’’ میں مردوں کے جسم سے یہ چیز نکال کر بے حد شوق سے پیتی ہوں اور پچھلے 20 سال سے روز۔۔۔‘‘ خاتون نے ایسا انکشاف کر دیا کہ کوئی مرد پاس سے گزرنے کی بھی ہمت نہ کرے

’’ میں مردوں کے جسم سے یہ چیز نکال کر بے حد شوق سے پیتی ہوں اور پچھلے 20 سال سے ...
’’ میں مردوں کے جسم سے یہ چیز نکال کر بے حد شوق سے پیتی ہوں اور پچھلے 20 سال سے روز۔۔۔‘‘ خاتون نے ایسا انکشاف کر دیا کہ کوئی مرد پاس سے گزرنے کی بھی ہمت نہ کرے

  

سڈنی (نیوز ڈیسک) انسانوں کا خون پینے والے ڈریکولا کی خوفناک کہانی تو آپ نے ضرور سنی ہو گی، لیکن آسٹریلیا کی ریاست کوئنز لینڈ سے تعلق رکھنے والی خاتون جارجینا کونڈن حقیقی دنیا میں پائی جانے والی جیتی جاگتی ڈریکولا ہے، جو انسانی خون پیئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ۔

میل آن لائن آسٹریلیا کی رپورٹ کے مطابق جارجینا 12 سال کی عمر سے ہی خون پینے کی عادی ہو گئی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ بچپن میں اپنے جسم پر زخم لگایا کرتی تھی اور اس سے نکلنے والا خون چوس لیا کرتی تھی۔ رفتہ رفتہ وہ خون پینے کی لت میں ایسی مبتلا ہوئی کہ اس کے بغیر زندہ رہنا مشکل نظر آنے لگا۔

جارجینا نے بتایا کہ وہ جوان ہوئی تو نائٹ کلبوں کا رخ کرنے لگی جہاں اسے کسی بھی اور چیز سے زیادہ ایسے مردوں کی تلاش ہوتی تھی جو اسے اپنا خون پلانے پر تیار ہوں ۔ جارجینا کا کہنا ہے کہ اکثر مرد اس پر بخوشی تیار ہو جاتے تھے اور بعض عورتیں بھی اس کی طلب پوری کرتی رہی ہیں۔ تین سال قبل اس کی ملاقات زامیل نامی نوجوان سے ہوئی جو اب اس کا شریک حیات ہے۔ وہ اب کہیں اور بھٹکنے کی بجائے اکثر اوقات زامیل کا خون ہی پیتی ہے۔جارجینا نے بتایا کہ وہ اپنے شریک حیات کے جسم پر بلیڈ سے زخم لگاتی ہے اور جب اس سے خون نکلتا ہے تو اسے چوسنا شروع کر دیتی ہے۔ وہ یہ کام ہفتے میں ایک بار کرتی ہے اور اگر طلب زیادہ محسوس ہو تو پھر کسی اور شخص کی تلاش میں بھی نکل جاتی ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس