16 دسمبر کی طاقتور آواز

16 دسمبر کی طاقتور آواز

اس بار 16 دسمبرچپ چاپ گزر نے ہی والا تھا کہ ناصر باغ لاہور میں ایک طاقتور آواز بلند ہوئی ۔لیکن ٹہریے ! اس آواز کی گونج سننے سے پہلے کچھ دُکھ یاد کر لیجئے ! 16دسمبر 2سال پہلے آیا اورآرمی پبلک سکول پشاور کے ننھے پھولوں کے خون کے چھینٹے ہماری روح پر چھوڑ گیا۔ 16دسمبر 1971ء میں آیا تو سقوطِ ڈھاکہ کا بہت بڑا زخم ہمارے دلوں کو دے گیا۔ ہمارے بڑے 1947 ء میں جلی کٹی اور خون میں ڈوبی لاشیں دفنانے پاکستان پہنچے تھے لیکن 1971 ء میں جو کچھ دیکھنا پڑا وہ بھی کسی خوفناک خواب سے کم نہ تھا ۔71 ء کی جنگ کے وقت بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا جسے مشرقی پاکستان کہا جاتاتھا ، پھر ہم جنگ ہار گئے ، ہتھیار پھینکنے پڑے، وہاں موجود ہماری افواج جنگی قیدی بن گئیں ، لاکھوں پاکستانی بنگلہ دیش میں پھنس گئے ، لاشوں کا نیا سلسلہ تھا اور ہماری بد قسمت دیکھنے والی آنکھیں تھیں ۔ جی ہاں ! ہم ہجرتوں ، شکستوں اور دہشتگردیوں کی ماری قوم ہیں ، ہمیں دلاسا دینے والی کوئی آوازکم ہی ابھرتی ہے ،پھر ایک آواز مقبوضہ کشمیر کے نہتے ، معصوم کشمیریوں کو حوصلہ دینے کیلئے لاہور سے بلند ہوئی ،یہ آواز پروفیسر حافظ محمد سعید کی تھی ، جسے سُن کر آج بھی بھارتی ماؤں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں اور وہ اپنے خوفزدہ بچوں کو چھپاتی پھرتی ہیں ۔یقیناًبھارت سمیت امریکہ و یورپ کو حافظ محمد سعید کی آواز ناگوار گزرتی ہے ، لیکن افسوس ان پاکستانیوں پر ہے جو بھارت یاترا کی خواہش پوری کرنے کے لئے حافظ سعید کی آواز پر لال پیلے ہو جاتے ہیں ،وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ،وزیرداخلہ راجناتھ اور بال ٹھاکرے کی دھمکیوں پر تو کان نہیں دھرتے البتہ حافظ سعید کی آواز دب جانے کے سپنے دن رات ضرور دیکھتے ہیں۔

حافظ سعید نے 1990ء میں لشکر طیبہ کی بنیاد رکھی، انہیں بار بار نظر بند کیا گیا ، پہلی بار ان کو تب نظر بند کیا گیا جب بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا ،پھردسمبر2001ء آیا ،مُمبئی حملے ہوئے اور ان حملوں کے بعد حافظ سعید کو پانچ ساتھیوں سمیت دوبارہ گرفتار کر لیا گیا لیکن کچھ ہی ماہ بعد حکومت پاکستان کو خود ہی یہ کہہ کر انہیں رہا کرنا پڑا کہ بھارتی حکومت حافظ سعید کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر سکی ۔ ادھربھارت کئی باراُن کی حوالگی کا مطالبہ کر چکا ہے،انہی کی آواز اِس 16دسمبر کو لاہور کے ناصر باغ میں گونجی ہے ، یہ آواز بھارتی دہشتگرد حکومت کو للکار رہی تھی اور کہہ رہی تھی ۔۔

اب یہ پاکستان 71ء والا پاکستان نہیں ، اب ہم ایٹمی قوت ہیں ، ہماری حکومت اگر بھارت سے نرم مزاجی سے پیش آرہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہم سوئے ہوئے ہیں ۔‘‘ انہوں نے اقوام عالم کو کشمیرمیں بھارتی سفاکیت کا چہرہ دکھاتے ہوئے کہا کہ بھارت کبھی آزاد کشمیر میں سکول کے معصوم بچوں پر راکٹ برساتا ہے اور کبھی آرمی پبلک سکول پشاور کے ننھے پھولوں کے خون کی ہولی کھیلتا ہے ،انہوں نے قوم کو بھارتی وزیراعظم کا وہ بیان بھی یاد دلایا جس میں مودی نے بنگلہ دیش بنوانے اور پاکستان توڑنے کا اعتراف کیا اور حسینہ واجد کے ہاتھوں میڈل وصول کیے۔ صاحبو ! ہم خوش ہیں کہ پاکستانی حکمرانوں کے علاوہ اس ملک میں کوئی ایسی آواز ہے جو ببانگ دہل بھارتی مودیوں ، راجناتھوں اور بال ٹھاکروں کو للکارتی ہے، اس جماعت کی ’’فلاح انسانیت‘‘ تنظیم پاکستان سمیت دنیا بھر کے انسانوں کی خدمت کرتی نظر آتی ہے، کہیں سیلاب ہو ، دہشتگردی کا واقعہ ہو ، بھارتی ظلم و ستم کے ستائے کشمیری ہوں ، زلزلہ ہو ،فلاح انسانیت سب سے پہلے پہنچتی ہے۔

یقیناًبھارت ہمارا دشمن ہے، لیکن کیا ہم پاکستانیوں نے بھی اپنی آنکھیں موندھ رکھی ہیں ۔؟کیا ہم خود حقائق کو نہیں دیکھ سکتے کہ جماعت الدعوۃ نہ صرف ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف ہے بلکہ انسانی حقوق کی پاسدار ہے، کون نہیں جانتا کہ بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ بھارت نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مظلوموں کا ساتھ دینا دہشتگردی ہے ۔؟ بال ٹھاکروں کی زبان کو لگام دینا قانون شکنی ہے ۔؟ مودی جیسے سفاک بھارتی وزیراعظم اور راجناتھ جیسے وزیرداخلہ کی ہرزہ سرائیوں کا جواب دینا کیا کسی بھی طرح غیر اخلاقی ہے ۔؟ اگر حافظ سعید جیسے محب وطنوں کی آواز نہ ابھرنے دی گئی تو بھارت ہمارے ساتھ کوئی بھی کھیل ،کھیل سکتا ہے ،کوئی شک نہیں کہ امریکہ نے کبھی بال ٹھاکروں کے خلاف آواز بلند نہیں کی ، اس لئے کہ وہ بھارت کوہم سے طاقتور سمجھتا ہے ، ہمیشہ ہمیں دبانے کی کوشش کرتا ہے ، اس لئے کہ ہماری کمزوریوں سے واقف ہے، امریکہ کو مودی اور راجناتھ کی زبان پر کبھی اعتراض نہیں ہوا ہاں اگر یہی زبان ہمارے وزیرداخلہ یا وزیراعظم استعمال کریں تو امریکہ اور اس کے اتحادی آسمان سر پر اٹھا لیں ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم من حیث القوم امریکہ و بھارت کی سازشوں کو سمجھیں ، کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے دشمنوں کو للکارنے والی آواز ہم سب کی آواز بن جائے ، بھارت سمیت تمام دشمنوں کو یہ پیغام جائے کہ اب کوئی نیا سقوط ڈھاکہ ہماری سرزمین پر نہیں ہو سکتا ، کوئی راجناتھ ہمیں گیدڑ بھبکیوں سے مرعوب نہیں کر سکتا ، وہ دن گئے جب کسی جنرل نیازی نے ہتھیار ڈالے تھے ، آج ہماری افواج پوری طرح دشمنوں کے ارادوں سے آگاہ ہیں اور پوری قوم ان ارادوں کو خاک میں ملانے کے لئے پوری طرح سینہ سپر ہے ۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...