عزت، جذباتیت اور وزارت

عزت، جذباتیت اور وزارت
 عزت، جذباتیت اور وزارت

مجھے تو چودھری نثار علی خان کی اس بات نے نہال کر دیا ہے کہ وزارت نہیں عزت اہم ہے، عزت کے بغیر عہدے کو لعنت سمجھتا ہوں۔ ایک ایسے سماج میں جہاں عزت کو آنے جانے والی شے سمجھا جاتا ہے، چودھری نثار علی خان کا یہ نعرۂ مستانہ کسی معرکے سے کم نہیں۔ مگر انہوں نے عزت بے عزتی کے معیار کو جانچنے کے لئے پیمانہ کچھ غلط چن لیا ہے۔۔۔ ملک کا وزیر داخلہ ہونے کی حیثیت سے انہیں احتیاط کرنی چاہئے تھی۔ سپریم کورٹ کے بنائے ہوئے کمیشن کے بارے میں انہوں نے جس جذباتی انداز میں پریس کانفرنس کی، اس کا بہر طور کوئی جواز نہیں تھا۔ ویسے تو ہر کوئی عدلیہ کے احترام کا لیکچر دیتا رہتا ہے، مگر جب عدلیہ کا کوئی فیصلہ اس کے خلاف آتا ہے تو سب سے پہلا پتھر بھی وہی عدلیہ کو مارتا ہے۔ چودھری نثار علی خان کا یہ کہنا کہ جج صاحبان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ان کی عزت ہے تو ان کے سامنے پیش ہونے والا بھی عزت دار ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ یہ بات کرتے ہیں اور دوسری طرف یہ الزام دیتے ہیں کہ انہیں کمیشن میں بلایا ہی نہیں گیا، سنا ہی نہیں گیا۔ جب وہ پیش ہی نہیں ہوئے تو جج صاحب نے ان کی بے عزتی کیسے کر دی؟ ویسے بھی ان کا یہ جملہ ایک فلمی ڈائیلاگ کی طرح کا ہے۔ کئی فلموں میں ہم دیکھتے آئے ہیں کہ سلطان راہی یا مصطفیٰ قریشی بھی جج صاحب کہہ کر اسی نوعیت کے ڈائیلاگ بولتے رہے ہیں۔ اس حد تک تو چودھری نثار علی خان کا حق بنتا تھا کہ وہ پریس کانفرنس کر کے اس امر کا اعلان کرتے کہ انہیں کمیشن کی رپورٹ سے اتفاق نہیں، وہ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، مگر اس کے سوا انہوں نے جو کچھ کہا ہے، وہ وزیر داخلہ کے منصب کی نفی کے مترادف ہے۔ یہ اپوزیشن کا رویہ تو ہو سکتا ہے، ایک حکومتی وزیر کا نہیں۔ وہ بہر حال ملک میں سیکیورٹی معاملات کے ذمہ دار ہیں، اگر ایک اعلیٰ عدالتی کمیشن نے اس حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے ہیں، کچھ کوتاہیوں کی نشاندہی فرمائی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے عزت یا بے عزتی کا کوئی سوال کھڑا ہو گیا ہے۔

سانحۂ کوئٹہ ایک بہت بڑا واقعہ تھا، جس میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد جان سے گئی، چونکہ معاملہ وکلاء کا تھا، اس لئے سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس پر ایک انکوائری کمیشن سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں بٹھا دیا۔ عام طور پر حکومت عدلیہ سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست کرتی ہے، لیکن یہاں سپریم کورٹ نے خود بنا دیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس کی رپورٹ بھی منظر عام پر آ گئی۔ حکومت نے کمیشن بنایا ہوتا تو اس کی رپورٹ بھی حکومت کو پیش کی جاتی۔ ظاہر ہے ایسی رپورٹ حکومت منظر عام پر نہ لاتی، جیسا کہ ماڈل ٹاؤن سانحہ کی رپورٹ سامنے نہیں لائی گئی۔ رپورٹ چونکہ سرا سر وزارت داخلہ کے گرد گھومتی ہے اور وزیر داخلہ کی کارکردگی کے بارے میں کئی سوالات اٹھاتی ہے، اس لئے چودھری نثار علی خان نے اسے بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور اس میں ذاتی عزت کی شقیں بھی ڈھونڈ نکالی ہیں۔ بھری پریس کانفرنس میں ایک جذباتی تقریر کر کے یہ تاثر دینا کہ عدالتی کمیشن نے بہت بڑی زیادتی کر ڈالی ہے، خود ان کے موقف کو کمزور کر گیا ہے۔ ساتھ ہی ان کا یہ انکشاف کہ وہ استعفیٰ دینا چاہتے تھے، مگر وزیر اعظم نے منظور نہیں کیا، ان کے اس ادھورے سچ کو ظاہر کرتا ہے جو انہوں نے ’’وزارت عزت سے زیادہ اہم نہیں‘‘ کہہ کر اس ضمن میں بولا ہے، مگر اس پر عمل نہیں کیا۔

مَیں ذاتی طور پر موجودہ کابینہ میں چودھری نثار علی خان کو ایک بہتر اور الزامات سے مبرا وزیر سمجھتا ہوں۔ وہ جب بھی پریس کانفرنس کرنے آتے ہیں ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے مگر جب وہ پریس کانفرنس کر کے واپس جاتے ہیں تو غصے میں ہوتے ہیں۔ وہ کابینہ کے واحد وزیر ہیں جن کے بارے میں دھرنے کے دنوں اور بعد ازاں دیگر مواقع پر یہ افواہ گردش کرتی رہی ہے کہ نوازشریف کے جانے کی صورت میں چودھری نثار علی خان کو وزارتِ عظمیٰ سونپی جائے گی۔ اگرچہ واقفانِ حال یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ نوازشریف ایمرجنسی کی صورت میں بھی ایسا کوئی رسک نہیں لیں گے، کیونکہ چودھری نثار علی خان من مانی کے بھی قائل ہیں اور اب بھی اپنی وزارت کے اختیارات میں مداخلت کو سخت ناپسند کرتے ہیں شاید ان کی یہی کلیدی حیثیت ہے ، جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے کو چھوڑ کر ’’گو نثار گو‘‘ کے نعرے پر آ گئی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری تو پہلے ہی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ناکامی پر چودھری نثار علی خان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد تحریک انصاف نے بھی انہیں رخصت کرنے کی ٹھان لی ہے۔ پیپلزپارٹی کے مطالبے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ڈاکٹر عاصم حسین اور ایان علی کے معاملے میں چودھری نثار علی خان کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں، حالانکہ ان دونوں معاملات میں چودھری نثار علی خان نے اپنی صفائی پیش کر دی ہے اور ایان علی کے مسئلے کو وزارت داخلہ سے نکال کر وزارتِ خزانہ کی جھولی میں ڈال دیا ہے، تاکہ صرف ان کے پیچھے پڑنے والے اپنا رخ بدل کر اسحاق ڈار کے پیچھے پڑ جائیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایان علی کو وزارتِ داخلہ نے ایئرپورٹ پر جہاز میں بیٹھنے سے عین وقت پر روکا اور ای سی ایل میں نام نہ ہونے کے باوجود ملک سے باہر نہ جانے دیا۔ اب پیپلزپارٹی کو سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ کے بعد چودھری نثار علی خان پر دباؤ بڑھانے کا موقع مل گیا ہے، ان کے استعفے کا مطالبہ مزید شدو مد سے کیا جا رہا ہے جس سے چودھری نثار علی خان کا جذباتی ہونا عین فطری ہے۔

سپریم کورٹ انکوائری کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس میں جن نکات کی نشاندہی کی گئی ہے، ان پر توجہ دی جاتی۔ اگر اس سلسلے میں کوئی نمائندہ اجلاس بلانے کی ضرورت ہوتی تو فوراً طلب کیا جاتا۔ یہ کمیشن دہشت گردی اور بد امنی کے مسئلے پر بنایا گیا تھا۔ یہ معاملہ صرف حکومت سے متعلق نہیں بلکہ اس میں اپوزیشن اور دیگر قومی ادارے بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس معاملے پر ایک مشترکہ قومی پالیسی نیشنل ایکشن پلان کے نام سے بنی ہوئی ہے۔ اس پالیسی پر عملدرآمد نہ ہونے کا ذکر اس کمیشن رپورٹ میں بطور خاص کیا گیا ہے۔ اب اس رپورٹ پر جزبز ہونے کی بجائے ہونا تو یہ چاہئے کہ اُن کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے جو اس رپورٹ میں بیان ہوئی ہیں۔ اِن نکات پر اپوزیشن بھی پوائنٹ سکورنگ نہ کرے اور حکومت بھی ایسا ردعمل سامنے نہ لائے جو اس کی بے توقیری کا باعث بنے لیکن افسوس ایسا ہو نہیں رہا۔ اس رپورٹ کو اپوزیشن اپنے لئے ایک لاٹری سمجھتی ہے جو اچانک نکل آئی ہے جبکہ حکومت اسے ایک ایسا سانپ سمجھتی ہے، جس نے خوامخواہ سر اٹھا لیا ہے اور وہ اسے کچل دینا چاہتی ہے۔

چودھری نثار علی خان بلاول بھٹو زرداری کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو بچہ پارٹی ضرور کہیں، مگر خود بھی کوئی ایسا ردعمل دینے سے گریز کریں جو ان کی بالغ نظری پر سوالیہ نشان کا باعث بن سکتا ہو۔۔۔ ملک میں پہلے ہی ڈاکٹر طاہر القادری آئے دن یہ دہائی دیتے رہتے ہیں کہ حکومت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انکوائری کمیشن کی رپورٹ سامنے نہیں لا رہی کیونکہ وہ رپورٹ اس کے خلاف ہے۔ اب سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ پر ایسا سخت ردعمل اس بات کو سچ ثابت کر دے گا کہ حکومت اپنے خلاف ہونے والی کمیشن کی رپورٹ چھپا لیتی ہے اور عدلیہ کے حکم سے کوئی رپورٹ سامنے آ جائے تو اسے ماننے سے انکار کر دیتی ہے، بلکہ اُلٹا ججوں کو ہدف تنقید بناتی ہے۔ اس ردعمل سے تو تحریکِ انصاف اب یہ موقف بھی اختیار کر سکتی ہے کہ سپریم کورٹ پاناما کیس کا فیصلہ خود کرکے اس پر کمیشن نہ بنائے، کیونکہ کمیشن کی رپورٹ تو حکومت تسلیم ہی نہیں کرتی۔۔۔ دہشت گردی کے مسئلے کو سیاست سے دور ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔ مسلم لیگ (ن) اگر پچھلے تین برسوں میں بدامنی اور دہشت گردی میں کمی کا کریڈٹ لیتی ہے تو اسے ان کمیوں اور کوتاہیوں کو بھی تسلیم کرنا چاہئے جو موجود ہیں اور جن کی انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے اسے عزت یا بے عزتی کا معاملہ بنانے کی بجائے قومی ضرورت سمجھنا چاہئے۔ صرف یہی ایک راستہ ہے، جس پر چل کر حکومت اپنے مخالفین کو بھی موثر جواب دے سکتی ہے اور ملک میں امن و امان کی صورتِ حال بھی بہتر بنا سکتی ہے۔۔۔’’ گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں‘‘۔ *

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...