انتخابات اور سیاسی کارکن

انتخابات اور سیاسی کارکن
انتخابات اور سیاسی کارکن

  

انیس سوپچتر میں جب مَیں سالِ اول کا طالب علم تھا، تو پہلی بار ذوالفقار علی بھٹو کو دیکھا اور تقریر کرتے سنا۔ ملتان کینٹ کے علاقے میں غلام مصطفی کھر کی رہائش گاہ تھی، جہاں کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، بھٹو اُن سے صوفے پر بیٹھ کر خطاب کر رہے تھے۔ اس زمانے میں سیکیورٹی کے ایسے مسائل نہیںتھے، جیسے آج کل ہیں اِس لئے کارکن بلا روک ٹوک وزیراعظم تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ مَیں اگرچہ پیپلزپارٹی کا کا رکن نہیں تھا، لیکن گھر قریب ہونے کی وجہ سے مَیں بھی ذوق نظارہ کے لئے وہاں پہنچ گئے۔ بھٹو کی تقریر کا لب ِ لباب یہ تھا کہ ہم نے عوام کی خدمت کرنی ہے اور کارکنوں کو بھی لوگوں کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار دا کرنا چاہئے۔ اس زمانے میں پیپلزپارٹی کینٹ کے صدر رشید احمد ہوا کرتے تھے۔ وہ تقریر کے دوران کھڑے ہو گئے اور کہا: ”کارکن تو عوام کی خدمت کر ہی رہے ہیں، عوام کی خدمت کرنے والے سیاسی کارکنوں کے مسائل کون حل کرے گا“؟انہوں نے چند سخت جملے بھی کہے اور وزراءکی بے مروتی کا بھی ذکر کیا۔ مجھے ابھی تک وہ منظر یاد ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے سگار کا ایک کش لیا اور کہا: ”جس روز مجھے احساس ہوا کہ پارٹی میں سیاسی کارکنوں کی عزت نہیں رہی، اسی روز مَیں وزارت عظمیٰ اور پارٹی کی چیئرمین شپ چھوڑ دوں گا“۔ اُن کا یہ جملہ اس قدر معنی خیز تھا کہ جہاں کارکنوں نے ان کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے، وہاں پارٹی کے سینئر عہدیداروں اور وزراءکو بھی علم ہو گیا کہ کارکنوں کی کیا اہمیت ہے اور ایسی شکایتیں پارٹی چیئرمین کو کس طرح سیخ پا کر سکتی ہیں؟ پیپلزپارٹی کے بزرگ کارکن آج بھی بھٹو کے دور کو اسی لئے یاد کرتے ہیں کہ وہ کارکنوں کی اہمیت کے حوالے سے ایک یادگار زمانہ تھا۔

آج کی سیاسی جماعتوں کو یہ مخلوق بھولتی جا رہی ہے۔ پارٹیوں میں عہدیدار زیادہ اور کارکن کم نظر آتے ہیں۔ گویا جمہوریت کی خشت ِ اول ہی کمزور پڑ چکی ہے۔ سیاسی جماعتیں جلسوں میں دیگیں پکا کر جہاں کارکنوں کو متاثر کرنے کا سامان کرتی ہیں، وہیں اس سے وہ ہڑبونگ بھی مچتی ہے، جس کے مناظر آئے روز ٹی وی چینلوں پر نظر آتے ہیں۔ آج وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اپنے عوامی جلسوں میں یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ پیپلزپارٹی ہی وہ جماعت ہے، جو سیاسی کارکنوں کو بھی وزیراعظم بنا دیتی ہے۔ وہ خود کو ایک کارکن کہتے ہیں، حالانکہ ایک عرصے سے وہ رہنماﺅں کے دائرے میں رہ کر سیاست کرتے رہے ہیں۔ کیا ضروری ہے کہ ہر کارکن کو وزیراعظم ہی بنایا جائے؟ انہیں جائز اہمیت دے کر بھی تو اُن کی اشک شوئی کی جا سکتی ہے۔ میرا ہمیشہ سے یہ استدلال رہا ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے سیاسی کارکنوں کو اہمیت دینا ضروری ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاسی کارکن عوام کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں اور اُن کی جڑیں بڑی گہری ہوتی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں اُس کی ایلیٹ کلاس اور کارکنوں کے درمیان ایک واضح خلیج نظر آتی ہے۔ طبقہ ¿ اشرافیہ کے لوگ کبھی نہیں چاہتے کہ سیاسی کارکن اُن کے دائرے میں داخل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں سیاسی کارکنوں کو اہمیت دینے کے بلند بانگ دعوﺅں کے باوجود انتخابات میں انہیں ٹکٹ نہیں دیتیں۔ کارکنوں کو انتخابی عمل سے دُور رکھنے کے لئے ایک راستہ یہ بھی نکالا گیا ہے کہ ٹکٹ کی درخواست کے ساتھ بھاری فیس جمع کرانے کی شرط بھی رکھ دی جاتی ہے۔ اس طرح ” نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی“ کے مصداق کارکنوں کے لئے درخواست دینا ہی ناممکن ہو جاتا ہے۔

کہنے کو بہت سی جماعتیں کارکنوں کو اسمبلی میں بھیجنے کا دعویٰ کرتی ہیں، مگر ایک اُچٹتی سی نگاہ ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایسی مثالیں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوتیں۔ خود ایم کیو ایم کی مثال ہی دیکھ لیں۔ یہ کارکنوں کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت کہلاتی تھی، مگر آج اُس کے ارکان اسمبلی متمول کلاس میں شامل نظر آتے ہیں۔ آج کل سیاسی جماعتوں میں بندے توڑنے کی جو دوڑ لگی ہے، اُس میں بھی کسی کارکن کے لئے کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آ رہی، بلکہ وہ نامی گرامی وڈیرے، سردار اور سرمایہ دار، جو ہمیشہ سے انتخابی عمل کو اپنی جاگیر سمجھتے رہے ہیں، پارٹیاں بدل رہے ہیں۔ انہیں شامل کر کے ہر سیاسی جماعت اس طرح فخر اور فتح کا تاثر دے رہی ہے، جیسے انہی لوگوں نے قوم کی تقدیر بدلنی ہے۔ مَیں نے ایسے کئی مناظر اور واقعات دیکھے ہیں جب کوئی نیا شامل ہونے والا پہلے سے قربانیاں دینے والوں پر سبقت لے جاتا ہے اور حقیقی کارکن منہ ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ نہیں ہوتے اور موج میلہ کرتے ہیں، وہ موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب نئے راستے تلاش کرتے ہیں، تو انہیں سیاسی جماعتیں سر آنکھوں پر کیوں بٹھاتی ہیں؟ ایسے تمام افراد مال و دولت کے حوالے سے بہت طاقتور ہوتے ہیں۔ مَیں نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ سیاسی جماعتوں میں کسی غریب، مگر جاں نثار قسم کے سیاسی کارکن کی شمولیت پر بھی کوئی جشن منایا گیا ہو۔ سو دیکھا جائے تو یہ سب کچھ مصنوعی بنیادوں پر کھڑا ایک محل نظر آتا ہے، جو کسی بھی وقت منہدم ہو سکتا ہے۔ ایسا ہم ماضی میں کئی بار دیکھ چکے ہیں اور جمہوریت کی بساط لپیٹنے والوں کو کسی بھی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں چُوری کھانے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور لاٹھی کھانے والے دُور دُور تک دکھائی نہیں دیتے۔

انتخابات قریب آ رہے ہیں اور یقینا سیاسی کارکنوں کی قدرو قیمت بڑھ جائے گی۔ امیدوار بھی اُن کی چاہ پلوسی کریں گے اور سیاسی جماعتیں بھی اُن کے ناز اُٹھائیں گی، مگر اس کے باوجود انہیں اپنی اوقات میں ہی رکھا جائے گا۔ کوئی سیاسی جماعت کارکنوں کو انتخابی ٹکٹ دے گی اور نہ ہی انہیں اس قابل سمجھا جائے گا، جس طرح علاقے کا وڈیرا اپنے کسی مزارعے کو اُٹھنے نہیں دیتا، اسی طرح سیاسی جماعتیں بھی کارکنوں کو دبا کر رکھتی ہیں، کیونکہ سیاسی کارکن اگر اسمبلیوں میں پہنچ جائیں تو جمشید دستی کی طرح تنگ کرتے ہیں۔ وہ سچ بات کہنے سے نہیں چوکتے اور پارٹی کے اندر بھی اپنے حقوق کے لئے شور مچاتے ہیں۔ ہمارا سیاسی کلچر اس قسم کی نافرمانی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہاں تو جمہوریت کے نام پر قائدین اپنی آمریت نافذ کئے ر کھتے ہیں، اگر کوئی زبان کھولتا ہے، تو عبرت کا نشان بنانے میں دیر نہیں کرتے۔ تحریک انصاف نے پارٹی انتخابات کی روایت ڈالی ہے، تو ممکن ہے کہ اس میں کارکنوں کو بھی آگے آنے کا موقع مل جائے۔ ویسے عمران خان تو یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ 50فیصد ٹکٹیں نوجوانوں کو دیں گے۔ اگر وہ ایسا کر گزرتے ہیں، تو پھر یقینا کارکنوں کو بھی آگے لائیں گے، کیونکہ نوجوانوں میں سب امیر کبیر نہیں ہوتے۔ پھر اُن میں پرانے سیاست دانوں کی طرح تمیز بندہ و آقا بھی نہیں ہوتی۔

بھٹو نے اگرچہ کارکنوں کو بڑی اہمیت دی تھی، لیکن اسمبلیوں میں نمائندگی کے حوالے سے وہ بھی اپنے دعوﺅں پر عمل نہیں کرا سکے۔ بعد میں آنے والی حکومتیں بھی کارکنوں کی نمائندگی سے محروم رہیں اور ایک خاص طبقہ ملک پر حکمرانی کرتا رہا۔ آئندہ انتخابات میں یہ عقدہ کھلے گا کہ کون سی جماعت روایت سے ہٹ کر اپنے امیدوار میدان میں اتارتی ہے۔ تبدیلی کی باتیں کرنے والے اگر اپنے عمل سے اسے یقینی نہیں بناتے تو سب دعوے خام ثابت ہوں گے۔ جب تک اسمبلیوں میں سیاسی کارکنوں کو مناسب نمائندگی نہیں ملتی، اس وقت تک یہ اسمبلیاں عوام سے کٹی رہیں گی اور اِن کی کارکردگی عوامی نقطہ ¿ نظر سے ایک سوالیہ نشان ہی رہے گی۔ ٭

مزید : کالم