شاہ رخ کو دھمکیوں کے بعد پہلی فلم نمائش کیلئے پیش کر دی گئی

شاہ رخ کو دھمکیوں کے بعد پہلی فلم نمائش کیلئے پیش کر دی گئی

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  اپنے ایک بے ضرر سے بیان کی وجہ سے انتہا پسند ہندوؤں کے قہر کا نشانہ بننے والے سپرسٹار شاہ رخ خان کی ایک اور فلم ’’دل والے‘‘ پورے بھارت اور دنیا بھر میں 18 دسمبر کو ریلیز ہوگئی۔ اگرچہ انتہا پسندوں نے کہیں کہیں فلم کے پوسٹر پھاڑے، سینماؤں میں توڑ پھوڑ کی اور احتجاج بھی کیا لیکن بھارت کے باہر تو ان انتہا پسندوں کا بس نہیں چلتا۔ عرصے سے اس فلم کی آمد کے چرچے تھے کہ اس دوران شاہ رخ خان نے ایک بیان دیا جس میں کہا گیا کہ بھارت میں انتہا پسندی فروغ پذیر ہے اور یہ ملک کے لئے اچھی علامت نہیں۔ ان کے بیوی اور بچے خوفزدہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی اور جگہ جاکر رہا جائے۔ بس اس بیان کا آنا تھا کہ انتہا پسندوں نے شاہ رخ خان کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ ان کے گھر کا گھیراؤ کیا، ان کی فلموں کے پوسٹر اور بینر پھاڑ دئیے اور لوگوں سے اپیلیں کیں کہ ان کی فلموں کا بائیکاٹ کریں، لیکن فلم کے پریمیئر شو سے ہی پتہ چل گیا کہ انتہا پسندوں کی یہ اپیل شائقین فلم پر اثر انداز نہیں ہوسکی اور شاہ رخ خان پر ان انتہا پسندوں کا یہ وار اکارت گیا ہے جو کہتے تھے کہ اگر ہندو، شاہ رخ کی فلم نہ دیکھیں تو وہ سڑک پر آجائیں۔ فلم کا بھارت اور دنیا بھر میں زبردست سواگت ہوا ہے اور فلمی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایک ہفتے کے اندر یہ فلم 100 کروڑ روپے کا بزنس کرے گی۔ اس فلم میں شاہ رخ کے مقابل ہیروئن کاجل ہے جس کی ایک فلم ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘ بہت ہٹ ہوئی تھی۔ اس فلم کو پہلی فلم کی دوسری قسط یا دوسرا حصہ کہا جاسکتا ہے۔

بھارت میں سیاستدان روزانہ کسی نہ کسی موضوع پر متنازعہ بیان دیتے رہتے ہیں اور اگلے ہی دن اپنے بیان سے مکر جاتے ہیں، لیکن شاہ رخ خان کو جو سیاستدان نہیں، فنکار ہیں اس طرح کی کوئی رعایت دینے کے لئے تیار نہیں۔ حالانکہ وہ اپنے بیان کی وضاحت بار بار کرچکے اور اپنی حب الوطنی کا یقین بھی دلا چکے ہیں لیکن جن لوگوں نے فن اور کلچر کو بھی سیاست اور انتہا پسندی کی نذر کر دیا ہے وہ شاہ رخ کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں، لیکن فلم بینوں نے جن میں ہندو پیش پیش تھے، انتہا پسندوں کو مسترد کر دیا اور فلم دیکھنے کے لئے سینماؤں میں پہنچ کر یہ ثابت کیا کہ وہ شاہ رخ کے بیان کو نہ تو متنازعہ سمجھتے ہیں اور نہ اس سلسلے میں انتہا پسندانہ خیالات رکھتے ہیں، جب یہ بیان منظر عام پر آیا تھا تو بھارت کی تمام فلم انڈسٹری شاہ رخ کے ساتھ کھڑی ہوگئی تھی اور انہوں نے نہ صرف ان کے بیان کی تائید کی بلکہ یہ بھی کہا کہ جو لوگ ان کی فلم کے پوسٹر وغیرہ پھاڑ رہے ہیں وہ انتہا پسند ہیں۔ لوگ یہ فلم اس لئے بھی دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ کاجل لمبے عرصے کے بعد دوبارہ فلموں میں جلوہ گر ہوئی ہیں، اس فلم میں شاہ رخ کا ایک ڈائیلاگ بھی بڑا ہٹ جا رہا ہے جس میں وہ کہتے ہیں ’’جب سے ہم شریف ہوئے ہیں ہر کوئی بدمعاش ہوگیا ہے‘‘ فلم ڈائریکٹر شیٹی نے جنوری 2015ء میں فلم ’’دل والے‘‘ کے پراجیکٹ کا اعلان کیا تھا۔ مارچ میں فلم سازی شروع ہوئی، جو اب سینماؤں میں نمائش کے لئے پیش کی گئی ہے۔ بھارت کے علاوہ آسٹریلیا، ناروے، پاکستان، میانمار، برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور جنوبی افریقہ میں فلم نمائش کے لئے پیش کر دی گئی ہے۔ اگرچہ اخبارات کے تبصروں میں فلم کو ہدف تنقید بھی بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ فلم میں کوئی تازگی نہیں، فلم صرف شاہ رخ اور کاجل کے مداحوں کو ہی پسند آئے گی۔ دوسروں کے لئے اس میں کوئی کشش نہیں۔ بعض تبصرہ نگاروں کے بقول شاہ رخ اور کاجل کی جوڑی اس فلم میں بیک فائر کر گئی ہے، این ڈی ٹی وی موویز کا بھی تبصرہ یہی ہے کہ فلم شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام رہی، تاہم فلم ڈائریکٹر روہیت شیٹی کو یقین ہے کہ فلم باکس آفس پر کامیاب رہے گی۔

’’دل والے‘‘ کے ساتھ ’’فلم باجی راؤ مستانی‘‘ بھی آج سینماؤں میں نمائش کے لئے پیش کر دی گئی جو مقابلتاً کم تر درجے کی فلم ہے لیکن اس کے پروڈیوسر کا خیال تھا کہ اگر اس کو اب نمائش کے لئے پیش نہیں کیا گیا تو شائقین کی ساری توجہ ’’دل والے‘‘ پر مرکوز رہے گی اور کئی ہفتے چلنے کے بعد لوگ مستانی کی طرف راغب نہیں ہوں گے، اگلے ہفتے کرسچیئن ورلڈ میں کرسمس کی چھٹیاں ہو جائیں گی اور لوگ کرسمس کا تہوار منانے میں مصروف ہوں گے۔ اس لئے عین ممکن ہے کہ باجی راؤ مستانی توقع کے مطابق بزنس نہ کرسکے۔

مزید : تجزیہ