حقوق سے محروم امریکی سیاہ فام اور میرے ہم وطن

حقوق سے محروم امریکی سیاہ فام اور میرے ہم وطن

  

امریکہ کے اعلان آزادی سے لے کر آج تک 237سال ہو چکے ہیں، جبکہ 232سال کے بعد پہلی بار ایک سیاہ فام امریکہ کا صدر منتخب ہوا۔ آج تک کوئی عورت اس ملک کی صدر منتخب نہیں ہوئی۔ شاید امریکہ کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز ہیلری کلنٹن کے حصے میں آئے، جو اب پوری طرح صدارتی انتخاب کے مقابلے میں اترنے کے لئے تیار ہے۔ امریکہ کی آزادی، جسے اب امریکی تاریخ میں امریکی انقلاب کا نام دیا جاتا ہے، سیاہ فاموں کی آزادی ہر گز نہیںتھی۔ سیاہ فاموں کو برائے نام اعلان کی حد تک آزادی بھی بہت بعد میں حاصل ہوئی۔ امریکی سول وار کے بارے میں بعض امریکیوں کا یہ دعویٰ محل نظر ہے کہ یہ جنگ غلامی کے خاتمے کے لئے تھی، جنوب کی ریاستیں کنفیڈریشن چاہتی تھیں، جبکہ شمال ایک وفاقی مملکت کا حامی تھا۔ جنوب کی ریاستوں کا خیال تھا کہ شمال دراصل اُن کی آزادی سلب کرنا چاہتا تھا۔ اب یہ ایک اور بات تھی کہ انہی جنوبی ریاستوں میں غلامی بدترین شکل میں موجود تھی اور یہ ریاستیں اس منافع بخش کاروبار سے بھی دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھیں۔ یہ ریاستیں آج بھی مرکز سے خوش نہیں ہیں، حتیٰ کہ بعض ریاستیں وفاقی ٹیکس بھی ادا نہیں کرتیں۔ ان ریاستوں میں آج بھی یہ خیال پایا جاتا ہے کہ مرکز سے کبھی نہ کبھی ان کی جنگ ضرور ہو گی۔ ان ریاستوں میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں، جو اس خیال کے پیش نظر اپنے گھروں میں تہہ خانے تعمیرکرتے ہیں، جہاں روزمرہ استعمال کی اشیاءکا ذخیرہ رکھتے ہیں۔ ہتھیار اور گولہ بارود جمع کرتے رہتے ہیں اور ہنگامی حالت میں بجلی، روشنی، پانی اور خشک خوراک وغیرہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے جتن کرتے ہیں۔

سیاہ فاموں کے ساتھ امریکہ کی آزادی سے قبل جو کچھ ہوتا رہا، وہ اس قدر لرزہ خیز ہے، جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی کتاب، کوئی فلم اس کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتی۔ فیلیکس ہیلی کا حقائق پر مبنی ناول ”روٹس“ اور اس پر بننے و الی ٹی وی سیریل اس کے کچھ گوشوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ پادری اپنی موجودگی میں ان کالوں کو کوڑے مارنے اور بیل گاڑیوں کے پیچھے باندھ کر گھسیٹنے کی سزائیں دلایا کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ یہ احکام خداوندی کے تحت ہو رہا ہے۔ گورے مالکان تازہ دم جوان غلاموں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے باقاعدہ مویشیوں کی نسل کشی کی طرح صحت مند کالے مردوں اور عورتوں کے بچے پیدا کراتے اور خود بھی یہ فریضہ انجام دیتے تھے۔ دوغلی نسل کے کتے کو ”Mutt“ جبکہ کالی غلام عورت سے گورے آقا کے بچے کو ”Mulatto“ کہا جاتا تھا۔ یہ بات گوروں میں راسخ تھی کہ ”Mutt“ چوکیداری کے لئے اور ”Mulatto“ غلامی کے لئے بہترین نسلیں ہیں۔ آج بھی کسی سرچ انجن میں دیکھ لیں، ابراہم لنکن کے غلاموں کے لئے آزادی کے اعلان کے باوجود غلاموں کو مکمل آزادی حاصل نہیں ہو پائی تھی۔

1963ءمیں صدر کینیڈی کی شہری آزادیوں کی تقریر کو بھی تاریخی اہمیت حاصل ہے اور اسے بھی غلامی کے خاتمے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ الاباما یونیورسٹی میں دو سیاہ فام طلبہ کے داخلے پر معاملہ بہت بڑھ گیا تھا۔ سفید فام ان طلبہ کو داخلہ لینے نہیں دے رہے تھے۔ الاباما کی ناردرن ڈسٹرکٹ کی عدالت نے طلبہ کو داخلہ دینے کے احکامات جاری کر دیئے۔ اب اگر ان طلبہ کو داخلہ نہ ملتا تو حکومت پر تو ہین عدالت لازم آتا۔ کینیڈی نے نیشنل گارڈ کو حکم دیا کہ اُن کی نگرانی میں ان سیاہ فام طلبہ کو داخلہ دلایا جائے۔ اس موقع پر صدر کینیڈی نے شہری آزادیوں کے حوالے سے ایک جذباتی تقریر کی اور کہا کہ صدر ابراہم لنکن کے اعلان آزادی غلاماں کے سو سال بعد بھی سیاہ فام ابھی تک غلام چلے آ رہے ہیں۔ صدر کینیڈی کے قتل کے بارے میں الگ الگ نقطہ ¿ ہائے نظر ہیں۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ سیاہ فاموں کو برابر کے شہری حقوق دینے کی وجہ سے انہیں قتل کیا گیا۔ یہ حقیقت بھی دلچسپ ہے کہ سیاہ فاموں کے حقوق کا علمبردار سیاہ نام داعی میلکم ایکس(بعد میں ملک الشہباز) کا قتل بھی اِسی سلسلے کی کڑی تھا، اس کے قتل کا معمہ بھی حل نہ ہو سکا۔

ایک امریکی صدر کا یہ اعتراف کہ سو سال بعد بھی سیاہ فاموں کو شہری حقوق حاصل نہیں ہیں اور ان کی غلامی ختم نہیں ہوئی، ایک ایسا اعتراف گناہ تھا، جس کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک عرصے تک سیاہ فاموں کے سکول الگ تھے۔ اُن کے لئے بسیں الگ تھیں یا بسوں میں سیاہ فاموں کا حصہ الگ تھا، وہ گوروں والے حصے میں نہیں بیٹھ سکتے تھے اور یہ مشہور بات محض افسانہ نہیں، ایک تلخ حقیقت ہے کہ ریستورانوں کے دروازے پر لکھا جاتا تھا کہ سیاہ فام اندر نہیں آ سکتے۔ نفرت کا انداز یہ تھا کہ بعض ریستوران یہ لکھنا ضروری سمجھتے تھے کہ ”کتے اور سیاہ فام اندر نہیں آ سکتے“۔ گویا سیاہ فاموں کو جانور سے ملایا جاتا تھا۔ جس طرح عیسائی پادریوں نے اس خیال کو پھیلایا کہ عورت میں روح نہیں ہوتی، اِسی طرح یہ بھی عام خیال تھا کہ سیاہ فام انسانی روح سے محروم مخلوق ہیں۔ آج بھی اکثر سیاہ فاموں کے چرچ الگ ہیں اور گوروں کے الگ ہیں، آج بھی بعض گورے ”ماہرین جینیات“ ایسی کتابیں لکھ رہے ہیں، جن کے ذریعے وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جینیاتی لحاظ سے سیاہ فام کم تر درجے کی مخلوق ہیں یا محض کسی قدر باشعور حیوان ہیں، جبکہ گورے انسانیت کے اعلیٰ ترین نمونہ ہیں، اس لئے گوروں کو قدرت نے دوسری نسلوں پر برتری دے رکھی ہے۔

میرے گزشتہ کئی کالموں میں ان حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ آج بھی امریکہ میں سیاہ فاموں کو انصاف میں برابری میسر نہیں ہے۔ امریکی قانون اور نظام عدل گوروں سے مختلف سلوک روا رکھتا ہے اور سیاہ فام سے بالکل ہی مختلف سلوک روا رکھتا ہے۔ سیاہ فاموں کے احتجاج میں عام طور پر ایک نعرہ سننے یا پڑھنے میں آتا ہے.... ”انصاف نہیں تو امن نہیں“۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاہ فام اب بھی انصاف کے حقیقی مفہوم سے محروم ہیں۔ ہمارے ہاں بھی بعض طبقے انصاف اور برابری سے محروم ہیں۔ اگرچہ ہمارے ہاں غلامی کی وہ صورت نہیں، لیکن حقوق طلبی کی جنگ بے حقیقت بھی نہیں ہے۔ تمام انصاف پسند طبقوں کو حقوق سے محروم طبقوں کے حقوق کے لئے آواز بھی بلند کرنی چاہئے اور سخت جدوجہد بھی کرنا چاہئے، لیکن امریکہ کے سیاہ فاموں سے ایک سبق سیکھا جا سکتا ہے۔ امریکی سیاہ فاموں کی غلامی اور اب ایک طرح کی نیم غلامی، انصاف سے محرومی اور عدالتوں میں سیاہ فاموں سے اُن کی رنگت کی وجہ سے امتیازی سلوک کے باوجود مَیں نے آج تک کسی سیاہ نام سے نہیں سنا، کسی سیاہ فام کی تحریر میں نہیں پڑھا اور کسی ایسی وڈیو یا فلم میں، جس میں سیاہ فاموں پر ڈھائے جانے والے مظالم دکھائے گئے ہوں کہ کسی سیاہ فام نے کبھی اپنے ملک امریکہ کو بُرا کہا ہو، اپنے ملک کو کوسا ہو۔

سیاہ فام امریکی اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، کتابیں لکھتے ہیں۔ حکومت، انتظامیہ، پولیس اور نظام انصاف کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، لیکن کبھی کسی نے امریکہ کے لئے کوئی سخت لفظ استعمال نہیں کیا، حالانکہ انہیں آئین کی دوسری ترمیم اظہار خیال کی کھلی چھٹی دیتی ہے۔ آج تک مَیں نے کسی سیاہ فام احتجاجی جلوس یا کسی تنظیم کو اقوام متحدہ کو یاد داشت پیش کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ کسی دوسرے ملک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نہیں پایا۔ کسی دوسرے ملک میں جا کر امریکہ اور امریکی نظام کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ گورے تو بغاوت کر کے روس اور کیوبا بھی چلے جاتے ہیں، کسی سیاہ فام نے اب تک یہ حرکت نہیں کی۔ اب آپ سوچیں پاکستان میں جن لوگوں کو شکایات ہیں، کیا اُن کی شکایات امریکی سیاہ فاموں سے زیادہ ہیں، کیا اُن کے ساتھ ان سیاہ فا موں سے زیادہ ظلم ہو رہا ہے؟ ہمارے یہ ہم وطن دوسرے ملکوں میں جا کر پاکستان کے ظلم و ستم کی داستانیں سناتے ہیں۔ دوسرے ملکوں سے اس مقصد کے لئے امداد بھی حاصل کرتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات کے لئے اقوام متحدہ کو بھی یاد داشتیں پیش کرتے ہیں۔ قارئین! مَیں ان تنظیموں، ان پارٹیوں اور ان نام نہاد قومیتوں وغیرہ کے نام نہیں لکھ رہا۔ وہ خود سوچیں کہ اُن کو بھی حب الوطنی کا دعویٰ ہے؟ مَیں سمجھتا ہوں کہ حب الوطنی تو وہی ہے، جس کا مظاہرہ امریکی سیاہ نام کرتے ہیں۔ افسوس ہے ہمارے حقوق غصب کرنے والوں پر بھی اور حقوق طلب کرنے والوں پر بھی کہ اُن میں نسلوں سے غلام سیاہ فاموں جتنی حب الوطنی بھی نہیں ہے، حالانکہ اُن سیاہ فاموں کے اجداد تو افریقہ سے خرید کر لائے گئے تھے۔ ہمارا تو اسی سرزمین سے رشتہ ہے۔      ٭

مزید :

کالم -