والدِ مرحوم کے تیر بہدف نسخہ جات!

والدِ مرحوم کے تیر بہدف نسخہ جات!
والدِ مرحوم کے تیر بہدف نسخہ جات!

  

ایک تو ہم بچپن ہی میں فارسی زبان سے تنگ تھے....اباجی مرحوم فارسی شعراءکے اشعار بڑی کثرت سے پڑھا کرتے تھے،جن کی ہمیں ”ککھ“ سمجھ نہیں آتی تھی۔ہمیں ”زورازوری“فردوسی، سعدی،حافظ،رومی وغیرہ کے نام نہ صرف از بر ہوگئے تھے، بلکہ ان کے کئی اشعار بھی لوحِ حافظہ پر نقش ہو کر گئے تھے۔پھر جب بابا فرید الدین گنج شکرؒ کا سالانہ عرس شروع ہوتا تو ہم ریوڑیاں، مکھانے اور بتاشے لوٹنے کی خاطر ہر روز درگاہِ بابا میں جا دھمکتے۔انہی ایام میں شائد موسیقی سے بھی ہمارے کان آشنا ہونا شروع ہوئے۔برصغیر سے تمام مشہور قوالوں کی ٹولیاں آیا کرتیں اور قوالی کی محفلیں آستانے میں جگہ جگہ دیکھنے اور سننے کو ملتیں۔نہ چاہتے ہوئے بھی ہم تالیوں کے تال اور طبلوں کی تھاپ سن کر ان میں سے کسی ایک محفل کا رُخ کرتے۔لیکن ہمیں اس وقت سخت کوفت ہوتی تھی جب قوال کسی ایک ہی مصرع کو بار بار دہراتے جاتے۔ہمیں اگلے مصرعے کا انتظاررہتا، مگر ان قوالوں کی سوئی بس ایک ہی ”فقرے“ پر اٹکی رہتی۔ہم ناچار بددل سے ہو کر کسی اور محفل کا رُخ کرتے تو وہاں بھی یہی عالم دیکھنے کو ملتا۔ لیکن اپنے دائیں بائیں،نظم و ضبط اور احترام و تقدس کا مظاہرہ دیکھ کر ہمیں حیرت ہوتی کہ یہ سب کے سب لوگ اگر دم بخود ہو کر یہ ”فقرے“ سن رہے ہیں تو ان میں کوئی تو حقیقت ہوگی ۔پھر رفتہ رفتہ اس حقیقت کچھ نہ کچھ عرفان بھی ہوتا چلا گیا اور ایک روز جب قوالوں نے فارسی زبان میں وہی غزل گانی شروع کی ،جس کے اشعار والد مرحوم بطور حوالہ کبھی کبھی کوٹ کیا کرتے تھے تو ہمیں ان ”فقرات“ کی اہمیت کا احساس ہونے لگا۔ہرچند کی ان کا ترجمہ ہماری دسترس میں نہ تھا، لیکن بعض اشعاربار بار سن کر یاد ہو گئے تھے....ہماری فارسی دانی یا فارسی فہمی کی ابتداءکے ذمہ دار والد مرحوم کے بعد قوالوں کی یہی ٹولیاں تھیں!

ایک دن نجانے اس کا موقع محل تھا یا نہیں کہ اباجی نے ایک ضرب المثل کا حوالہ دیا،جو اس طرح تھی....”برعکس نہند نامِ زنگی کافور“....والدہ شائد ان کی اس عادت سے خود بھی تنگ آئی ہوئی تھیں، بیزار ہو کر بولیں:”یہ آپ ہر وقت بچوں کو فارسی سنا سنا کر کیوں تنگ کرتے رہتے ہیں؟ دیکھتے نہیں ہو ان کے چہرے آپ کا بھاشن سن سن کر سہمے رہتے ہیں“۔

”دیکھو بھاگوان! یہ جو مَیں نے ان کو ابھی فارسی کی ضرب المثال سنائی ہے ناں، اس کے پیچھے پوری ایک تاریخ ہے“۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

”تو ان معصوموں کو تاریخ پڑھانے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟....کیا سکول کے ماسٹر اس کام کے لئے کافی نہیں ؟“والدہ اپنی بات پر شائد اڑ گئی تھیں۔

”مَیں سوچتا ہوں سکولوں میں شائد ان کو ایسا موقع ملے نہ ملے.... اب دیکھوناں۔یہی مثل ہے ”زنگی“ والی .... تو اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ علاﺅ الدین خلجی کا ایک نہایت دانا اور سمجھ دار وزیر تھا جس کا نام ملک کافور تھا۔لیکن اس کی رنگت کالی سیاہ تھی کیونکہ اس کا تعلق افریقہ کے کسی ملک سے تھا اور افریقی کو فارسی زبان والے ”زنگی“ کہتے ہیں“۔

”تو اس میں بچوں کو سنانے والی کون سی بات ہے۔ اور ہاں یہ مشک کا فور تو ایک خوشبودار دوائی کی ٹکیہ ہوتی ہے۔....اور یہ بھی بچوں کو کیامعلوم کہ علاﺅ الدین خلجی کون تھا؟....اور اس ساری مصیبت کو بچوں کے سر ڈالنے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی آپ کو؟“....والدہ لگاتاربولے جارہی تھیں۔

”اوبیوقوف! میں تمہیں ملک کافور کہہ رہا ہوں اور تم مشک کافور تک جا پہنچی ہو....سنو! یہ ملک کافور چونکہ حبشی تھا اور کافور کا رنگ سفید ہوتا ہے۔تو نام تو اس کا”کافور“ تھا لیکن رنگت کالی تھی۔جب اس کا اوپر کا رنگ کالا تھا تو ماں باپ کو چاہیے تھا ناں کہ اپنے کالے رنگ کے بچے کا نام”سفید“ نہ رکھتے“۔

”تو اس حقیقت کو فارسی میں بتانے کی کیا ضرورت تھی؟....کیا آسان اردو میں ایسی کوئی ضرب المثل نہیں ہے؟“

”ضرور ہے ،بلکہ ایک سے زیادہ ہیں۔لیکن میں بچوں کو اس لئے بتاتا ہوں کہ ان کا علم وسیع ہو، معلومات وسیع ہوں اور ان کو ایک سے زیادہ زبانوں کے مزاج سے آشنائی ہو جائے“۔والد صاحب نے وضاحت کی.... اور پھر کچھ رک کر کہا:”اردو زبان میں اس مثل کی جگہ”پڑھے نہ لکھے نام محمد فاضل“ والی مثل رائج ہے اور ہندی میں یہی بات اس طرح بیان کی گئی ہے:”آنکھ کے اندھے، نام نین سُکھ“

ہم سارے بھائی اس طرح کی باتیں غور سے سنتے رہتے اور دل ہی دل میں نہ چاہتے ہوئے بھی والد صاحب کے فارسی اشعار اور فارسی شعراءکے نام یاد ہوجاتے۔یہی عادت بعد میں ہمارے بہت کام آئی۔نہ صرف ضرب الامثال بلکہ ہر لفظ کے مترادفات ڈھونڈنے کی عادت بھی اسی دور کی دین تھی....ہم فیروزاللغات کھول لیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کا ٹیسٹ لینے بیٹھ جاتے تھے۔ایک پوچھتا:”اچھا بتاﺅ قابلیت کے ہم معنی کون کون سے الفاظ ہیں؟“ تو دوسرا جواب دیتا:”صلاحیت، اہلیت، خوبی، صفت ، اچھائی وغیرہ“۔

اسی طرح جب میٹرک کی کلاس (نویں کلاس) میں پروموشن ملی تو والد مرحوم نے ایک اور طرح سے ہماری خبر لینی شروع کردی....اور فارسی کی جگہ انگریزی نے لے لی۔ خدا جانے انہوں نے کن اساتذہ سے میٹرک کی انگریزی کا درس لیا ہوا تھا کہ ان کو ملٹن، شیکسپئر ورڈز ورتھ، براﺅننگ، کالرج، جان کیٹس وغیرہ کے درجنوں اشعار زبانی یاد تھے۔نہ صرف یہ بلکہ انگریزی کے کئی مقولے (Maxims)بھی ازبر تھے جو وہ اب اکثر و بیشتر اپنی گفتگو میں استعمال کرنے لگے تھے۔اب فارسی شعراءکا تذکرہ خال خال ہی ہوتا جبکہ انگریزی شعراءاور مصنفین کی ”شامت“ آئی رہتی....اس دور کے چند مقولے (یا مصرعے کہہ لیں)اب تک یاد ہیں:

1- Nothing good or bad but thinking makes it so.

2- When wealth is lost something is lost but when health is lost every thing is lost.

3- A thing of a beauty is a joy for ever.

اسی دور میںہمارے کانوں میں ملٹن کی Paradise Lost، ورڈز ورتھ کی Daffodills، کولرج کی Ancient Mariner، شیکسپئر کی Merchant of Veniceاور علاوہ ازیں Ode to west windوغیرہ جیسی منظومات کی آوازیں گونجنے لگیں جو بعد میں جب انگریزی ادبیاتِ عالیہ سے ہمارا واسطہ پڑا تو یہ نام اور ان امتحانی شعراءکی ایسی ہی تخلیقات جانی پہچانی معلوم ہوئیں۔

والد مرحوم کی ایک اور عادت بھی بڑی عجیب و غریب تھی....جب کبھی ان کی طبیعت گدگداتی تو پہلے مجھے آواز دیتے۔جب میں حاضر ہوتا تو پھر فرماتے ،چھوٹے کو بھی لیتے آﺅ۔پھر تیسرے کو بلالیتے....اور جب تینوں بیٹے نگاہیں نیچے کئے ان کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہو جاتے تو روئے سخن میری طرف کرکے پوچھتے۔

”بتاﺅ پرسوں رات کیا کھایا تھا؟“

”ابا جی کھانا کھایا تھا؟“

”اوئے کھانے کے بچے! میں پوچھتا ہوں گھر میں کیا پکا تھا اور روٹی کس سالن کے ساتھ کھائی تھی؟“

”ابا جی !وہ سالن تو امی نے پکایاتھا!“

”حرام خور! کھایا تو تم نے تھاناں؟

....جلدی بتاﺅ پرسوں رات کیا کھایا تھا؟“

اب ہمیں خاک یاد رہتا کہ پرسوں کیا کھایا تھا.... ہمیں تو یہ خبر نہیں ہوتی تھی کہ صبح کے ناشتے میں کیا کھایا تھا۔دماغ پر بہت زور دیتے۔کچھ پتہ نہ چلتا۔آخر سوچ سوچ کر تینوں بھائی بیک وقت ہتھیار ڈال دیتے۔

اتنے میں سب سے چھوٹے کو مخاطب ہوکر فرماتے۔”جاﺅ۔اندر سے میری چھڑی لے آﺅ“۔

یہ دوڈھائی فٹ لمبی اور 1/4انچ نصف قطر کی ایک بید کی چھڑی ہوتی تھی جو ہم نے کئی بار باہر لے جا کر ”نہر بُرد“ کردی تھی لیکن نجانے وہ کیسے دوبارہ آ جاتی تھی۔اب سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ ان جیسی چھڑیوں کی ایک دکان، ہمارے شہیدی بازار، پاک پتن میں ہوا کرتی تھی اور دکاندار کا نام شائد مبارک کمان گر تھا۔وہ دکاندار کم بخت شائد مفت یا تقریباً مفت پیسوں میں وہ چھڑی ابا جی کو بیچ دیا کرتا تھا....ایک دن اس نے ابا جی سے پوچھ ہی لیا:

”خان صاحب یہ جو آپ ہر دو تین ہفتوں کے بعد ایک ہی قسم کی چھڑی خریدتے ہیں تو پہلے والی کہاں جاتی ہے؟“

”یار یہ معمہ میری بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ چھڑی بار بار کون اٹھا لے جاتا ہے....لیکن میرے بچے اس کے ڈر سے کلاس میں ہمیشہ فرسٹ آتے ہیں“۔

سو اس طرح والد صاحب ہم سب پر چھڑی آزمانے کے بعد فرماتے:”اوئے بدبختو! اگر تمہیں پرسوں کا کھایا ہوا یاد نہیں رہتا تو سال بھر کے بعد امتحان کے پرچوں میں کیا لکھ کے آﺅ گے؟“

یہ ایکسرسائز گویا ساری سٹوری کا مارل ہوا کرتی تھی اور ہمارے لئے ایک ریمائنڈر بھی تھی جو ہمیں سالانہ امتحان کا خوف اور اس میں جوابات یاد رکھنے کی عادت راسخ کرنے کا تیر بہدف نسخہ تھا۔

والد کی ایس ہی کئی باتیں کل شب یاد آتی رہیں اور آنکھیں بھیگتی رہیں....سوچتا ہوں ہمارے یہ بزرگ کیسے لوگ تھے!

وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں

اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

مزید : کالم