پچھتاؤگے، سنوبات، ہماری دھیان سے

پچھتاؤگے، سنوبات، ہماری دھیان سے
 پچھتاؤگے، سنوبات، ہماری دھیان سے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ مہینے حکومت کو چار مطالبات پیش کئے تھے اور 27دسمبر تک ان مطالبات کو پورا کرنے کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگر مطالبات کو پورانہ کیا گیا تو حکومت کے خلاف ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے تحریک چلائی جائے گی۔ اپنی پارٹی کے 49ویں یوم تاسیس کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری ایک ہفتے تک بلاول ہاؤس لاہور میں مقیم رہے۔ پیپلز پارٹی کے ذمہ داران نے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری بھی یوم تاسیس کی تقریبات میں شرکت کریں گے یعنی وہ کئی ماہ بعد وطن واپس آجائیں گے۔ جنرل راحیل شریف آرمی چیف کے عہدے سے سبکدوش بھی ہوچکے ہوں گے۔ بلاول ہاؤس ایک قلعہ نما رہائش گاہ ہے، اس کے ایک میدان میں بڑا خیمہ لگا کر جیالوں کے لئے ایک ہفتے تک تقریبات کا انعقاد کیا گیا، نوجوان پارٹی چیئرمین بلاول کا خون جوش مارتا رہا۔ جیالوں سے بھرپور جذباتی خطاب اور پریس کانفرنس کے موقع پر بلاول اپنے چار مطالبات کا ذکر بار بار کرتے رہے۔ آخر میں ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب !27دسمبر تک مطالبات پورے کردیں، ورنہ دمادم مست قلندر ہوگا۔ ہم تحریک چلائیں گے اور پھر آپ کو لگ پتہ جائے گا کہ اپوزیشن تحریک کیا ہوتی ہے۔

بلاول کی طرف سے زور اس بات پر دیا گیا ’’لگ پتہ جائے گا کہ اپوزیشن تحریک کیا ہوتی ہے‘‘۔ اس کی خاص وجہ تھی۔ پیپلز پارٹی پر نواز شریف حکومت کے خلاف ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کا الزام لگایا جاتا رہا۔ اس الزام کا رنگ اتارنے کے لئے ’’لگ پتہ جائے گا، لگ پتہ جائے گا‘‘ کی گردان بلاول سمیت پیپلز پارٹی کے سبھی رہنما (شیریں رحمان سے لیکر قمر الزمان کائرہ تک) کرتے رہے۔ ہفت روزہ تقریبات کے دوران آصف علی زرداری کا انتظار ہوتا رہا، مگر وہ یوم تاسیس کے آخری آٹیم بلاول کی دھواں دار جذباتی پریس کانفرنس میں بھی دبئی سے لاہور نہ آسکے۔ یار لوگ کہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف تو ریٹائر ہوگئے تھے، زرداری صاحب کو دو گھنٹے کی فلائیٹ پکڑ کر لاہور آجانا چاہیے تھا۔ انہیں آنا ہوتا تو 29نومبر کو لاہور میں ہوتے زرداری صاحب کو نہیں آنا تھا، سو وہ نہیں آئے۔ بلاول کو تنہا ہی یوم تاسیس کا خصوصی پیغام اپنے کارکنوں کو دینا پڑا۔ یوم تاسیس پر پارٹی پیغام کی خاص اہمیت تھی۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پچھلے دو تین برسوں سے ’’سولو فلائیٹ ‘‘ سے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنی اپوزیشن تحریک کے ذریعے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ ’’چار حلقوں سے پاناما لیکس تک‘‘ عمران خان خود کو حقیقی اپوزیشن پارٹی کا چیئرمین کہتے ہیں۔ ملک سے باہر بیٹھ کر ایم کیو ایم کے الطاف بھائی کی طرح، پیپلز پارٹی کو چلاتے ہوئے آصف زرداری نے عمران کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان آمد کے حوالے سے مختلف تاریخیں دیتے رہے۔ ان کے کارکن اسی بھروسے پر کہتے رہے۔ ’’تیرے اون دے کھڑاک بڑے ہون گے۔ مزے تے ماہیا ہن اون گے‘‘۔

آصف زرداری کی وطن واپسی کے بارے میں نئی تاریخ یہ دی جارہی ہے کہ وہ حکومت کو دیئے گئے الٹی میٹم 27دسمبر سے پہلے آجائیں گے۔ دیکھئے وہ واپس آتے ہیں یا نہیں۔ نوجوان پارٹی چیئرمین بلاول اپنے طور پرکارکنوں کا لہو گرمانے کے لئے ’’لگ پتہ جائے گا۔۔۔لگ پتہ جائے گا‘‘ کی گردان کررہے ہیں۔ بلاول ایک تیر سے دو شکار کررہے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت کے خلاف حقیقی اپوزیشن ’’ہم ‘‘ ہی ہیں۔ خود کو حقیقی اپوزیشن ثابت کرنے کے لئے تمام کوششیں ہو رہی ہیں۔ سڑکوں پر آنے کا اعلان بھی عمران خان کی حکمت عملی کا جائزہ لیتے ہوئے کیا گیا۔ جب قومی اسمبلی میں واپسی کا ’’پتا‘‘ پھینکا گیا تو قومی اسمبلی میں بھی خورشید شاہ سے جذباتی تقریر کروائی گئی۔ شاہ محمود قریشی کو بھی جذباتی تقریر اسی وجہ سے ڈبل محنت کرنا پڑی۔ سپیکر ایاز صادق کے ڈائس کا گھیراؤ بھی اسی وجہ سے ہوا۔ ہمارا خیال ہے کہ قارئین کرام کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے مقابلے میں حقیقی اپوزیشن پارٹی ثابت کرنے کے لئے ریس لگائی ہوئی ہے۔ اس ریس کا آغاز بلاول کے 4مطالبات پیش کرنے سے ہوا اور ’’لگ پتہ جائے گا‘‘ کی گردان بھی اسی لئے ہو رہی ہے۔

اگر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بلاول کا جارحانہ انداز وزیر اعظم نواز شریف کو ’’ٹف ٹائم‘‘ دینے کے لئے نہیں بلکہ عمران خان سے آگے نکلنے کے لئے ہے، تو بات آگے بڑھائی جاسکتی ہے۔ جو لوگ یہ توقع کررہے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف کو عمران خان کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹو زرداری بھی ’’ٹف ٹائم‘‘ دینے کی کوشش کریں گے تو وہ اس میں یہ ترمیم کرلیں کہ آصف زرداری پاکستان واپس آئیں یا نہیں، بلاول اور ان کے انکلز اور آنٹیاں اپنی بساط کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف پر دباؤ ڈال کر اپنے اصل ہدف عمران خان کو اپوزیشن کی ایجی ٹیشن کی سیاست کے حوالے سے پیچھے دھکیلنے میں مصروف رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی بڑھکوں( میاں صاحب! آپ کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا، عدالت میں بات نہ بنی تو شیخ ر شید کے ساتھ سڑکوں پر للکاروں گا)اور بلاول کی دھمکیوں (لگ پتہ جائے گا) سے خوفزدہ ہونے کی بجائے وزیر اعظم نواز شریف بڑے سکون سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہوگی کہ عمران اور بلاول ’’اپوزیشن چیمپئن‘‘ بننے کے شوق میں آپس میں الجھتے رہیں، جب تک دونوں میں سے کوئی ایک خود کو ’’چیمپئن‘‘ قرار دینے میں کامیاب ہوگا تو اس وقت دیکھا جائے گا کہ کیا صورت حال ہے اور ’’اپوزیشن چیمپئن‘‘ کے ساتھ کیسے اور کہاں (پارلیمنٹ کے اندر یا باہر) مقابلہ کرنا ہے۔ ویسے جب دو طاقتیں، چھوٹی یا بڑی، آپس میں لڑتی ہیں تو ہارنے والی قوت کے ساتھ ساتھ جیتنے والی قوت بھی خاصی نڈھال ہو جاتی ہے۔ صوفی غلام مصطفی تبسم نے تو نصف صدی قبل اپنی نظم کے ذریعے بتا دیا تھا۔ ’’لڑتے لڑتے ہو گئی گم، ۔۔۔ ایک کی چونچ اور ایک کی دم‘‘۔ ایسے ہی حالات کی وجہ سے وزیر اعظم نواز شریف کو شاید زیادہ دم خم والی اپوزیشن کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ممکن ہے کہ وہ 2018ء سے قبل ہی ملک میں عام انتخابات کا اعلان کردیں۔

سیاست میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ امکانات کے حوالے سے یار لوگ چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کو یقینی بناتے رہتے ہیں۔ ایم کیو ایم ایک غیر متوقع واقعہ کی وجہ سے لندن اور پاکستان دوگروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ مگر بہت سے لوگوں کو اس تقسیم پر اعتبار نہیں اور اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ آنے والے دور میں کسی بھی وقت ’’تمہارا بھائی، ہمارا بھائی الطاف بھائی الطاف بھائی‘‘ کا نعرہ لگ سکتا ہے۔ پاکستان گروپ مسلسل اعتماد کے لئے کوشاں ہے کہ تقسیم حقیقی اور مستقل ہے لیکن خدشات کے سائے کم نہیں ہو رہے ہیں۔ لہٰذا محتاط سیاسی حلقے یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ ایم کیو ایم لندن کے مستقبل کے بارے میں صورت حال واضح ہونے تک پاکستان گروپ کو قومی دھارے میں شامل کرنے سے گریز ہی کیا جائے۔ الطاف حسین کی پوزیشن اور قیادت ختم ہونے کا انتظار کرنا چاہیئے۔

سیاسی مفاد اور اقتدار کے کھیل میں بہت کم لوگ ملکی مفاد کو ترجیح دینے والے ثابت ہوتے ہیں۔ 16دسمبر کو یہ کالم لکھا جارہا ہے، یہ دن سقوط ڈھاکا کے حوالے سے ایک زخم بن کر یاد رہتا ہے سقوط ڈھاکا کے ذمہ داران میں یار لوگ ذوالفقار علی بھٹو کوبھی شامل کر لیتے ہیں کہ انہوں نے اقتدار (مغربی پاکستان کی حد تک ہی سہی)حاصل کرنے کے لئے شیخ مجیب الرحمان سے پوری سنجیدگی اور ذمہ داری سے مذاکرات نہ کئے اور جنرل یحییٰ خان کے غلط ٹریک کی بھی حمائت کی تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔قومی صورت حال اور سیاستی ضروریات کو دیکھتے ہوئے سیاستدانوں کو صحیح فیصلے کرنے ہوتے ہیں، یہی ان کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ 1971ء کو رہنے دیجئے، جو بھی ہوا، اب لکیر پیٹنے سے کیا فائدہ۔ 2016ء میں یہ فیصلہ درپیش ہے کہ سیاست کی بیساکھیوں سے اقتدار تک پہنچنے کی حکمت میں کیا اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ ان قوتوں کا سہارا کسی بھی صورت میں نہ لیا جائے، جو ملکی سلامتی کے لئے ماضی میں خطرہ بنتی رہیں اور آج بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ یہ بات فراموش کرنے کی سنگین اور ناقابل معافی غلطی ہرگز نہ کی جائے کہ الطاف حسین کی حالت ایک زخمی سانپ جیسی ہے اور زخمی سانپ موقع ملتے ہی کاری وار کیا کرتا ہے۔ جو لوگ اچھے اور برے طالبان کی طرح ایم کیو ایم کے لئے بھی یہی فارمولا (نظریۂ ضرورت کے تحت) آزمانے کے لئے تیار ہیں، انہیں یہ رسک کبھی نہیں لینا چاہیے۔ اچھے اور برے ایم کیو ایم والے کسی بھی وقت’’ بھائی بھائی‘‘ ہو سکتے ہیں۔ آپ موجودہ حالات میں بظاہر ’’تنِ مردہ‘‘ میں جان ڈال کر اپنے سیاسی مفادات اور اقتدار کے حصول کو یقینی بنانے کا خطرہ مول لیں گے تو آگے چل کر کسی نہ کسی موڑ پر آپ کو حساب دینے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی ہو، ن لیگ یا کوئی بھی سیاسی جماعت، وقتی فائدے کے لئے رابطے بڑھانے کا رسک فی الحال نہ لیا جائے۔ یہ سیاسی بیساکھیاں مہنگی بھی پڑ سکتی ہیں!

’’بچھاؤ گے، سُنو بات، ہماری دھیان سے‘‘

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...