پٹواری بادشاہ اور شریف خادم

پٹواری بادشاہ اور شریف خادم

  

اےک مشہور واقعہ ہے کہ گاو¿ں کی گلی سے اےک پٹواری صاحب گزر رہے تھے، بغل مےں بستہ لئے ان کا انداز کسی مغل شہزادے سے کم نہےں تھا ۔ خراماں خراماں چل رہے تھے جیسے بغل مےں پوری دنےا کو سمےٹ رکھا ہو۔ گلی کی نکڑ پر اےک کتا بےٹھا تھا ۔معلوم نہےں وہ کتا اندھا تھا ےا اس کو زےادہ نظر آتا تھا ۔اچانک پٹواری صاحب پر بھونک پڑا ۔اس اچانک حملے پر پٹواری صاحب تھوڑا سا ڈرے۔۔۔ دوڑے اور پھر گلی کے آخری کونے مےں پہنچ کر اس وفادار جانور کو مخاطب کےا اور گرج دار آواز مےں بولے۔۔۔کم بخت تجھے پتہ ہی نہےں مےں کون، تجھے مےری طاقت کا اندازہ ہی نہےں۔ خےر تمہارا اس مےں قصور بھی نہےں۔ کاش تمہارے نام زمےن کا کچھ ٹکڑا ہوتا۔۔۔تو تم اےک پٹواری پر بھونکنے کی جرات کبھی نہ کرتے ۔“ اگرچہ پٹواری نے ےہ بات غصے مےں کہی، لےکن ےہ تلخ حقےقت ہے کہ پٹواری کی طاقت کا اندازہ وہی شخص کر سکتا ہے جس کے نام پر زمےن کا کوئی ٹکڑا ہو ۔

انگرےز کے زمانے سے اےک کہاوت مشہور ہے ۔۔۔ کہ اےک گورا ڈپٹی کمشنر کسی گاو¿ں مےں آےااور وہاں پراےک بڑھےا کے دےرےنہ مسئلے کو بڑی نرم دلی سے سلجھاےا ۔عمر رسےدہ عورت انگرےز افسر کے روےے سے بہت خوش ہوئی اور اسے دعا دی کہ ” اللہ تمہےں پٹواری بنا دے “۔ڈپٹی کمشنر اور اس کے ساتھ والے اہلکار اس دعا سے حےران رہ گئے اور بڑھےا سے کہنے لگے۔۔۔ بڑی اماں۔۔۔ ےہ آپ کےا کہہ رہی ہےں۔۔۔ صاحب بہادر بہت بڑے افسر ہےں ۔ پورے ضلع مےں ان کا حکم چلتا ہے۔ پٹواری کاعہدہ تو مرتبے مےں ان سے بہت کم ہے۔۔۔ بڑی اماں نے ان کی بات کی قطعاً پرواہ نہ کی اور بولی ”ہو ں گے بڑے افسر پر جو بات پٹواری کی ہے ۔۔ا س کا کوئی مقابلہ نہےں “ ۔

کسی زمانے مےں کہتے تھے کہ خاندان مےں اےک پٹواری بن جائے تو کئی نسلےں سنور جاتی ہےں۔ پٹوار سسٹم مےں خوبےاں اور خامےاں اپنی جگہ .... پٹوارےوں کی موجےں ہر دور مےں رہےں ۔۔جےسے سنار کے بارے مےں کہتے ہےں کہ سونا کہےں بھی ہو، اصل مالک سنار ہوتا ہے اور چل پھر کر سونے کے زےورات نے سنار کے پاس ہی پہنچنا ہوتا ہے۔ اسی طرح پٹواری بھی۔۔۔ زمےن کا اصل مالک ہے ۔زمےن کسی کے نام بھی ہو۔۔۔حقےقت مےں ملکےت پٹواری کی ہوتی ہے ۔ہاں وہ وقتی طور پر جس کو چاہے مالک بنا دے۔ پٹواری سے آزادی کے لئے حکومتی سطح پر مختلف ادوار مےں کوششےں ہوتی رہی ہےں لےکن قسمت نے پٹواری کا ساتھ دےا اور وہ بلا شرکت غےر زمےن کا مالک رہازمےن اےک مرلہ ہو ےا اےک مربع پٹواری سے فرد ملکےت حاصل کرنا۔۔۔زمےن حاصل کرنے سے زےادہ مشکل ہے ۔

مجموعی طور پر اس وقت عدالتوں مےں جتنے دےوانی کےس ہےںان مےں90 فےصد کے مقدمے پٹواری کی مہربانےوں کی وجہ سے ہےں ۔ےہی وجہ ہے کہ پٹواری بہادر چھوٹی سی صف پر بےٹھ کر برملا ےہ کہتا ہے کہ ”مےرے قلم کے لکھے کو سپرےم کورٹ بھی بدل نہےں سکتی “

چھوٹے مےاں صاحب کو نہ جانے کےا سوجھی ہے کہ اتنی طاقت ور ہستی سے مقابلے کی ٹھان لی ہے ۔وےسے تو مےاں صاحب کا کہنا ہے کہ وہ پٹواری کے خلاف نہےں۔۔۔ پٹواری کلچر کو تبدےل کرنا چاہتے ہےں ۔ دوسرے لفظوں مےں پٹواری سے وہ بھی براہ راست ٹکر نہےں لےنا چاہتے ۔پٹواری نظام کو بدل کر پٹواری سے اختےارات چھےن لےنا چاہتے ہےں،حالانکہ انہےں پتہ ہونا چاہئے کہ پورے ضلع کے سرکاری اور غےر سرکاری اخراجات بچارے پٹواری ہی چلاتے ہےں ۔ضلع کے اعلیٰ افسراں پٹواری صاحب کو صرف اےک پےغام بھےجتے ہےں کہ فلاں دعوت کا انتظام کر دو ۔ فلاں مہمانوں کی آو¿ بھگت مےں کوئی کسر نہ رہے ۔جلسے کے لئے اتنے افراد لاو¿ ۔۔۔اس کے علاوہ بھی ضلع کے مالی معاملات میں پٹواری بچارہ مددگار ہوتا ہے ۔ہاں رشوت کے ان گنت گناہ اس بچارے کے سر پر آ جاتے ہےں۔ سزا بھی اس کے لئے ہے اور جزا بھی اس کے لئے ہے۔

ایک پٹواری نے کےا سچی بات کہی ۔۔۔کہ جناب ہمےں پتہ ہے کہ رشوت دےنے اور رشوت لےنے والا دونوں جہنمی ہےں اسی لئے ہم رشوت لےتے بھی ہےں اور رشوت دےتے بھی ہےں اس لئے ہمارا عقےدہ ہے کہ اگلے جہاں مےں ۔۔۔بڑے بڑے افسراں بھی ہمارے ساتھ ہی آگ کی ٹھنڈک مےں ہوں گے ۔مےاں شہباز شرےف اےک متحرک اور رعب دار شخصےت ہےں، مچھر کو پکڑ سکتے ہےں تو پٹواری کو پکڑنا کون سا مشکل ہے ۔پچھلے دنوں اےک اعلیٰ سرکاری افسرکوبا غ جناح مےں سےرکے دوران بینچ پر بیٹھے دیکھا جو ساتھی افسر سے باتیں کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ۔۔۔ ہمےں اتناڈےنگی مچھر سے ڈر نہےں لگتا۔۔۔۔ جتنا وزےراعلیٰ شہباز شرےف سے لگتا ہے۔کچھ دنوں قبل کھانے پےنے کی چےزوں کی قیمتوں مےں اضافہ ہوا۔۔۔۔ تو شہباز شرےف اےک بار پھر حرکت مےں آ گئے تو مصنوعی مہنگائی پےدا کرنے والے اتنی تےزی سے چھپے کہ صرف دو ہفتوں مےں قےمتےں آسمان سے زمےن پر آ گئےں اور جس طرح پھلوں اور سبزےوں کی قےمت کم ہوئی۔۔ماضی مےں اس کی مثال نہےں ملتی ۔اب مےاں صاحب ۔۔۔آپ کا پٹواری سے مقابلہ ہے ۔

پٹوارخانے کو کمپےوٹرائزڈ کرنے کے حوالے سے اےک پٹواری نے کہا کہ مےاں صاحب کو اندازہ ہی نہےں ۔۔کہ وہ کرسی پر بےٹھ کر بادشاہ بنتے ہےں اور ہم بغےر کرسی کے بادشاہ ہےں ۔ ہم نے پٹواری صاحب کی بات سے اتفاق نہےں کےا کےونکہ معاملہ اس بار الٹ ہے ۔پٹواری بغےر کرسی کے خودساختہ بادشاہ بنا ہوا ہے، لےکن مےاں شہباز شرےف بادشاہ کی کرسی پر بےٹھ کر بھی خادم بنے ہوئے ہیں۔اس مقابلے مےں کون جےتے گا۔۔۔اس پر کوئی د و رائے نہےں ۔۔۔!!    ٭



مزید :

کالم -