کالے قوانین کا اطلاق اور نظر بندیاں کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں،سید علی گیلانی

کالے قوانین کا اطلاق اور نظر بندیاں کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں،سید ...

  

سرینگر(این این آئی)کل جماعتی حریت کانفرنس(گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کالے قوانین کا اطلاق اور نظر بندیاں کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں،بھارت کو آخر کار بوریا بستر گول کرنا ہو گا،حفیظ اللہ سمیت کئی رہنماءعدالتی احکا مات کے باوجود زیر حراست ہیں۔اپنے ایک بیان میں سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس کے رہنماو¿ں حفیظ اللہ مسرت عالم بٹ، امیرِ حمزہ، محمد یوسف فلاحی اور شکیل احمد بٹ سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آزادی پسند لیڈروں کو محض انتقام گیری کے باعث نہیں چھوڑ رہی ہے اور انہیں جیلوں میں بھی تنگ اور ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گیلانی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی ریڈکراس کمیٹی کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیری نظربندوں کی حالتِ زار کا فوری نوٹس لیں اور ان کی رہائی کے لےے بھارتی حکومت پردباوڈالیں۔انھوں نے کہا کہ تحریک حریت کے صدرِ ضلع اسلام آباد میر حفیظ اللہ چند دن کے وقفے کو چھوڑ 2008 سے مسلسل نظربند ہیں اور اس عرصے کے دوران میں ان پر دس سے زیادہ بار کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیا ہے اور عدالت عالیہ کے احکامات کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جارہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سب سے عجیب معاملہ یہ ہے کہ میر حفیظ اللہ پر ایک جیسے الزامات کے تحت بار بار پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا ہے، جب کہ آئین وقانون میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ ایک بار عدالت عالیہ نے انہیں رہا کرانے کے احکامات صادر کئے تو ضلع انتظامیہ کا یہ اختیار ہی نہیں کہ ان ہی الزامات کی بنیاد پر انہیں دوبارہ پی ایس اے کے تحت جیل بھیج دیا جائے ۔ گیلانی نے کہا کہ کسی شہری پر پبلک سیفٹی ایکٹ ظاہری طور ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے لگایا جاتا ہے، البتہ یہ اصل میں پولیس کی طرف سے تیار کیا جاتا ہے اور ڈی سی حضرات اس پر آنکھیں بند کرکے دستخط کرتے ہیں، جبکہ آئین کی رو سے انہیں دیکھ لینا چاہےے تھا کہ پولیس کسی شہری پر بار بار پی ایس اے کا اطلاق نہیں کرسکتی ہے اور انہیں اس کی مخالفت کرنی چاہےے تھی۔ آزادی پسند راہنما نے کہا کہ اس سلسلے میں ڈی سی حضرات البتہ ربڑ کی مہروں کی مانند کام کرتے ہیں اور ان میں اتنی جرات ہی نہیں ہوتی کہ وہ پولیس کی طرف سے تیار کئے گئے پی ایس اے آرڈر پر اپنی طرف سے ایک جملہ بھی کہہ سکیں۔

مزید :

عالمی منظر -