جو بھی ہو اچھا ہی ہو

جو بھی ہو اچھا ہی ہو

السلام علیکم پیارے دوستو! کیا حال چال ہیں، امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے ہم بھی اچھے ہی ہیں ، دوستو! بتاتے چلیں کہ میدان سیاست میں ایک بار پھر ہلچل سی نظر آنے لگی ہے، ایک طرف کپتان نے اسمبلی میں بیٹھنے کا اعلان کردیا تو دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری ہیں جو احتجاج احتجاج کا نعرہ لگاتے نظر آتے ہیں۔ جی ہاں دوستو! بلاول بھٹو زرداری تو حکومت کے خلاف بڑے جوشیلے انداز میں تحریک چلانے کا الٹی میٹم دے چکے ہیں اور تاحال مسلسل حکومت کو تنبیہہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے ان کے مطالبات مان لئے جائیں، بلاول بھٹو زرداری آج کل اپنے مطالبات منوانے کے لئے حکومت کے پیچھے لٹھ لے کے پڑے ہوئے ہیں اب 23دسمبر کو اُن کے والد صاحب آصف علی زرداری بھی تشریف لارہے ہیں، اس سے پہلے عمران خان حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلے تھے، اب لگتا ہے کہ عمران خان احتجاج کر کے تھک چکے ہیں، ان کی جگہ اب بلاول اپنے مطالبات منوانے کے لئے میدان میں آچکے ہیں۔

مطالبات منوانے کے لئے انہوں نے جس تاریخ سے احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، ستائیس دسمبر ہے ، یہ بھی بتاتے چلیں کہ ستائیس دسمبر بی بی بے نظیر بھٹو کی شہادت کا دن بھی ہے، شاید اسی دن کی مناسبت سے بلاول بھٹو زرداری نے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے، پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی ان کی تائید کرتے ہوئے احتجاج کے لئے تیار نظر آرہے ہیں ۔ بہت سے دوست تو یہ سوال بھی کرتے نظر آرہے ہیں کہ واقعی بلاول بھٹو زرداری سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے تاہم بہت سے حلقے بلاول بھٹو زرداری کی دھمکی کو محض گیدڑ بھبکی کہہ رہے ، جبکہ بہت سوں کا خیال ہے کہ حکومت کو مطالبات نہ مانے جانے کی صورت میں احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر حکومت ان کے احتجاج کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بہر حال احتجاج ہو گا یا نہیں اور آیا ہو گا تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا، یہ بات بھی آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے۔فی الحال آپ خود کو احتجاج دیکھنے کے لئے وقت کا انتظار کریں اور ہمیں دیں اجازت ملتے ہیں جلد آپ سے، لیکن اس آس و امید کے ساتھ کہ جو بھی ہو وہ اچھا ہو، تو چلتے چلتے اللہ نگہبان، راب راکھا۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...