گھبراہٹ نہیں، عملی اقدامات!

گھبراہٹ نہیں، عملی اقدامات!

  

حیرت اس بات پر ہے کہ ایک مضبوط اور بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے والی حکومت کے وزراءاس قدر پریشانی زیادہ سخت لفظ نہ لگے تو بدحواسی کا مظاہرہ کیوں کررہے ہیں۔یہ بات شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو کہ ملک میں کوئی مڈٹرم انتخابات چاہتا ہے، مگر وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں اس حوالے سے بھی شوشہ چھوڑ دیا ہے کہ بعض طاقتیں انتخابات کے نتائج پر جو سوال اٹھا رہی ہیں، اس پر مڈٹرم انتخابات کی سازش کا شبہ ہوتا ہے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ کیا اینکر پرسن اور کیا عام آدمی اس بحث کا حصہ بن چکا ہے کہ کیا واقعی ملک میں مڈٹرم انتخابات کی فضا بن رہی ہے۔حیرانی تو اس پر بھی ہے کہ مسلم لیگ(ن) خواہ مخوا ایک ایسے کام پر معذرت خواہانہ بلکہ جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے، جو اس نے کیا ہی نہیں، اگر انتخابات میں کہیں گڑ بڑ ہوئی ہے یا جعلی ووٹ ڈالے گئے ہیں اور بالفرض کوئی خاص حلقہ بھی اس سے بے نقاب ہوتا ہے، تب بھی موجودہ حکومت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اگر تو حکومت دوچار ممبران کی اکثریت سے چل رہی ہو، تب یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ایک دو حلقوں میں نتائج منسوخ ہونے پر اس کی اکثریت ختم ہوگئی تو اس کے باقی رہنے کا جواز نہیں رہے گا، لیکن جہاں حکومت کے پاس واضح برتری اور اکثریت ہو، وہاں اس قسم کی کمزوری یا سازش کا شبہ ظاہر کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

جہاں تک مَیں سمجھ سکا ہوں، حکومت کے ذمہ داروں نے ابھی تک بدلے ہوئے حالات کو قبول ہی نہیں کیا۔ابھی تک بقول شخصے وہ شاہانہ اندازِ حکمرانی اپنائے ہوئے ہیں، حالانکہ اس کے دن کب کے لد چکے ہیں۔حکومت کو حالیہ دنوں میں دو بڑی تبدیلیوں پر مزاحمت اور پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پہلی چیئرمین نادر اطارق ملک کی برطرفی اور پھر پیمرا کے چیئرمین رشید احمد کو عجلت میں عہدے سے ہٹانا۔دونوں کیسوں میں عدالت نے حکومت کے احکامات معطل کرکے انہیں اپنے عہدوں پر بحال رکھا۔چیئرمین نادرا کی تبدیلی کے فیصلے نے تو حکومت کو بیک فٹ پر لا کھڑا کیا ہے، کیونکہ ان کے حوالے سے انتخابات کے معاملات بھی کچھ زیادہ مشکوک ہوگئے ہیں۔کہا یہ جا رہا ہے کہ ان کی برطرفی اس لئے عجلت اور غیر قانونی طریقے سے عمل میں آئی کہ وہ لاہور کے دو حلقوں میں انگوٹھوں کی تصدیق کروانے والے تھے۔اگرچہ وزیر داخلہ بعد میں کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ طارق ملک کی برطرفی کا تعلق انگوٹھوں کی تصدیق کے معاملے سے ہرگز نہیں، لیکن انہوں نے اتنی ہی عجلت میں یہ فیصلہ کرکے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا کہ الیکشن کمیشن کو 3ماہ کے لئے نادرا کے انتظامی اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔یہ فیصلہ چونکہ غیر آئینی تھا، اس لئے خود الیکشن کمیشن نے یہ ذمہ داری سنبھالنے سے انکار کردیا، مگر اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حکومت کی نظر میں نادرا کے اندر کچھ نہ کچھ ایسا ہے کہ جسے روکنے اور جس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ایک سیدھا سادہ معاملہ تھا، جسے گھبراہٹ میں بغیر کسی منصوبہ بندی سے کئے گئے فیصلوں نے اس قدر گھمبیر بنا دیا کہ وزیرداخلہ کو اس میں سے مڈٹرم انتخابات کے لئے کی جانے والی سازش کی بُو آنے لگی۔

آنے والے دنوں میں حکومت کو بہت سے دباﺅ برداشت کرنا ہوں گے۔جمہوریت کوئی چھوئی موئی قسم کی شے نہیں کہ جسے کوئی اونچی چھینک بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔جمہوریت تو مضبوط ہی اس وقت ہوتی ہے ،جب اپوزیشن حکومت کو چیلنج کرتی رہے۔آصف علی زرداری اس حوالے سے بہت مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔انہوں نے گزشتہ پانچ برسوں میں ہر قسم کے تھپیڑے برداشت کرنے کے باوجود کہیں بھی اپنی کمزوری کا احساس نہیں ہونے دیا۔عدالتوں میں ”جنگوں“ کے ساتھ ساتھ انہیں سیاسی میدان میں بھی جلسوں، جلوسوں، ریلیوں اور احتجاجی دھرنوں کا سامنا رہا، مگر انہوں نے کبھی یہ شائبہ نہیں ہونے دیا کہ وہ ان سے خوفزدہ ہیں۔پورے پانچ سالہ دور میں انہوں نے ایک بار بھی اپنے کسی وزیر کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ مڈٹرم انتخابات کی بات کرے یا اس کا اشارہ بھی دے، حالانکہ ان کی حکومت اسمبلی میں عددی لحاظ سے اتنی مضبوط نہیں تھی کہ جتنی مسلم لیگ (ن) کی ہے۔یہ ایک کامیاب حکمت عملی تھی اور اس کی بدولت پیپلزپارٹی کی حکومت پانچ سال مکمل کرنے میں کامیاب رہی۔موجودہ حکومت کے زعماءاور ذمہ دارافراد اس حکمتِ عملی سے دور نظر آتے ہیں۔ان کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ پتہ کھڑکنے کی آواز کو بھی ایک سازش سمجھتے ہیں، مثلاً اب یہی دیکھئے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 22دسمبر کو لاہور میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے تو وزیراطلاعات پرویز رشید کا یہ کہہ کہہ کر گلا خشک ہوگیا ہے کہ عمران خان جمہوریت کے خلاف سازش کررہے ہیں، انہیں ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے، جو جمہوریت کو نقصان پہنچا سکتی ہوں، وغیرہ وغیرہ۔عجیب منطق ہے کہ احتجاج مہنگائی کے خلاف کیا جا رہا ہے اور اسے سازش جمہوریت کے خلاف سمجھا جا رہا ہے۔چاہیے تویہ کہ حکومت اپنے فوری اقدامات کے ذریعے عوام کو معاشی ریلیف دینے کا کوئی سامان کرے، اس کی بجائے سارا زور اس بات پر دیا جا رہا ہے کہ احتجاج نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے جمہوریت کمزور ہو جائے گی۔کیا جمہوریت عوام کو بھلا کر ، انہیں بے یارومددگار چھوڑ کر اور ان کے مسائل سے پردہ پوشی کرکے مضبوط ہوتی ہے؟ ایسی جمہوریت پر سے تو عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ایک دن کے احتجاج سے حکومتیں کمزور ہوتی ہیں اور نہ تبدیل کی جا سکتی ہیں۔اگر پی ٹی آئی نے ایک دن کے لئے لاہور میں احتجاج کا اعلان کیا ہے تو اس پر الٹے سیدھے بیانات دینے یا احتجاج کو طاقت کے بل بوتے پر روکنے جیسے فیصلے کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔اس کا نقصان کسی اور کو نہیں، خود ان لوگوں کو ہوتا ہے جو اقتدار میں ہوتے ہیں۔

مجھے تو یوں لگتا ہے کہ حکومتی وزراءکارکردگی کی بجائے مختلف اقسام کے خوف دلا کر اپنی حکومت کو سہارا دینے میں لگے ہوئے ہیں۔چودھری نثار علی خان اور پرویز رشید نے یہی تکنیک استعمال کی ہے تو وزیرخزانہ اسحاق ڈار بھی پیچھے نہیں رہے ہیں۔انہوں نے ڈالر کی پرواز روکنے کے لئے یہ نسخہ ایجاد کیا ہے کہ اس کی قیمت میں کمی کا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔انہوں نے بغیر کسی دلیل کے یہ اعلان کیا ہے کہ ڈالر کی قیمت کو 1999ءکی سطح پر واپس لائیں گے، اس لئے جن لوگوں کے پاس ڈالرز ہیں، وہ روپے میں تبدیل کرالیں۔اس اعلان سے چھوٹا اکاﺅنٹ ہولڈر تو شاید خوفزدہ ہو کر اپنے ڈالرز تبدیل کرالے، مگر جو اس دھندے میں ہوتے ہیں، انہیں ایسی باتوں سے کیونکر بہکایا جا سکتا ہے، انہیں تو اس کا الٹا فائدہ ہی ہوگا کہ وہ لوگوں کے ڈالرز سستے داموں خرید لیں گے اور جب چاہیں گے ڈالرز نایاب کردیں گے۔ماہرین معیشت وزیرخزانہ کے اس اعلان پر اس لئے بھی حیران ہیں کہ معیشت کو بہتر بنائے بغیر روپے کو ایسے اعلانات سے کیونکر مضبوط کیا جا سکتا ہے،جب ایک طرف حکومت بے تحاشہ نوٹ چھاپ کر افراطا زر میں اضافہ کررہی ہو تو وزیرخزانہ کے پاس وہ کون سی جادو کی چھڑی ہے، جس سے وہ ڈالر کی قیمت کو 15سال پہلے کی سطح پر لا سکتے ہیں۔ان کے اس اعلان سے مارکیٹ میں بے یقینی بڑھے گی اور درآمد و برآمدکنندگان بھی ہاتھ کھینچ لیں گے۔ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ملک کا وزیرخزانہ صرف پیش گوئی کے بل بوتے پر اقتصادی فیصلے کرتا ہو۔اگر ڈالر کی قیمت کو حکومت کم کرنا چاہتی ہے تو اسے بھارت جیسے سخت فیصلے کرنا چاہئیں۔یہاں تو کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی، سوائے وزیرخزانہ کی اس تنبیہ کے جو انہوں نے ایسے جاری کردی ہے، جیسے ڈالر کی اُڑان صرف ان کی زبان ہلنے سے رک جائے گی۔

یہ تاثر اب بڑھ رہا ہے کہ حکومت کے پاس تھنک ٹینک کی کمی ہے۔ہر وزیر خود کو عقلِ کل سمجھ کر فیصلے کر رہا ہے۔حالت تو یہ بھی ہے کہ وزراءاسبملی میں جاتے ہی نہیں مبادا انہیں کسی سوال کا جواب نہ دینا پڑے جائے۔یہ صورت حال وزیراعظم محمد نوازشریف کی فوری توجہ چاہتی ہے۔سب سے پہلے تو انہیں اس پہلو پر غور کرنا چاہیے کہ ان کی حکومت کو چھ ماہ بعد ہی اس سطح تک کس چیز نے پہنچایا ہے کہ مڈٹرم انتخابات کی باتیں ہونے لگی ہیں۔دوسری توجہ انہیں عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئے فوری اقدامات پر دینی چاہیے۔نوجوانوں کے لئے قرضہ سکیم ایک طویل عمل ہے، اس سے عوام کو فوری ریلیف نہیں مل سکتا۔بجلی کی قیمتوں،پٹرول کے نرخوں اور عام اشیاءکی آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی نے ایک ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ لوگ کسی اور طرف دیکھنے لگے ہیں۔اس کے لئے عملی قدم نہ اٹھایا گیا تو بات کسی طرف بھی جا سکتی ہے، کیونکہ جب سیاسی مخالفین عوام کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب رہتے ہیں تو پھر خالی خولی بیانات کوئی سہارا نہیں دے سکتے۔  ٭

مزید :

کالم -