سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیخلاف کیس کی سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کر دی

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیخلاف کیس کی سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کر دی
سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیخلاف کیس کی سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کر دی

  

 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی ، عمران خان کے وکیل نے تحریری دلائل جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیاہے، جس پر عدالت نے کیس کی سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کر دی ۔

نجی ٹی وی" جیو نیوز "کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کی ،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کورونا ہو گیا تھا اس لیے تحریری جواب جمع نہیں کر اسکا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت سیاسی معاملات میں گریز کرے گی ،صرف بنیادی حقوق میں ترامیم کیخلاف نکات پر بات کریں گے ،نیب قوانین کے تحت پلی بارگین کرنے والے کے شواہد کو ہی قبول نہیں کیا جاتا ،ملزمان بری ہو جاتے ہیں پھر بھی ان کے داغ نہیں دھلتے ، چیف جسٹس نے مزید کہا کہ فوجدار ی نظام میں گرفتار ی کی ممانعت نہیں ہے ،گرفتاری جرم کی نوعیت کے حساب سے ہوتی ہے ، 90دن کا ریمانڈ کہیں نہیں ہوتا،فوجداری کیس میں 14دن سے زیادہ ریمانڈ نہیں ہوتا ۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پی ٹی آئی اراکین کو کہا تھا کہ پارلیمان میں جا کر اپنا کردار ادا کریں ،آدھے ارکان نے اسمبلی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے ،ان کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلی میں موجود اراکین کو ذاتی مفاد کیلئے قانون سازی نہیں کرنی چاہیے ،اکثر ترامیم میں ملزمان کو رعایت دی گئی ہے ۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ ہمیشہ منتخب حکومت کیساتھ کھڑی ہوتی ہے، یورپ میں اسقاط حمل کا مسئلہ عدالتوں میں نہیں بلکہ پارلیمان میں حل ہوا ، جس کے جواب میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت چلنے والے تمام اداروں کو سپورٹ کریں گے ،عدالت غیر معمولی حالات میں کیس سن کر مزے نہیں لے رہی ،امریکی سپریم کور ٹ کی مثال اس کیس سے متعلق درست نہیں ،عدالت اس کیس میں بڑی احتیاط سے کام لے رہی ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -