ایسا نہیں ہونا چاہیے!

 ایسا نہیں ہونا چاہیے!
 ایسا نہیں ہونا چاہیے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستان کے 76 ویں یوم آزادی کو گزرے تقریباً ابھی ایک دن ہی گزرا تھا کہ نام نہاد مسلمانوں کے مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے نام پر ایک اور مسیحی بستی اجاڑ دی۔ بدھ 16 اگست کی صبح نماز فجر کے وقت کسی مُبہم سی اطلاع کو بنیادبنا کر کرسچن کالونی اور عیسی نگری کے مضافاتی علاقوں میں اہل ِ علاقہ نے مساجد میں یہ اعلانات کروا دیئے کہ مسیحیوں نے دین اسلام کی توہین کی ہے، لہٰذا انہیں سببق سکھانے کے لئے سب لوگ سنیما چوک کے قریب مسیحی بستی پہنچیں۔دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کی تعداد میں ڈنڈا بردار افراد نے علاقے میں جمع ہو کرمسیحیوں کے گھروں اور ان کی عبادت گاہوں پر دھاوا بول دیا۔ مشتعل گروہ نے کرسچن کالونی اورعیسیٰ نگری میں چھ گرجا گھروں کو آگ لگا دی، جبکہ درجنوں مکانات اور گاڑیاں نظر آتش کر کے مسیحیوں کے مال و اسباب کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ واقعہ کے بعد شہر میں دفعہ 144 نافذکر دی گئی،کشیدہ صورتحال کے باعث تمام سکول، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند کر کے شہر میں عام تعطیل کا  اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان میں توہین مذہب کے نام پر لوگوں کی زندگیاں اور گھر اجاڑنے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے، چند برس قبل لاہور کے علاقے بادامی باغ میں واقع جوزف کالونی پر ایسے ہی ایک حملے اور آتشزنی کے نتیجے میں سینکڑوں مسیحی بے گھر ہو گئے تھے،اس سے قبل فیصل آباد کی ہی ایک اور تحصیل گوجرہ میں مسلم مسیحی فسادات کے نتیجے میں کم از کم چھ مسیحی ہلاک ہو گئے تھے۔


پاکستان میں 1980 ء اور 1986 ء کے درمیان جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے انگریز دور سے چلے آ رہے توہین مذہب کے قوانین میں متعددشقوں کا اضافہ کیا۔ برطانوی راج نے جو قوانین بنائے ان میں کسی مذہبی اجتماع میں خلل ڈالنا، کسی قبرستان میں بغیر اجازت داخل ہونا، کسی کے مذہبی عقیدے کی توہین کرنا، یا سوچ سمجھ کر کسی کی عبادت گاہ یا عبادت کی کسی چیز کی توہین کرنا جرم قرار پائے تھے۔ان قوانین میں زیادہ سے زیادہ سزادس سال قید اور جرمانہ تھی۔ 1980ء کی دہائی میں توہین مذہب کے قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے اسلامی شخصیات کے خلاف توہین آمیز بیانات کو بھی جرم قرار دے دیا گیا جس میں تین سال قید اور جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی، تاہم 1982 ء میں ایک اورشق شامل کی گئی جس میں جان بوجھ کر قرآن پاک کی بے حرمتی کی سزا پھانسی رکھی گئی، جبکہ 1986 ء میں پیغمبرؐ اسلام کی توہین(نعوذ باللہ) کی سزا بھی موت یا عمر قید رکھ دی گئی۔نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس کے مطابق 1987ء سے لے کر اب تک 633 مسلمانوں،494 احمدیوں، 187 عیسائیوں اور 21 ہندوؤں کے خلاف ان قوانین کے تحت مقدمات درج کئے جا چکے ہیں۔تاہم ناقدین کے مطابق ان قوانین کو ہمیشہ اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔جبکہ اکثر ان کا استعمال ذاتی دشمنیوں اور لڑائیوں کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ان کا مذہب سے کم ہی تعلق ہوتا ہے۔


 گزشتہ12 سال میں پاکستان میں توہین مذہب کے الزام لگائے جانے کا سلسلہ بڑھا ہے۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے ڈیٹا کے مطابق سال 2014 ء سے 2020 ء تک سب سے زیادہ توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے جن میں زیاد کیسز صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں سے رپورٹ ہوئے۔ اب تک پاکستان میں توہین مذہب کے الزام کی وجہ سے ماورائے عدالت قتل میں 90 لوگ مارے جا چکے ہیں۔ بیشتر کیسز میں مخالفین نے ایک دوسرے پر توہین مذہب کا الزام ذاتی چپقلش کی وجہ سے عائد کیا۔نومبر 2020 ء میں پنجاب کے شہر خوشاب میں سیکورٹی گارڈ نے نوجوان بینک منیجر ملک عمران حنیف کو قتل کر دیا، انہی دنوں توہین رسالت کے ایک ملزم کو پشاور میں کمرہئ عدالت کے اندر جج کے سامنے گولی مار کر قتل کر دیا گیا، 3 دسمبر 2021 ء کو  سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم نے تشدد کر کے ہلاک کر نے کے بعد ان کی لاش کو آگ لگا دی۔ توہین مذہب کے زیادہ تر مقدمات میں اکثر وجوہات وہ نہیں ہوتیں جو ابتداء میں الزام لگانے والوں کی جانب سے بتائی جاتی ہیں۔ 


 اس قانون کے ناقد گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے محافظ ممتاز قادری نے اسلام آباد کی کہسار مارکیٹ میں دن کے اجالے میں سب کے سامنے 27گولیاں مار کر قتل کر ڈالا۔تاہم اصل بات یہ ہے کہ ریاست جنونیت کے سامنے بے بس کیوں دکھائی دیتی ہے۔تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا معاملہ سب کے سامنے ہے کہ کس طرح ملک گیر پر تشدد ہنگاموں، جلاؤ گھیراؤ اور خونی مظاہروں کے باوجود  ریاست کو ہر بار اس جماعت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔سپریم کورٹ سے آسیہ بی بی کی رہائی کا معاملہ ہو، سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی پھانسی ہو یا غیر ملکی سفیروں کی ملک بدری، ٹی ایل پی کے لاکھوں کارندوں نے پُرتشدد مظاہروں سے پورا ملک جام  کر دیا۔ ان ملک گیر ہنگاموں اور جلاؤ گھیراؤ میں پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ لیکن اس کے باوجودریاست ٹی ایل پی کی بد معاشی روکنے میں ناکام نظر آئی، بلکہ پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چودھری نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کی جیل سے رہائی پر وہ ان کے پاس گلدستہ لے کر جائیں گے۔بحرالحال، یہ تحریک لبیک پاکستان کا ہی کمال تھا کہ انہوں نے ریاست کے گورنر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کو ایک قاتل کی بجائے ہیرو بنا کر پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اگلے روز گورنر پنجاب کا جنازہ پڑھانے کے لئے کوئی مولوی دستیاب نہیں تھا،تاہم دوسری جانب 2016ء میں ان کے قاتل ممتاز قادری کو جب پھانسی دی گئی تو ان کے جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔سلمان تاثیر کے قتل کے صرف ایک ماہ بعد اقلتیوں کے وزیر شہباز بھٹی کو بھی اسی قانون پر تنقید کی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔
قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے 11 اگست 1947 ء کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے جو تقریر کی اس میں سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جانے کے لئے، اپنے گرجا گھروں اور مساجد میں جانے کے لئے، آپ کا تعلق چاہے کسی بھی مذہب سے ہو، ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے“۔  14 اگست 2023 ء کو ہر طرف قومی پرچم لہرایا گیا لیکن کاش ہمیں اس پرچم پر سفید رنگ کا مطلب بھی سمجھ آ جاتا۔

مزید :

رائے -کالم -