پلاٹ تقسیم کرنے کی پالیسی ختم کرنے کی سفارش

پلاٹ تقسیم کرنے کی پالیسی ختم کرنے کی سفارش
 پلاٹ تقسیم کرنے کی پالیسی ختم کرنے کی سفارش

  

اسلام آبا(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے اشرافیہ اور من پسندوں کونوازنے کا مشرف کے دورکا خصوصی مراعاتی پیکج  ختم کر نے کی سفارش کردی ہے۔ اس پیکج کے تحت  عدلیہ، بیورو کریٹس کو دیئے گئے پلاٹ   واپس لینے، وزارت دفاع اور پاک فوج کی جانب سے سیاستدانوں، ججوں، بیورو کریٹس اور جرنیلوں کو زرعی زمین کی الاٹمنٹ ختم کرنے، ڈی 12 اور جی 13 میں وزیراعظم کی سفارش پر کئے گئے پلاٹس ٹرانسفر کو ختم کرنے اور سی ڈی اے میں ڈیپوٹیشن پر جانے والوں کو پلاٹ دینے کی پالیسی کو ختم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کمیٹی نے واضح کیا کہ یہ ہدایات بیوہ خواتین اور شہداء کے لواحقین کے لئے نہیں ہیں۔ ندیم افضل چن کی صدارت میں کمیٹی کے اجلاس میں بیورو کریٹس، ججوں اور جرنیلوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ پالیسی کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو سندھ ہاﺅسنگ وزارت کے حکام نے وفاقی ملازمین کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی تفصیلات مہیا نہیں کی۔کمیٹی کی رکن یاسمین رحمان نے کہا کہ پانچ ماہ سے کمیٹی تفصیلات مانگ رہی ہے مگر ان کی جانب سے غیر سنجیدگی کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے سیکرٹری ہاﺅسنگ سندھ، چیف سیکرٹری سندھ اور سیکرٹری سٹیبلشمنٹ کو دس روز میں طلب کرلیا ہے کمیٹی کے رکن  ایاز صادق نے کہا کہ اگر پانچ ماہ میں کچھ نہیں ہوا تو سالوں میں بھی کچھ نہیں ہوگا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ چیف سیکرٹری خود پیش ہوں۔ کمیٹی کو بلوچستان کے حکام نے بتایا کہ بلوچستان کی جانب سے افسران کو 19 پلاٹ دیئے گئے ہیں جن میں چار عدلیہ کے افسران شامل ہیں۔ کمیٹی نے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی فہرست طلب کرلی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ لوگوں کے پاس الاٹمنٹ لیٹر ہیں مگر زمین نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا کے حکام نے بتایا کہ ہماری فیڈرل ملازمین یا صوبائی ملازمین کو پلاٹ دینے کی کوئی پالیسی نہیں ہے اور گورنر، وزیراعلیٰ کا کوئی کوٹہ نہیں ہے۔ کمیٹی نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں شوکت عزیز کی جانب سے خصوصی مراعاتی پیکج کی سمری کو اشرفیہ کے لئے مراعات قرار دیتے ہوئے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس سمری کو واپس لے کر اس مراعاتی پیکج کو فوری طور پر ختم کرے۔ کمیٹی نے افسران کو پلاٹ الاٹ کرنے کے حوالے سے کئے جانے والے حلف ناموں کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حلف ناموں کے ساتھ ساتھ ان کی درستگی کے لئے انکوائری بھی کی جائے۔ کمیٹی نے کہا کہ ہماری سفارشات بیوہ اور شہداء کے لئے نہیں ہیں۔

مزید : رئیل سٹیٹ