سند ھ طاس معاہدے میں تبدیلی قبول نہیں

سند ھ طاس معاہدے میں تبدیلی قبول نہیں

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کرے گا۔پاکستان کا اصولوں پر مبنی موقف معاہدے کے مطابق ہے۔ سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہونا چاہئے۔ جبکہ حال ہی میں بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان سے دو طرفہ مذاکرات کے لئے رضامندی ظاہر کی ہے۔

بھارت نے ورلڈ بینک کو تجویز دی ہے کہ جلد بازی نہ کی جائے اس حوالے سے مزید مشاورت کی جائے۔ سابق سندھ طاس کمشنر جماعت علی شاہ نے کہا کہ ورلڈ بینک نے جو آبی تنازعہ حل کرنے کے لیے مہلت دی ہے اس میں دونوں ممالک کی رضا مندی شامل ہے۔ 'لیکن ورلڈ بینک نے جو زیادتی کی وہ یہ ہے کہ اس نے بھارت کی جانب سے غیر جانبدار ماہر کی تقرری کی درخواست منظور کی۔ ایک ایشو کے حل کے لئے ایک ہی جگہ پر دو کورٹس یا دو طریقہ کار کیسے اپنائے جاسکتے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے بتایا کہ حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس سارے معاملے میں بہت اہم ہے۔ اس سے پہلے جب اس اندیشے کا اظہار کیا جاتا تھا تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ انتہائی قدم ہے جو کبھی نہیں اٹھایا جائے گا۔ جب یہ بات بھارتی قیادت کی جانب سے کہی گئی کہ معاہدہ ختم کر کے پانی روکا جاسکتا ہے تو پاکستان کا یہ اندیشہ حقیقت میں تبدیل ہوا اور اس کے باعث عدم اعتماد بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

پاکستان نے بھارت کی جانب سے 2 متنازعہ آبی منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے معاملے کو لٹکانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو سندھ طاس معاہدے میں کوئی ترمیم یا تبدیلی قبول نہیں۔ اس سے قبل بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان سے مذاکرات کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کی گئی تھی مگر ساتھ ہی مزید وقت بھی مانگا گیا تھا۔ طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان کی پوزیشن معاہدے میں شامل اصولوں کے عین مطابق ہے اور معاہدے پر مکمل عمل اور اس کی قدر کیے جانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر کوئی نظرثانی نہیں کی جاسکتی۔ بھارت نے پہلے ہی متنازعہ 330 میگا واٹ کا کشن گنگا اور 850 میگاواٹ کا ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ لگا رکھا ہے۔ بھارت دریائے چناب اور کشن گنگا پرمزید منصوبے بھی بنا رہا ہے اور یہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی ماہرین نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے اگر بھارت نے پانی روکنے کے اعلان پر عمل کیا تو دونوں ممالک کے درمیان مسلح جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

سندھ طاس معاہدہ ایک تفصیلی معاہدہ ہے۔ اس میں کوئی ایسی شق نہیں جس کے تحت ایک ریاست یکطرفہ طور پر نظرثانی کر سکے۔ سندھ طاس معاہدے سے باہر نکلنے کی کوئی شق نہیں ہے کہ ایک فریق جب چاہے واک آؤٹ کر جائے اور اگر انڈیا ایسا کرتا ہے تو وہ بین الاقوامی قانون سے متصادم پوزیشن لے رہا ہے جس کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی نہیں ہو گی۔ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ہے کہ کسی ایک ملک نے کسی بین الاقوامی معاہدے پر نظرثانی کی ہو اور اس کے تحت عائد ذمہ داریاں ادا کرنے سے انکار کیا ہو۔ ایسے معاہدے حکومتوں کی بجائے ریاستوں کے مابین طے پاتے ہیں اور ریاستیں ہی ان پر عمل درآمد کی پابند ہوتی ہیں اور ان سے آسانی سے باہر نہیں نکلا جا سکتا۔ معاہدے پر نظرثانی کے بارے میں انڈین اعلانات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو یہ ایک جارحانہ اقدام تصور ہو گا جسے امن اور سلامتی کے لیے ایک خطرے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔اگر ایسی صورت حال ہو تو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اس بارے میں ازخود نوٹس لے سکتے ہیں۔

سید جماعت علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ستلج، بیاس اور راوی کے 26 ملین ایکٹر فٹ پانی کی قربانی دے کر سندھ جہلم اور چناب کے پانی کو استعمال کرنے کا حق حاصل کیا ہے۔ انڈیا کو ان تین دریاؤں کے پانی کے محدود استعمال کا حق حاصل ہے اور وہ محدود طور پانی کو ذخیرہ کر سکتا ہے، بجلی پیدا کر سکتا ہے، زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور پینے کے لیے اپنے شہریوں کو فراہم کر سکتا ہے۔اگر ہم قربانی نہ دیتے تو انڈیا راجستھان میں پانی کیسے پہنچا سکتا تھا؟ یہ ہماری قربانی کا ہی نتیجہ تھا کہ انڈیا اندرا گاندھی نہر نکال کر پانی کو راجستھان کے ریگستانوں تک لے جا سکا۔ انڈیا پہلے بھی حیلے بہانوں کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو متنازع بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔پہلے کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ نے اپنے بیانات کے ذریعے اسے متنازع بنانے کی کوشش کی، پھر اندرا گاندھی اور واجپائی نے ایسا کیا اور اب وزیر اعظم مودی ایسا کر رہے ہیں۔ کل وزیر اعظم مودی کہہ رہے تھے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ملکر غربت کے خلاف جنگ کریں گے اور آج اپنے بیان سے پاکستان کے بیس کروڑ عوام کے معاشی قتل کی بات کر رہے ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...