پانی میں ڈوبی غار، تیراک نے غوطہ لگایا تو اس کی تہہ میں ایسی چیز مل گئی کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ۔۔۔

پانی میں ڈوبی غار، تیراک نے غوطہ لگایا تو اس کی تہہ میں ایسی چیز مل گئی کہ ...
پانی میں ڈوبی غار، تیراک نے غوطہ لگایا تو اس کی تہہ میں ایسی چیز مل گئی کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میکسیکو سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کے ایک غوطہ خور نے میکسیکو میں پانی میں ڈوبی ہوئی ایک غار میں غوطہ لگایا۔ جب وہ 100فٹ گہرائی میں پہنچا تو ایسا منظر نظر آ گیا کہ اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق 45سالہ ٹام سینٹ جارج میکسیکو کے علاقے سینوٹ انجیلیٹا میں پانی میں ڈوبی ہوئی غاروں کے ایک سلسلے میں پیراکی کر رہا تھا۔ جب وہ ایک غار میں گہرائی میں پہنچا تو اسے وہاں ایک ’جھیل‘ نظر آ گئی۔ پانی کی سو فٹ گہرائی میں قدرت کا یہ مظہر دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔ جھیل میں ٹوٹی پھوٹی لکڑیوں اور مٹی وغیرہ کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا اور یوں لگتا تھا جیسے یہ کوئی جزیرہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ جھیل دراصل ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس تھی جو یہاں بڑی مقدار میں جمع ہو چکی تھی۔ یہ گیس اس وقت پیدا ہوتی ہے جب میٹھا پانی کھارے پانی سے ملتا ہے۔ ٹام کا کہنا تھا کہ ’’سینوٹ انجیلیٹا کے یہ غار غوطہ خوری کے لیے بہت معروف ہیں۔ یہاں غوطہ خوری کرنا بہت حیران کن تجربہ ہوتا ہے تاہم قدرے خوفزدہ بھی کرتا ہے۔ اس زیرزمین جزیرے کے اوپر اور اردگرد پیراکی کرنا اور ہائیڈروجن سلفائیڈ کے ’بادل‘ کے اندر سے گزرنا بہت منفرد تجربہ ہے۔ ‘‘ رپورٹ کے مطابق میکسیکو کے اس علاقے میں 300میل کے علاقے میں زیر آب غاریں موجود ہیں جو ساڑھے6ہزار سال قبل چٹانیں سرکنے کے باعث وجود میں آئی تھیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس