یہ گرانی اور مجسٹریٹوں کے چھاپے!

یہ گرانی اور مجسٹریٹوں کے چھاپے!
 یہ گرانی اور مجسٹریٹوں کے چھاپے!

وہ ایک دوکان دار ہے۔ بکرے کا گوشت بیچنا اس کا پیشہ ہے۔ گزشتہ دنوں ایک مجسٹریٹ نے اس کا چالان کرکے اسے پانچ ہزار روپے جرمانہ کر دیا، وہ پریشان ہوا، منت سماجت، مگر کوئی دلیل کام نہ آئی۔ مجسٹریٹ نے پرچی تھمائی اور ان کے پی اے یا اسسٹنٹ نے جرمانہ طلب کیا، دوسری صورت میں اسے مقامی تھانے کی حوالات میں بند ہونا تھا۔ دکان دار نے اپنی جیب ٹٹولی، رقم پوری نہیں تھی، پھر اس نے اردگرد سے ادھار لے کر پانچ ہزار پورے کئے تو اس کی جان چھوٹی۔ اس کا قصور یہ تھا کہ گوشت ضلعی حکومت کی مقرر کر دہ قیمت سے زیادہ نرخوں پر بیچ رہا تھا۔ جب مجسٹریٹ نے اس سے پوچھا کہ کس بھاؤ بیچ رہے ہو تو اس نے جھوٹ نہیں بولا تھا اور بتا دیا کہ 830 روپے سے 850 تک فروخت کرتا ہوں، چنانچہ اس کا چالان لازم ٹھہرا کہ سرکاری نرخ سات سو روپے ہیں۔ اس پورے علاقے میں صرف یہی ایک دکان دار مقررہ نرخوں سے زیادہ قیمت پر گوشت نہیں بیچتا، پورے علاقے کیا، اردگرد بھی کسی جگہ سرکاری نرخ پر گوشت فروخت نہیں ہوتا۔ جب مجسٹریٹ چلے گئے تو دکان دار نے دہائی دینا شروع کر دی کہ حکومت غریب پرچون فروشوں کا چالان کرتی ہے، حالانکہ نرخ تو تھوک والے یا آڑھتی بڑھاتے ہیں، اس کا موقف تھا کہ سات سو روپے میں تو منڈی سے تھوک کے بھاؤ گوشت نہیں ملتا، ہم نے بھی بچوں کے لئے روزی کمانی ہے۔ ہمیں منڈی سے گوشت 820روپے کے حساب سے ملے گا تو ہم 700روپے فی کلو کیسے بیچ سکتے ہیں؟

اس دکان دار کا موقف تو منطقی ہے، لیکن یہ امر بھی اپنی جگہ کہ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور عوام تو پرچون فروشوں ہی سے خریدتے ہیں، اس لئے وزن تو انہی پر آتا ہے، لیکن حقیقت بالکل مختلف ہے۔ نرخ کا اتار چڑھاؤ تو منڈیوں میں ہوتا ہے۔ پرچوں فروشوں کی انجمن اس پر احتجاج بھی کرچکی کہ حکومت کو نرخوں پر کنٹرول کرنا ہے تو اشیاء کے ماخذ سے تھوک فروشوں تک کے سلسلے کی پڑتال کرکے اس سطح سے پرچون تک کے نرخ مقرر کریں، پھر چالان اور گرفتاری بھی ان کا حق ہے، لیکن ایسا نہیں ہو رہا اور سارا بوجھ پرچون فروشوں پر ڈال دیا گیا ہے جو درست نہیں۔جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو یہ ہر سو ہے۔ پھل سے سبزیوں، گوشت اور مرچ مصالحے تک ہر شے مہنگی ہے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں کی مہم کے باوجود مہنگائی کم نہیں ہو پاتی، اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ نرخ مقرر کرتے وقت حقیقت پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا یہ عجیب دور ہے جس میں پیداوار کے مالک اور خریدار نقصان میں رہتے ہیں۔ باقی ہر طبقہ اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کر لیتا ہے ۔ زمیندار یا وہ شخص جو سبزیاں اور پھل خود بوتا اور کاٹتا ہے، اسے منڈی میں اپنا مال بولی پر فروخت کرنا ہوتا ہے، پھر آڑھتی کے پاس کمیشن کٹوا کر رقم لینا ہوتی ہے۔ یہاں تھوک مال بکتا اور درمیانی لوگ خرید کر پرچون فروشوں کو فروخت کرتے ہیں ،یہ حضرات اپنا خرچ دیکھ کر گاہک کو فروخت کرتے اور اپنا منافع حاصل کرتے ہیں۔

یہ سب آڑھتی سے پرچون فروش تک ایک تسلسل ہے۔ اس کے لئے لازمی ہے کہ مکمل جائزہ لے کر ہر سطح کے نرخوں کو ذہن میں رکھ کر نرخ مقرر کئے جائیں، لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ جہاں تک فروٹ، سبزیوں، مرغی، انڈوں اور گوشت کا تعلق ہے تو ان اشیاء کے نرخوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل ہوتا ہے اور فیصلہ منڈی کے نرخوں کے مطابق ہوتا ہے۔ اب اگر سارا زور پرچون فروشوں پر ہوگا تو بات نہیں بنے گی۔ صارف کو تو پرچون کی سطح پر مناسب نرخ چاہئیں، لیکن یہاں ایسا ممکن نہیں، اس لئے بہتر عمل منافع خوروں کو تلاش کرکے ان کا احتساب ہے۔ یہاں تو ذخیرہ اندوزی ہوتی ہے۔ دالوں سے لے کر مصالحوں تک گوداموں میں ذخیرہ کر لئے جاتے ہیں، اسی طرح سردخانوں میں جو پھل اور سبزی محفوظ ہو سکتی ہے۔ سستے دور میں محفوظ کر لی جاتی، بعد میں زیادہ نرخوں پر بکتی ہے۔ یہاں تو رمضان المبارک اور عید بقر عید جیسے تہواروں کی آمد سے پہلے بعض سرمایہ دار پہلے سے اشیاء خرید کر ذخیرہ کر لیتے اور پھر مہنگا فروخت کرتے ہیں۔

یہ صورت حال موجود ہے تو اس کا تدارک بھی ہونا چاہیے، جو یوں ہے کہ پرچوں فروش کو اشیاء جن نرخوں پر مہیا ہوتی ہیں، ان کی قیمتیں پرچون فروش کے منافع کو شمار کرکے مقرر کی جائیں ، پھر یہ مہم جاری ہو تو پرچون فروش بھی قابو آ سکتے ہیں، لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے تو اس کی وجوہات میں بجلی، پٹرولیم اور پانی بھی شامل ہیں۔یوں یہ نرخ اونچے ہوں گے تو ان کے اثرات بھی نیچے تک متاثر ہوں گے، اس لئے ضلعی انتظامیہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ پوری تفصیل سے جائزہ لے کر نرخ متعین کرے۔ یہاں تو شوگر ملوں والے جب چاہیں ایک دو روپے فی کلو کا اضافہ کر لیتے ہیں۔پھر یہ بھی دیکھیں، اورہمارا اپنا مشاہدہ ہے کہ جس بکرے کے گوشت والے دکان دار کو پانچ ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا، وہ ادائیگی جرمانہ کے بعد دکان پر بیٹھا تو مجسٹریٹ کا کارندہ قریباً دو گھنٹے بعد آیا اور دکاندار سے سودا کرنے کی کوشش کی کہ ایک کلو گوشت (روزانہ) اور پانچ ہزار روپے ماہانہ دو تو جس بھاؤ چاہے بیچو، دکاندار نہ مانا کہ یہ سب کرکے اسے نقصان ہوتا تھا، اور پھر آپ جانتے ہیں کہ وقتاً فوقتاً اس کا چالان ہو جاتا ہے، یہ رقم پھر گاہکوں ہی سے وصولی کی جاتی ہے۔*

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...