معافی کس سے اور کس لئے ؟

معافی کس سے اور کس لئے ؟
 معافی کس سے اور کس لئے ؟

  



 (3) مصنف نے راء کی کارروائیوں اور بھارتی حکومت کی مشرقی اور مغربی پاکستان سے متعلق سوچ، پالیسی اور منصوبوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ہندوستان کا خیال تھا کہ ساٹھ کے عشرے میں بھارتی ریاستوں ناگالینڈ اور میزورام میں اٹھنے والی علیحدگی کی تحریکوں کے پیچھے پاکستان کی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ تھا۔ اسی لئے اندرا گاندھی نے 1968ء میں حتمی فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان کے مشرقی بازو کو کاٹ کر بنگلہ دیش قائم کیا جائے۔ مصنف نے ساٹھ کے عشرے میں ،بالخصوص مشرقی پاکستان میں را کی کارروائی کے حوالے سے حکومت پاکستان اور فوج کی ناقص حکمت عملی کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتاہے کہ پاکستان کی حکومت ،فوج اور خفیہ ایجنسیاں اتنی غیر محتاط اور غیر ذمہ دار تھیں کہ یحییٰ خان مشرقی کمان سے فون کے ذریعے رابطہ رکھتاتھا ۔ اگر مشرقی کمان سے رابطے کے لئے کوئی خفیہ پیغام رسانی کا نظام موجود بھی تھا، تو اس کا مکمل علم را کو حاصل تھا اور اس پیغام رسانی کی پوری تفصیل اندرا گاندھی کو مہیا کی جاتی تھی۔ آگے چل کر جی دامن لکھتا ہے کہ پاکستان کو یہ خدشہ تھا کہ بھارت بنگلہ دیش کی طرح پاکستان کے مغربی حصے، خاص طورپر بلوچستان میں بھی مداخلت کرے گا۔ مصنف ایک طرف تو مشرقی محاذ پر را کی کامیاب کارروائیوں پر خوشی اور فخر کا اظہار کرتا ہے اور دوسری طرف یہ اعتراف بھی کرتاہے کہ مغربی محاذ پر را کو اس طرح کامیابی حاصل نہ ہوسکی، جیسی کہ مشرقی محاذ پر ہوئی۔ جی رامن اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ بلوچستان ان کے لئے ایک نرم ہدف تھا، لیکن بین الاقوامی برادری کے ردعمل کے خدشے کی وجہ سے اور دوسراایران کے ممکنہ شکوک وشبہات کی وجہ سے را نے اس محاذ پر زیادہ سرگرمی نہیں دکھائی۔ بھارت کا خیال تھا کہ بلوچستان میں کارروائی کی وجہ سے ایرانی بلوچوں کو شہ ملتی اور اس سے ایران کے ناراض ہونے کا خدشہ موجود تھا۔ اگر یک بار پیچھے مڑ کر ساٹھ کے عشرے کے اواخر کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بڑی واضح ہوجاتی ہے کہ اس وقت ہندوستان کی مداخلت کے لئے حالات کتنے سازگارتھے ۔ عمومی طورپر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجہ 1970ء کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنا قرار دیا جاتا ہے، لیکن کیا کسی نے کبھی یہ سوچا کہ جماعت اسلامی کے سوا دیگر کتنی جماعتوں نے ملک کے دونوں حصوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے ؟ پیپلزپارٹی نے صرف مغربی پاکستان میں اور عوامی لیگ نے صرف مشرقی پاکستان کو ہی اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز کیوں بنایا ؟ دوران انتخاب مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے علاوہ کسی اور امیدوار کو اپنی انتخابی مہم چلانے کی اجازت کیوں نہیں تھی ؟ پلٹن میدان میں جماعت اسلامی کا جلسہ عوامی لیگ کے غنڈوں نے کیوں نہ ہونے دیا ؟ کیا اس کے باوجود 1970ء کے انتخابات آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تھے ؟  پھر ظاہری طورپر ایوب خان کو فوجی آمر اور جابر قراردے کر تاشقند کے معاہدے کے بعد جمہوری مجلس عمل کے تحت جو تحریک چلائی گئی، اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ اسی تحریک کے تحت مجیب الرحمن کو اگر تلہ سازش سے بری قرار دے کر رہا کیا گیا، مگر آج کے حقائق یہ بتاتے ہیں کہ نہ تو اگر تلہ سازش کیس مصنوعی تھا اور نہ ہی مجیب الرحمن بے گناہ۔ وہ نہ صرف اگر تلہ سازش کیس میں ملوث تھا ، بلکہ اس نے ہندوستان سے مل کر مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے کی مکمل منصوبہ بندی کی تھی۔ آج پھر پاکستان کو تقریباً ویسے ہی حالات کا سامنا ہے۔ ایک طرف بلوچستان میں قوم پرستوں کی تحریک جاری ہے اور دوسری طرف انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک۔ ڈرون حملے اور دہشت گردی کی کارروائیاں اس کے علاوہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے حالات کا تجزیہ سانحہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں کیا جائے۔ اس وقت پاکستان میں ایسے حالات پیدا کئے گئے ہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیاں اندرونی حالات میں الجھ کر رہ گئی ہیں اور پاکستان کے اردگرد ، سرحدوں پر منڈلاتے خطرات اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے جاری سازشوں پر یہ ایجنسیاں نظر رکھنے سے قاصر ہیں۔ آج کی صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، بشمول مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف، مل کر پاکستان کو موجودہ صورت حال سے نکالنے کا بندوبست کریں اور پاکستان کی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو اندرونی معاملات سے نجات دلا کر بیرونی سرحدوں اور مخالف ہمسایہ ممالک کی طرف سے روارکھی جانے والی کارروائیوں کے سدباب کے لئے تیار کریں تاکہ باقی ماندہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہوسکے۔ (ختم شد)

مزید : کالم