کی میزبانی میں تجزیہ کے نام سے پروگرام نشر کیا اور گفتگو کے دوران تجزیہ کار صدیق ساجد نے وزیرخارجہ اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کی جھوٹے، من گھڑت اور توہین آمیز واقعے کا ذکر کیا'۔

پیمرا نے بول نیوز کو بھی کہا ہے کہ 'جھوٹی خبر نشر کرنا پیمرا آرڈیننس ترامیمی ایکٹ 2007 کے سیکشن 20 ایف اور الیکٹرونک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی متعلقہ دفعات کی کھلی خلاف ورزی ہے اور سپریم کورٹ کے 2018 کے از خود نوٹس کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے'۔

نجی چینل کو ہدایت کی گئی ہے کہ 'چینل کے سربراہ تین روز کے اندر خبر کی تردید کریں اور معذرت کریں'۔پیمرا نے ہدیات کی کہ چینل کے سربراہ یا نمائندے کو نوٹس کے تحریری جواب کے ساتھ 24 اگست 2020 کو صبح 11 بجے پیمرا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں سماعت کے لیے پیش ہوں ورنہ پیمرا قوانین کے مطابق لائسنس حاصل کرنے والے خلاف اقدامات کیے جائیں گے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -