ایک عجیب و غریب خواب

ایک عجیب و غریب خواب
ایک عجیب و غریب خواب

  

چائے کی چسکی کے ساتھ، اخبار پڑھنے کا جو مزہ ہے، وہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ تعریف کے لئے تو کسی”سکّہ بند“شاعر کا ایسا شعر چاہئے جو انہوں نے اپنی محبوبہ کو سامنے بٹھا کر چائے کی تعریف میں کہا ہو اور کہا بھی ایسا ہو کہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہو، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں کے سب دریا خشک ہو چکے ہیں، کبھی کبھی سیلاب آئے تو، یہ دریا بھر جاتے ہیں، مگر لوگ اجڑ جاتے ہیں۔ یہ اُجڑے ہوئے لوگ ایک بار پھر اپنی مدد آپ کے تحت آباد ہونے کی کوشش کرتے ہیں، پھر سیلاب آتا ہے اور لوگ پھر اُجڑ جاتے ہیں، سو ان دریاو¿ں کو پُرآب اور لوگوں کو آباد کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کالا باغ ڈیم بنایا جائے، مگر ہمارے سیاسی رہنما کالا باغ ڈیم کے حوالے سے کسی بھی قسم کے ”مفاہمتی فارمولے“ پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ سو حالت یہ ہے کہ دریا خشک، زمین بنجر، قوم برباد اور لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں غرق ہے۔ دریا کے علاہ کوزے کا بھی رواج ختم ہوگیا ہے اور کوزے کی جگہ لوٹے نے لے لی ہے۔ یہ لوٹا بہت عجیب و غریب قسم کا برتن ہے، عموماً گھروں اور مسجدوں کے باتھ روموں میں پایا جاتا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں میں بھی لوٹے پائے جاتے ہیں، بلکہ ایک عدد جماعت تو لوٹے ازم کے تحت وجود میں آئی تھی۔

 کوئی شاعر کوشش بھی کرے، تو کوزے کی جگہ لوٹے میں شعر بند نہیں کر سکتا، کیونکہ لوٹے میں اس کی اوقات کے مطابق پانی بھرا جاتا ہے اور اگر احتیاط سے کام نہ لیا جائے تو پانی، گردن کی طرف سے ڈالو تو ٹوٹی کی طرف سے نکل جاتا ہے اور اگر ٹوٹی کی طرف سے ڈالو، تو گردن کی طرف سے نکل جاتا ہے۔ اب جس لوٹے میں پانی نہیں ٹھہر سکتا، اس میں شعر کیسے بند کیا جاسکتا ہے؟ مثال ذرا مشکل ہوگئی ہے۔ خود مجھے سمجھنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ آپ بھی زیادہ سے زیادہ مجھ سے دو جماعتیں زیادہ پڑھے ہوں گے تو آسان مثال پیش کرتے ہوئے گزارش ہے کہ دنیائے سیاست کے کامیاب سیاستدان آصف علی زرداری جو سیاست میں کئی عظیم الشان معرکے سر کر چکے ہیں، انہوں نے آخری معرکہ، پی پی پی کے دریا کو ”لوٹے“ میں بند کرنے کی کوشش کی اور امید یہی تھی کہ صدر اپنی سابقہ فتوحات کی طرح اس بار بھی کامیاب ہو جائیں گے، مگر بدقسمتی سے پی پی پی کا دریا ”لوٹے“کے اندر نہیں سما سکا، یعنی دریا کو اگر گردن کی طرف سے دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ ٹوٹی کی طرف سے بہہ نکلتا ہے اور اگر ٹوٹی کی طرف سے ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو گردن کی طرف سے نکل جاتا ہے۔ سو حالت یہ ہے کہ پی پی پی کا کچھ دریا ”لوٹے“کی گردن اور کچھ ٹوٹی میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ اعلیٰ حضرت آصف علی زرداری اپنی تمام تر کاریگری کے باوجود اب نہ ”لوٹے“ رکھ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں، نگل سکتے ہیں اور نہ اُگل سکتے ہیں۔

خواتین و حضرات! چائے کی چسکی کے ساتھ اخبار کے صفحہ اول پر نظر ڈالی تو وہ مجھے بہت عجیب سا لگا، مَیں نے فوراً بیک الٹایا، مگر وہ بھی فرنٹ سے مختلف نہیں تھا۔ چائے مجھے بھول گئی، مَیں نے اخبار کو الٹ پلٹ کر دیکھا، اخبار کے پییٹ کو کنگھالا، اس کی ایک ایک انٹری چیک کی، اداریہ، کالم، حتیٰ کہ ایڈیٹر کی ڈاک تک ایک ہی طرح کے مواد پر مبنی تھی، مجھے حیرت ہوئی، مَیں نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور کہا، بھاگتے ہوئے جاو¿ اور فلاں اخبار لے آو¿، دس روپے تمہارے، میرا بیٹا، بجلی کی تیزی سے گیا اور اخبار لے آیا، مَیں نے اخبار پڑھا، ایک ہی طرح کا مواد تھا، بس ناموں کا فرق تھا۔ مجھے بہت غصہ آیا، مَیں نے اپنے بیٹے کو مزید پیسے دئیے اور کہا، تمام کی تمام اخباریں لے آو¿ اور ہاں دس روپے اس کے علاوہ ہیں۔ پھر مَیں نے تمام اخبار پڑھ ڈالے، مگر اخبارات کا رنگ ڈھنگ بدل چکا تھا۔ مجھے بہت حیرت ہوئی، بے چینی کے عالم میں، مَیں دوسرے کمرے میں گیا، تو بیگم ٹی وی لگائے بیٹھی تھی، مَیں نے غصے میں ڈانٹتے ہوئے کہا، تم عجیب عورت ہو، تمہیں کچھ عقل ہے کہ نہیں، ملک کے حالات میں کیا تبدیلی آچکی ہے، تم سمجھتی ہو کہ نہیں، یہ تم کیا عشق ممنوع لگا کے بیٹھی ہو؟

میری بیگم تھوڑی سی حیران ہوئیں اور کہا کیا بات ہے،کہیں تمہاری دور کی نظر بھی تو کمزور نہیں ہوگئی۔ مَیں نے کہا باتیں نہ بناو¿، ریموٹ مجھے دو، اب مَیں نے ایک مقبول چینل لگایا، میرا پسندیدہ پروگرام”میز ٹاک“ چل رہا تھا، مگر یہ کیا، یہاں بھی دو عدد مزدور نما رہنما تشریف فرما تھے، میزبان ان سے ان کی زندگی کے بارے میں سوال و جواب کر رہا تھا، وہ مزدور بتا رہے تھے کہ اللہ کا شکر ہے، ہمارے بچے بہت اچھے ہیں، بہت خدمت کرتے ہیں، دونوں کا کہنا تھا کہ ان کے بچے خراد، بجلی اور ویلڈنگ کے کاریگر ہیں، بہت محنتی ہیں۔ دونوں نے بتایا کہ ان کے پانچ پانچ مرلے کے گھر ہیں، جو انہوں نے دن رات محنت کر کے بنائے ہیں۔ بڑے بچوں کی شادیاں کر دی ہیں اور انہیں اوپر والے پورشن میں کمرے میں ان کی پسند کے بنا دئیے ، جہاں وہ اپنے بچوں اور بیویوں کے ساتھ سکون سے رہتے ہیں۔ وہ دونوں بڑے فخر سے بتا رہے تھے کہ ان کے بچے ان کی لمبی زندگی کی دعا کرتے رہتے ہیں، پھر ایک سوال کے جواب میں یہ بھی بتایا کہ بچے ان کی لمبی زندگی کی دعا اس لئے بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے زندگی میں جو بھی کمایا ہے، وہ بچوں کو دے دیا ہے۔ ان کے بچوں کو معلوم ہے کہ ان کے والدین کے پاس نہ کوئی خفیہ جائیداد ہے، نہ بینک بیلنس اور نہ کوئی خفیہ کاروبار ہے، اس لئے وہ امیروں کے بچوں کی طرح والدین کے بارے میں کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات میں مبتلا نہیں ہیں۔ سو یہی وجہ ہے کہ وہ دن رات....”اے خدا میرے ابو سلامت رہیں“.... گاتے رہتے ہیں۔

اب مجھے باقاعدہ تپ چڑھی اور مَیں نے ایک اور چینل لگایا، وہاں میرا پسندیدہ پروگرام ” ایک دن میرے ساتھ“ چل رہاتھا، مگر یہ کیا، گندے کپڑے، الجھے ہوئے بال، کالا رنگ، گندہ سا گھر، یہ کوئی خاکروب تھا، جو گٹر صاف کرنے اور کھولنے کا سپیشلسٹ بھی تھا، میزبان کو بتا رہا تھا، کہ وہ صبح پانچ بجے جاگتا ہے، اپنا جھاڑو اور ریڑھی نکالتا ہے اور صبح آٹھ بجے تک ایک ہزار کے قریب آبادی والے علاقے کی سڑکوں کو صاف کرتا ہے اور یہ کام اسے ہر طرح کے حالات اور مشکلات کے باوجود کرنا پڑتا ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ صبح کے وقت لوگ جب گھروں سے باہر نکلیں تو انہیں کسی بھی قسم کی بدصورتی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ سارا دن خوش رہیں، پھر کیمرہ دکھاتا ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے ایک ”بند گٹر“ کھولنے کا مظاہرہ کرتا ہے، باہر آنے میں تھوڑی دیر ہو جاتی ہے تو میزبان کا رنگ لال اور زبان تیز ہو جاتی ہے۔ وہ اعلان کرنے ہی والا ہوتا ہے کہ ناظرین خاکروب اللہ کو پیارا ہوگیا، مگر اچانک خاکروب گٹر میں سے باہر نکلتے ہوئے میزبان سے کہتا ہے، سر جی! اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں، حرام خوری، بھتہ خوری، ٹیکس چوری اور اس طرح کے دیگر کاموں سے بچاتے ہوئے حلال کی روزی کمانے کا ہنر سکھایا ہے۔

میزبان تھوڑا سا شرماتے ہوئے بتاتا ہے کہ اب چلتے ہیں، خاکروب صاحب کے دوستوں کے گھر، جہاں ان کے اعزاز میں کھانا ہے۔ ایک بوسیدہ سے کمرے میں چند مزید میلے، کچیلے، کالے رنگ والے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، تھوڑی دیر بعد دستر خوان بچھایا جاتا ہے، چند روٹیاں اور گنڈے (پیاز) نمک کے ساتھ رکھ دئیے جاتے ہیں، خاکروب بڑے فخر کے ساتھ میزبان کو کہتا ہے، جناب عالیٰ شروع کریں، یہ ہے ہمارا ”مرغ مسلم“....کھانے کے بعد محفل موسیقی کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ تھالی گھڑے اور گنگھرو¿ں کی تھاپ پر مہمان خصوصی خاکروب ایک ہاتھ کان پر کھتے ہوئے گیت الاپتا ہے: ”بول مٹی دیا باویا“.... خاکروب کی آواز کی مستی ماحول پر چھانے لگتی ہے۔ دیگر دوستوں میں سے ایک اپنی جگہ سے اٹھتا ہے اور پھر ایسی دھمال ڈالتا ہے کہ ماضی کی فلمسٹار عالیہ بیگم کی یاد دلا دیتا ہے۔ یہاں آکر پروگرام کچھ کچھ پُرکشش بن جاتا ہے، مگر میری بیزاری ابھی تک باقی ہے۔ مَیں ٹی وی بند کر کے گھر سے باہر نکلتا ہوں۔ مجھے چاروں جانب، ایک عجیب سی مسرت کا سامان نظر آتا ہے۔ لوگوں کے رویے بدلے ہوئے ہیں، تو تو مَیں مَیں، کی تکرار کہیں سنائی نہیں دیتی، مگر مَیں پریشان ہوں۔ مَیں لوگوں سے پوچھتا ہوں، تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم اتنے خوش کیوں نظر آتے ہو؟ یہ ہر طرف سکون ہی سکون ہے، نہ کوئی نعرہ، نہ کوئی تقریر، نہ کوئی لیڈر، نہ کوئی کارکن، یہ سب کیا ہے، مگر مجھے کوئی جواب نہیں دیتا، اب مَیں مختلف نیوز چینل اور اخبارات کے دفتروں کی طرف جاتا ہوں۔ نیوز چینلوں اور اخبارات کے دفتروں کے باہر عام لوگوں کا رش لگا ہوا ہے۔ کوئی انٹرویو دے رہا ہے، کوئی پریس ریلیز لئے کھڑا ہے۔ وہ لوگ جو اخباروں اور نیوز چینلوں کی ”زینت“ تھے، عوام کے ہجوم میں گم نظر آتے ہیں۔

اچانک ایک شخص، مَیں وزیراعظم ہوں، کا بورڈ اٹھائے ہوئے آواز لگاتا ہے۔ ملک کے وزیراعظم کی بھی خبریں لگاو¿، لوگوں کا ہجوم، نعرے لگاتا ہے، پاگل ای اوے اور پھر مَیں دیکھتا ہوں، گورنر سے لے کر وزیروں اور مشیروں تک چیخ چیخ کے اپنا تعارف کرا رہے ہیں، مگر کوئی بھی ان کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ میرے اعصاب جواب دے جاتے ہیں، بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے ایک پڑھے لکھے نوجوان سے پوچھتا ہوں.... میری مدد کرو، مجھے بتاو¿، یہ سب کیا ماجرا ہے؟ وہ نوجوان مجھے بتایا ہے کہ تمام اخبارات، نیوز چینل نے یہ فیصلہ کیا ہے، اب صرف اور صرف عوام کی خبریں، ان کے انٹرویو، ان کی شادی اور مرگ کی خبریں چلائی جائیں گی۔ کسی صدر، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ اور وزیر کی نہ خبر چلائی جائے گی اور نہ تصویر دکھائی جائے گی۔ یہ لوگ جو خود کو وزیراعظم یا وزیر بتا رہے ہیں، یہ درست کہہ رہے ہیں۔ اس وقت یہی لوگ ہمارے حکمران ہیں، مگر میڈیا کی پالیسی بدلنے کی وجہ سے لوگ ان کے ناموں، کاموں، کارناموں اور شکلوں سے واقف نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کل تک جو لوگ کسی بھی علاقے سے گزرتے ہوئے لوگوں کے راستے بند کر دیتے تھے، اب یہی لوگ عام لوگوں سے راستہ مانگنے کے لئے اپنا تعارف کراتے ہوئے راستہ مانگتے ہیں، مگر لوگ راستہ نہیں دیتے، اس تبدیلی پر بے ساختہ میرے منہ سے ایک بھاری بھر کم سا ”ھاسا“ نکل جاتا ہے۔ میری بیگم، مجھے اٹھنے کا کہتی ہے اور پھر پوچھتی ہے، کیا کوئی خواب دیکھا ہے۔

 مَیں اسے بتاتا ہوں، جو خواب مَیں نے دیکھا ہے، اس کی تعبیر بہت مشکل ہے اور پھر مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ جو قومی سطح کے لیڈران، خود کو قوم کا محبوب قرار دیتے ہوئے نہ جانے کیا کیا دعوے کرتے رہتے ہیں اور میڈیا پر بھی برستے رہتے ہیں، اگر میڈیا والے صرف ایک ہفتے کے لئے ان کا بائیکاٹ کر دیں تو یہ بے چارے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں اور ان کی قومی عظمت کا جنازہ نکل جائے، مگر مجھے معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا، کیونکہ بعض میڈیا فروش بھی تو موجود ہیں۔ جن کی عظمت ان عظیم قومی رہنماو¿ں کی مرہون منت ہے۔ سو مَیں ایک بار پھر خواب سے باہر نکل آیا ہوں۔ اخبار میرے سامنے ہے، فرنٹ پر پہلی خبر ہے کہ ہم بھٹو کے نظرئیے کو آگے بڑھائیں گے، لوگوں کو روٹی، کپڑا اور مکان مہیا کریں گے اور اس کے نیچے بھی ایک خبر ہے کہ میاں منظور وٹو نے کہا ہے کہ وہ پنجاب فتح کرکے رہیں گے۔ ان کی بات درست ہے، وہ پنجاب فتح کر کے رہیں گے، چاہے پیپلز پارٹی باقی رہے یا نہ رہے اور ہاں ایک عدد بیان میرے گرائیں عمران خان کا بھی ہے کہ نواز شریف ”نیا پاکستان“ کیسے بنائیں گے اور مسلم لیگ (ن) کے ایک لیڈر کا جوابی بیان ہے کہ جس نے نیا پاکستان دیکھنا ہے، وہ شہباز شریف کے پنجاب کو دیکھ لے۔ اسے ”نیا پاکستان“ کی جھلک نظر آ جائے گی۔  ٭

مزید : کالم