بے بس کی موت نے حکومت اور پنجاب اسمبلی کو بھی بے بس کردیا۔ ۔.

بے بس کی موت نے حکومت اور پنجاب اسمبلی کو بھی بے بس کردیا۔ ۔.
بے بس کی موت نے حکومت اور پنجاب اسمبلی کو بھی بے بس کردیا۔ ۔.

  

پنجاب اسمبلی پریس گیلری(نواز طاہرسے) اجرت کے تقاضے پر موت پانے والی اخباری کارکن سیماب افضال کا خون پاک وطن کے سب سے بڑے جمہوری ایوان میں بول پڑا کہ اسے ناحق مارا گیا لیکن حکومت نے بھی خون کا حساب چکانے کی ریاستی ذمہ داری نبھانے میں بے بسی کا اظہار کردیا ۔ غریبوں کی قسمت بدلنے کیلئے منتخب ہونے والے اس ادارے کے ایک رکن کے سوا کسی کو یہ سوچنے کی توفیق نہ ہوئی نہ ہی کسی نے صدائے احتجاج بلند کی کہ آخر حکومت قاتل کو کیفرکردار تک پہنچانے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے یقین دہانی کرانے میں بے بس کیوں ہے ؟ جس وقت یہ معاملہ اسمبلی میں اٹھایا گیا اور اراکین نے حکومتی جواب سن کر خاموشی اختیار کئے رکھی تب اس کے درودیوار شائد پریس گیلری میں بیٹھے کچھ لوگوں کی طرح افسردہ ، ماتم کناں اور حکومت ہی کی طرح بے بس تھے کہ عوامی ترجمانی اور ان کے حقوق کے تحفظ کا حلف اٹھانے والے گنگ کیوں ہیں اور وہ اپنے جسم سے ایک ایک اینٹ ان گونگے بہروں اور مقفل دل والوں پر پھینک کر ان کا ضمیر کیوں نہیں جگا پا رہے ؟ مریدکے نارووال روڈ پر قدیم گاﺅں ’کرتو ‘ کے محنت کش افضال بٹر کی بیٹی سیماب کی ’ شہادت‘ اس وقت ہوئی جب ہر آنکھ عید الفطر کا چاند ڈھونڈ اور سوگوار خاندان بیٹی کی میت لانے والی ایمبولینس دیکھ رہا تھا۔ اسے خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ، عالمی سطح پر بھی احتجاج ہوا اور کچھ دوکانیں بھی چمکیں پھر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا ۔ ایک محنت کش کی بیٹی سے کسی کو کیا غرض تھی جبکہ اس وقت تک اسی گاﺅں اورذات سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر آمنہ بٹر بھی اس ایوان کی رکن تھیں لیکن یہ معاملہ اٹھانے یا سوگوار خاندان سے ہمدردی کی توفیق نہ ہوئی شائد ایک یہ وجہ بھی بنی کہ دوہری شہریت کے نام پر ہی سہی وہ اس ایوان سے ہی نکل گئیں۔ ق لیگ سے ن لیگ کے قریب جا کر لوٹا کہلانے والے شیخ علاﺅالدین نے جمہور سے تعلق کا ثبوت دیا اور یہ معاملہ اٹھایا ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ ادارے محض بلیک میلنگ اور لوٹ مار کیلئے صحافت جیسے مقدس پیشے کو بدنام اور کارکنوں کا استحصال کر رہے ہیں ، ان اداروں کیخلاف کارروائی کی جائے۔ حکومت کی جانب سے دیے جانے والے جواب میں یہ تو تسلیم کیا گیا کہ سیماب نے خود کشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا اور قتل کا مقدمہ درج کرکے حکومت اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئی ہے جبکہ ملزم مفرور ہے ۔ حکومت نے تو بے بسی کا اظہار کر کے مان لیا کہ ریاست غریب شہریوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے یا انتخابی مہم ،تعلیمی اداروں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرکے اپنا مستقبل محفوظ بنانے میں مصروف ہے تو اپوزیشن کو اس خون کے چھینٹے اسلئے نظر نہ آئے کہ اس حلقے سے منتخب ہونے والے خرم گلفام ن لیگ کے پارلیمانی سیکرٹری ہیں ؟ جس وقت شیخ علاﺅالدین کے مطالبے پر حکومت کی جانب سے یہ جواب دیاگیا کہ کارکنوں کی اجرتوں کی ادائیگی اور تعین کا معاملہ وفاقی حکومت کے دائرہ کار میں آتا ہے تو پریس گیلری میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ محکمہ محنت کونسی ٓئینی ترمیم کے تحت اور کب وفاق کے پاس گیا ہے ، تھانے کب سے وزیراعظم کی نگرانی میں چلے گئے ہیں؟؟ کیا پنجاب کی حکمران جماعت یہ نیا پاکستان بنا رہی ہے جس میں محنت کش کی بیٹی کے قاتل گرفتار کرنے پر بے بسی کا اظہار کیا جائے گا اور آئندہ کیلئے غیر فعال اشاعتی ادارے کارکنوں کا قتلِ عام کرتے رہیں گے ؟؟ اس کا جواب پریس گیلری میں جن الفاظ کے ساتھ دیا گیا ، قلم وہ الفاظ تحریر کرنے اور کاغذ انہیں قبول کرنے میں بے بس دکھائی دیا ۔

مزید : لاہور