شہباز شریف کے غیر ملکی دورے

شہباز شریف کے غیر ملکی دورے

  

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف لاہور میں کم کم ہی نظر آتے ہیں، بہانے بہانے سے باہر رہ رہے ہیں، کبھی چین، کبھی ترکی اور کبھی ہندوستان، لاہور ان کے لئے ممنوعہ علاقہ بنتا جارہا ہے، انہوں نے تو بھارت کا دورہ بھی ایسے کیا ہے جیسے چین کا یا پھر ترکی کا کیا تھا، سوائے ترقیاتی کاموںکے اور کچھ نہیں دیکھا، کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ وہ غیر ملکوں میں ترقی کے کام محض لاہور میں اپنے کئے ہوئے ترقیاتی کاموں سے موازنے کی خاطر ہی دیکھتے ہیں !

بات صرف یہاں نہیں رک جاتی کہ وہ خود لاہور میں کم کم نظر آرہے ہیں، بلکہ اب کے لاہور میں ترقیاتی کاموں کی رفتار بھی سست روی کی شکار ہے، رنگ روڈ کا منصوبہ زمین پر کم اور کاغذوں میں زیادہ رینگ رہا ہے، یہی حال دوسرے شہروںمیں میٹروبس کے منصوبے کا ہے، وہ مستعدی اور برق رفتاری دیکھنے میں نہیں آرہی ہے جو شہباز شریف کے گزشتہ ادوارحکومت کا خاصہ تھی!

اور تو اور اس بار تو بیوروکریسی کی نیندیں بھی حرام نہیں ہو رہی ہیں، ان میں صبح آٹھ سے رات آٹھ بجے تک کام کرنے کا جنون عنقا ہے، وہ خوف اور دہشت کا ماحول نہیں ہے جو پہلے شہباز شریف کے نام سے جڑا ہوا تھا، یہی نہیں، بلکہ وہ جوش اور جذبہ بھی دیکھنے میں نہیں آرہا ہے جو جاوید اسلم کے زمانے میں دیکھنے میں آتا تھا، ہم تو پہلے ہی سمجھ گئے تھے کہ نوید اکرم چیمہ کو چیف سیکرٹری پنجاب لگایا ہی اس لئے گیا ہے کہ اس بار پنجاب کی بیوروکریسی سے خاص کارکردگی کے مظاہرے کی ضرورت نہیں ہے، وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ تھے تو وہ جیتتے جیتتے میچ ہار جاتی تھی، یہ تو پھر پنجاب کی لمبی چوڑی بیوروکریسی ہے، یہ کیسے ان کے ہوتے مستعد ہو سکتی ہے!یوں کہئے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ترجیحات میں اب کے بہت بڑی شفٹ آچکی ہے، ان کے معمولات اور اوقات کارمیں واضح تبدیلی آچکی ہے۔

ایک وقت تھا کہ وہ ترکی کو بروزن ترقی پڑھتے تھے ، پھر چِین سے چَین پانے لگے اور اب ہندوستان کی تان اڑاتے پھر رہے ہیں، خدا معلوم وہ لاہور کو کیا بنانا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ وہ امریکہ اور برطانیہ کیوں نہیں جاتے، ویسے پنجاب میں ایسا کیا ہورہا ہے کہ انہوں نے راہ فرار اختیار کی ہوئی ہے، دیگر صوبوں کے بھی وزیر اعلیٰ ہیں، وہ تو اس طرح صوبہ بدر نہیں ہوئے ہیں جس طرح شہباز شریف ہو چکے ہیں، اب تو لگتا ہے کہ وہ لاہور میں بھی ہوں تو بھی دورے پر ہی ہوتے ہیں، اسلام آباد کے دورے پر، رفتار ہے کہ ان کے پاﺅں کے ساتھ بندھی ہوئی ہے:

یوں دل کبھی تہہ و بالا ہوتے نہیں دیکھے

اک شخص کے پاﺅں سے تو بھونچال بندھے تھے!

صوبائی اسمبلی سے ان کی غیر حاضری پر اپوزیشن بھی سیخ پا نہیں ہو رہی ہے، شاید وہ بھی سمجھ گئے ہیں کہ ان کا صوبائی اسمبلی میں آنا ممکن بھی نہیں اور ٹھیک بھی نہیں، سچ پوچھئے تو شہباز شریف لاہوریوں سے چھپتے پھر رہے ہیں، پتہ نہیں کن کے ساتھ لکن میٹی کھیل رہے ہیں کہ پکڑائی نہیں دے رہے، ہاتھ نہیں آرہے، اب تو حمزہ بھی عشوہ و غمزہ سنوار کر نہیں گھومتے۔

وہ ہندوستان تشریف لے گئے ، وزیر اعظم نواز شریف کا خصوصی پیغام من موہن سنگھ تک پہنچایا، سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیغام ان سے قبل جانے والے سرتاج عزیز نہیں پہنچا سکتے تھے، ادھر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف جب کہتے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان باہمی تجارت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو یہ بات کہہ کر وہ ہندوستان کو خوش کرتے ہیں اور جب کہتے کہ مسئلہ کشمیر کا حل ہونا ضروری ہے تو یہ کہہ کر وہ پاکستانیوں کو خوش کرتے ہیں، ان تجزیہ کاروں کا یہ بھی اصرار ہے کہ ہماری قیادت (یعنی شریف برادران) کشمیر کے مسئلے پر عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ آیا ہندوستانی قیادت اپنے عوام سے جھوٹ نہیں بولتی جب وہ امن کی آشا کی بات کرتے ہوئے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرتی ہے!

وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی لاہور سے مسلسل غیر حاضری کا پہلا فائدہ عمران خان اٹھانے لگے ہیں جنہوں نے 22دسمبرکو مہنگائی کے خلاف مال روڈ پر احتجاجی جلسے کا اعلان کیا ہے ، حالانکہ مہنگائی جلسے جلوسوں سے جانے والی ہوتی تو سب سے پہلے جلسہ حکومت خود کرتی ، لیکن عمران خان بھی چھلانگوں پر چھلانگیں لگا رہے ہیں، خیبر پختونخوا میں نیٹو کے ٹرک روک کر بھارت نکل جاتے ہیں، وہاں سے آتے ہیں تو سپریم کورٹ جا پہنچتے ہیں اور وہاں سے فارغ ہوتے ہیں تو لاہور آدھمکتے ہیں، ویسے اشیائے ضروررت کی چیزیں کافی حد تک نیچے آچکی ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ 22دسمبر کے آتے آتے مہنگائی گہری کھائی میں گر چکی ہو اور مال روڈ پر عمران خان کا مٹر گشت سوائے ٹائم پاس کے اور کچھ نہ ہو!

ایسا لگتا ہے کہ شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب رہ رہ کر بور ہو چکے ہیں، اس کام میں اب انہیں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی، کئے ہوئے کام کو دوبارہ سے کرنے میں ان کا دل نہیں لگ رہا ، اب ان کا شوق ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کریں، ایسا ہے تو بہتر ہے وزیر اعظم انہیں وفاق میں بلوالیں اور اپنا ڈپٹی بنالیں ، ان کی جگہ پنجاب میں کسی کو فل ٹائم وزیر اعلیٰ تعینات کریں،تاکہ یہاں کی بیوروکریسی کو کام کی عادت پڑی رہے!    ٭

مزید :

کالم -