تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے

تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے
تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے

  

کبھی سفر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے

تمہار ادرد کئی کام لے گیا مجھ سے

مجھے خبر نہ ہوئی اور زمانہ جاتے ہوئے 

نظر بچاکے ترا نام لے گیا مجھ سے

اُسے زیادہ ضرورت تھی گھربسانے کی

وہ آکے میرے در و بام لے گیا مجھ سے

بھلا کہاں کوئی جُز اس کے ملنے والا تھا

بس ایک جرا تِ ناکام لے گیا مجھ سے

شاعر:فرحت عباس شاہ

مزید :

شاعری -غمگین شاعری -