محترمہ کی شادی کی سالگرہ، بلاول بھٹو اور پیر پگارو!

محترمہ کی شادی کی سالگرہ، بلاول بھٹو اور پیر پگارو!

  

پیر علی مردان شاہ پیر آف پگارو ہفتم بڑے بذلہ سنج تھے، وہ ذو معنی اور پُرمغز بات کہنے پر قادر تھے۔ فقرے بازی میں بھی اُن کا جواب نہیں تھا۔ سیاست میں بھی انہوں نے اپنا انداز اپنایا تھا، کبھی جماعت کا صدر بننے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا، لیکن عملی صورت ہمیشہ یہ رہی کہ اُن کے سامنے دوسرا چراغ جلنے والا ہی نہیں ہوتا تھا۔ اُن کی بھاری بھر کم شخصیت ہی نے مسلم لیگوں کو یکجا نہ ہونے دیا کہ مسلم لیگوں کو ایک جماعت بنانے کی خواہش کا اظہار تو سب کرتے، لیکن قیادت کے مسئلہ کی وجہ سے عملی اقدام سے گریز کرتے تھے۔ ایک دور تو وہ تھا جب اسلام آباد میں جنرل کونسل کا اجلاس ہوا اور اس میں زبردستی صدارت چھین لی گئی اور پیر پگارو اپنی جماعت کو برقرار رکھنے پر مجبور ہوئے۔ پھر ظفر اللہ جمالی اور ایسے کئی حضرات نے کوشش کی تو پیر پگارو نے مسلم لیگوں کے اتحاد کے لئے پیشکش کر دی کہ جنرل کونسل کے اراکین کی درست فہرست مرتب کرلی جائے اور الیکشن کے لئے اجلاس بلا لیا جائے، وہ نہ تو خود امیدوار ہوں گے اور نہ ہی جنرل کونسل میں جائیں گے۔ متحدہ جنرل کونسل جسے بھی صدر چُن لے گی اُن کو اعتراض نہیں ہو گا۔ اس مقصد کے لئے مسلم لیگ (فنکشنل) کے سیکرٹری رانا محمد اشرف کی قیادت میں کمیٹی بھی بنی۔ خدشہ یا خطرہ یہ تھا کہ بے شک پیر پگارو نے اپنی ذات کو مستثنیٰ کیا ہے، لیکن جنرل کونسل کے اجلاس میں کسی بھی کونسلر نے پیر پگارو کا نام صدارت کے لئے پیش کر دیا تو پھر کیا ہو گا، کسی اور کا چراغ تو نہ جل سکے گا۔ مسلم لیگ کے آئین کے مطابق جنرل کونسل وہ واحد ادارہ ہے جو صدر کا انتخاب کرتا ہے اس کے بعد تمام تر اختیارات صدر کو منتقل ہو جاتے ہیں اور پھر صدر ہی باقی عہدیدار نامزد کرتا ہے۔ اس کی مثال دورِ ایوبی کی ہے جب صدر ایوب نے اقتدار کے لئے ایک جماعت کی ضرورت محسوس کی، تو ان کی نگاہ بھی مسلم لیگ پر ہی گئی، پھر کراچی میں خلیق الزماں کی طرف سے مسلم لیگ کا کنونشن بلایا گیا۔ دوسری طرف نیت بھانپتے ہوئے مسلم لیگ کی جنرل کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا۔ دونوں کا مقصد صدر کا انتخاب تھا۔ خلیق الزمان نے چیف آرگنائزر کے طور پر اختیار استعمال کیا، جبکہ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے آئینی حق استعمال کیا۔ پھر وہی ہوا جو تاریخ میں لکھا ہے۔ کنونشن میں صدر ایوب اور کونسل میں میاں ممتاز دولتانہ کو صدر چُن لیا گیا اور جماعت کنونشن مسلم لیگ اور کونسل مسلم لیگ میں بٹ گئی۔

بات دوسری طرف چلی گئی کہ یادوں کے دریچے کھل جاتے ہیں۔ آج تو دراصل محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی آصف علی زرداری کے ساتھ شادی کی 26ویں سالگرہ کے حوالے سے پیر پگارو کی یاد آئی کہ ان کی کہی بعض باتیں بالکل سچ ثابت ہوئیں، بلکہ یہ کہا جائے کہ پیشگوئیاں پوری ہو گئیں تو غلط نہ ہو گا۔ یہ پیر علی مردان شاہ پیر پگارو تھے، جنہوں نے پہلی بار کہا ”بھٹو آرائیں ہیں“ انہوں نے یہ فقرہ ہماری، سید فاروق شاہ (مرحوم) اور سجاد کرمانی (مرحوم) کی موجودگی میں کہا اور یوں تو ضیح کی کہ پنجاب میں آرائیوں کی ایک نسل بھٹہ کہلاتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے والد کا تعلق بھی اِسی قبیلے سے ہے۔ بھٹہ سندھ میں آ کر بھٹو ہو گیا کہ سندھی میں ”و“استعمال ہوتا ہے۔ یہ بات بہرحال تحقیق طلب ہے۔ یہی پیر پگارو ہی تھے، جنہوں نے نہ صرف اپنے مرید محمد خان جونیجو کے وزیراعظم بننے کے بعد ان کو ادھار دینے کی اصطلاح استعمال کی، بلکہ جماعت بھی اُن کے حوالے کر دی۔

انہی پیرعلی مردان شاہ پیر آف پگارو نے دعویٰ کیا کہ محترمہ کی آصف علی زرداری کے ساتھ شادی میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے۔ یہ کس حد تک حقیقت ہے یہ تو زرداری اور بھٹو خاندان ہی کو علم ہو سکتا ہے، ہو گا کیسے نہ تو آج بیگم نصرت بھٹو اور نہ ہی حاکم علی زرداری دنیا میں موجود ہیں۔ البتہ آصف علی زرداری اس پر تبصرہ کر سکتے ہیں، لیکن ایک بات ہمیں یاد ہے، جو چھپی بھی ہوئی ہے اور روزنامہ ”امروز“ کے صفحات میں محفوظ بھی ہے۔ پیر پگارو ہنس کر کہتے۔ بے نظیر بھٹو کی شادی میں ہمارا بھی دخل ہو گا اور اُن کے ہاں پہلی ولادت صاحبزادے کی ہو گی، جس کا نام بلاول ہو گا اور بلاول مسلم لیگ (ہمارا) کا ہو گا، ولادت کی حد تک تو بات درست ثابت ہوئی، لیکن مسلم لیگ والی بات تو ٹھیک نہیں ہو سکی۔ البتہ بلاول کو پیپلزپارٹی کی سربراہی مل گئی ، پہلے تو وہ دور دور رہے، لیکن اب اُن کی رونمائی ہو گئی اور خود آصف علی زرداری پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

اِن سطور کے لکھتے وقت بہت کچھ یاد آ رہا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو خود اِس دنیا میں نہیں۔ یہ دن رات والی بات ہے کہ آج اُن کی شادی کی سالگرہ ہے ،تو چند روز بعد (27دسمبر) وہ دن ہو گا جب اس ہنستی، مسکراتی ہستی کو لیاقت باغ (راولپنڈی) کے عقب میں خون میں نہلا دیا گیا اور وہ دُنیا سے رخصت ہو گئیں۔ پیپلزپارٹی کا بانی جماعت ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اب یہ بھی نعرہ ہے ” زندہ ہے، بی بی زندہ ہے“ اور اِسی زندہ بی بی کی یہ تقریب بھی منائی جا رہی ہے، یقینا کئی ایک تقریبات ہوں گی اور کیک بھی کٹیں گے اور خراج عقیدت بھی پیش کیا جائے گا۔

ہمیں ہی کیا ہم جیسے بہت سے اور میانہ رو اشخاص کو وہ یاد آ ر ہی ہوں گی کہ آج ملک جن حالات سے دوچار ہے، جن خطرات اور خدشات میں گھرا ہوا ہے وہ اُن کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں کہ محترمہ نے پاکستان واپسی سے قبل سیاست میں مفاہمت اور روا داری کی مثال پیدا کی۔ نوابزادہ نصر اللہ مرحوم کی کاوش کا احترام کیا۔ ایک دور میں پی ڈی ایف بنا تو ایئر مارشل اصغر خان کے ساتھ بیٹھنے میں اعتراض نہ ہوا۔ اس سے پہلے بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ آمریت کے خلاف جدوجہد کے لئے ایم آر ڈی کو سراہا، تو اے آر ڈی میں مسلم لیگ(ن) کے ساتھ شامل ہوئیں اور پھر وہ دن بھی آیا جب لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط کئے اور مفاہمت کی سیاست کا آغاز کیا، جس کی آج شدت سے ضرورت ہے اور یقینا محترمہ کو یاد بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے بعد آصف علی زرداری نے کوئی اور قدم اٹھایا وہ تو مفاہمت میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ اپنے پانچ سال پورے کرنے کے بعد میاں محمد نواز شریف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ محترمہ ہوتیں تو یقینا وہ بھی اپنی اس روایت پر عمل کرتیں، لیکن ایک سوال ضرور پوچھا جا سکتا ہے: ”کیا محترمہ زندہ ہوتیں تو پیپلزپارٹی بھی ایسی ہوتی جیسی اب ہے“۔   ٭

مزید :

کالم -