سی پیک پیپلزپارٹی حکومت کا وژن تھا،عوام کو اندازہ ہوگیاسونامی ایک تباہی کا نام تھا،مرتضیٰ وہاب

سی پیک پیپلزپارٹی حکومت کا وژن تھا،عوام کو اندازہ ہوگیاسونامی ایک تباہی کا ...
سی پیک پیپلزپارٹی حکومت کا وژن تھا،عوام کو اندازہ ہوگیاسونامی ایک تباہی کا نام تھا،مرتضیٰ وہاب

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوام کو اندازہ ہوگیاسونامی ایک تباہی کا نام تھا،2 سال میں پی ٹی آئی کی حکومت نے تباہی برپا کی،سی پیک پیپلزپارٹی حکومت کا وژن تھا،پی ٹی آئی میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ اس بات کا اعتراف کرے۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ عوام کو اندازہ ہوگیاسونامی ایک تباہی کا نام تھا،2 سال میں پی ٹی آئی کی حکومت نے تباہی برپا کی،انہوں نے کہاکہ اگست2018سے اب تک کا موازنہ کرنا چاہتا ہوں،اگست2018میں 20کلو آٹا 778روپے تھا،آج 20کلو آٹے کی قیمت ایک ہزار روپے سے بڑھ گئی ہے،اگست2018میں چینی 55روپے فی کلو تھی،آج پاکستان میں چینی 102روپے فی کلو ہے،اگست2018میں مرغی 114روپے فی کلو میں دستیاب تھی،آج مرغی 194 روپے فی کلو مل رہی ہے،اگست 2018 میں کوکنگ آئل 900اور آج 1200روپے سے زائد ہے، اگست 2018 میں دال 112روپے فی کلو اور آج 247روپے فی کلو ہے،یہ چاہتے ہیں غریب بس سانس لے یہی کافی ہے۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہاکہ 2018میں گردشی قرضہ1.04کھرب روپے اورآج2.2کھرب روپے ہے،گردشی قرضوں میں 2سال میں 1.2کھرب روپے کا اضافہ ہوا،وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کسی سے قرض نہیں مانگوں گا،2018میں پاکستان کا کل قرضہ24.2کھرب روپے تھا،آج پاکستان کا کل قرضہ 34.4کھرب روپے ہوچکا ہے،2سال میں کل قرضوں میں 10.3کھرب روپے کا اضافہ ہوا،اتنا قرضہ لینے کے بعد 162ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کی مد میں نہ ملے۔

ترجمان سندھ حکومت نے مزید کہاکہ2018 میں ڈی جی پی گروتھ5.5فیصد تھی،پاکستان کی ڈی جی پی گروتھ منفی میں آچکی ہے، 2018میں پاکستان میں سالانہ آمدن 1652ڈالرتھی،اب پاکستان میں سالانہ آمدن1355 رہ چکی ہے،عام آدمی کی سالانہ آمدن میں 18فیصد کمی آئی۔

مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ سی پیک پیپلزپارٹی حکومت کا وژن تھا،پی ٹی آئی میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ اس بات کا اعتراف کرے،سی پیک کا معاہدہ ہمارے دور میں آصف زرداری کی موجودگی میں ہوا،انہوں نے کہاکہ اگست 2018میں ڈالر124 روپے کاتھا جو اب 168روپے ہے،عمران خان کو پرائیویٹ سیکٹر سے چیئرمین ایف بی آر لانے کا موقع ملا، 2018میں ریونیو کلیکشن 3.84کھرب روپے تھی،2019میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارریونیو کلیکشن کم ہو کر 3.2کھرب ہوگئی، پی ٹی آئی حکومت نے شکوہ کیا ہمیں پورا مالی سال نہیں ملا،بجٹ دستاویزات کے مطابق ٹیکس ٹارگٹ 5.5کھرب روپے تھا،2020میں پی ٹی آئی حکومت نے3.96کھرب روپے ٹیکس کلیکشن کی،سندھ حکومت نے مشکلات کے باوجود 105ارب روپے ٹیکس کلیکشن کی، آج فخر سے کہا جاتا ہے کہ سٹاک مارکیٹ 40ہزار تک پہنچ چکی ہے،17اگست 2018 کو سٹاک مارکیٹ 42ہزار446پر تھی،پی ٹی آئی دور میں سٹاک مارکیٹ 28ہزار پوائنٹس تک گری،ماضی میں سٹاک ایکس چینج 50ہزار پوائنٹس تک پہنچی۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہاکہ ہمارے دور میں پولیو لیڈی ہیلتھ ورکر کو متعارف کروایا گیا،پولیو کے حوالے سے1998سے2018تک بہت کام ہوا،2018میں پولیو کے 12نئے کیسز آئے،2019میں پولیو کے147نئے کیسز آئے،2020کے8ماہ میں پولیو کے65کیسزرپورٹ ہوئے۔

گورنر ہاوَس کی دیواریں گرانے کا کہا لیکن غریبوں کے گھر کی دیواریں گرادیں،نوکریاں تو شاید اپنے دوستوں کو دی گئیں،مشیر اور معاون لگایاگیا،وزیراعظم کراچی تشریف لاتے ہیں تو ہیلی کاپٹر میں گورنر ہاوَس چلے جاتے ہیں،وزیراعظم ہاوَس میں کوئی یونیورسٹی نظر نہیں آئی،پی ٹی آئی دور میں بےروزگاری میں اضافہ ہوا،ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا لیکن کسی کو نوکری نہ ملی۔

مزید :

قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -