میں نے بنوایا ہے اِک تاج محل تیرے لیے

میں نے بنوایا ہے اِک تاج محل تیرے لیے
میں نے بنوایا ہے اِک تاج محل تیرے لیے

  

جب بھی کہتا ہوں کوئی تازہ غزل تیرے لیے

میرے احساس میں کھِلتے ہیں کنول تیرے لیے

جانتا ہوں کہ مِرا دشمنِ جاں ہے، پھر بھی

دل کی ہر بات پہ کرتا ہوں عمل تیرے لیے

دشمنی یوں تو کسی سے بھی نہیں ہے میری

صرف حالات سے ہے جنگ و جدل تیرے لیے

آنکھ جمنا ہے مِری اِس کے کنارے آ جا

میں نے بنوایا ہے اِک تاج محل تیرے لیے

اپنا گھر غور سے دیکھا ہی نہیں تُو نے قتیل

یہ تو دنیامیں ہے جنت کابدل تیرے لیے

شاعر:قتیل شفائی

مزید :

شاعری -رومانوی شاعری -