کون جانے کس گھڑی وقت کا بدلے مزاج!

کون جانے کس گھڑی وقت کا بدلے مزاج!

وقت کیا ہے اور اس کی ماہیت و اصلیت کیا ہے، یہ ایک دقیق فلسفیانہ مسئلہ ہے اور مجھے اعتراف ہے کہ میں نہ فلسفے کا طالب علم ہوں اور نہ سائنس کی موشگافیوں سے آگاہ ہوں۔ البتہ ایک عام قاری کے لئے جن چیدہ چیدہ پہلوؤں کا علم، تصور وقت کے ضمن میں دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے، اس کی کچھ وضاحت کرنا چاہوں گا۔

فلاسفۂ قدیم و جدیدنے وقت کو جن تین خانوں میں تقسیم کیا ہے وہ یہ ہیں:

1۔ جاری وقت (Serial Time) جسے زمانِ مسلسل بھی کہا جاتا ہے۔

2۔زمانی وقت (Duration Time)

3۔حقیقی وقت (Real Time) جسے زمان خالص بھی کہا جاتا ہے۔

جاری وقت وہ ہے جس کا شمار ہم سیکنڈ، منٹ، گھنٹہ، دن ، ہفتہ، مہینہ، سال اور صدی کے پیمانوں سے کرتے ہیں۔ اقبال نے اس کو خط وقت یا وقت کی لکیر کہا ہے۔ایک عام شخص اسی لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔ وہ روز و شب اور دوش و فردا کے قفس میں قید ہو کے رہ جاتا ہے اور اس سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرتا۔غلام قومیں وقت کے اسی تصور کی پیرو کار ہوتی ہیں۔ جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے، وہ اس پر قانع اور حال مست ہوتی ہیں۔ اقبال ان پر سخت تنقید کرتا ہے اور اس کا سارا فلسفہ خودی غلامی کی اسی زنجیرِ ایام کو کاٹ ڈالنے کے گرد گھومتا ہے:اقبال آج کے مسلمان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے:

درگل خود تخم ظلمت کاشتی

وقت را مثل خطے پنداشتی

[تو نے اپنی مٹی میں اندھیرے کا بیج بویا اور وقت کو ایک لکیر سمجھا]

امروز و فردا وقت کی رفتار سے پیدا ہوتے ہیں اور زندگی بھی وقت کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے۔ وقت سیاروں کی گردش کا نام نہیں۔و قت دائمی ہے، جبکہ سیارے اور ستارے( آفتاب) دائمی نہیں۔ یہ فنا ہو جانے والے ہیں۔ وقت البتہ فنا نہیں ہوگا۔ دکھ ، درد، غم و اندوہ، عیش وطرب اور عید و عاشور سب کے سب ’’وقت‘‘ ہیں۔ چاند اور سورج کی چاندنی اور دھوپ بھی ’’وقت‘‘ ہے۔ ہم نے وقت کو مکاں (Space) کے مفہوم میں پھیلایا ہوا ہے اور اسی مکان کے پیمانے سے ہم گزرے کل اور آنے والے کل کا امتیاز کرتے ہیں۔ ہم ایک ایسی خوشبو کی مانند ہیں جو اپنے باغ سے نکل کر باہر کاطواف کرتی رہتی ہے۔ اس طرح ہم نے اپنے ہاتھوں سے ایک قید خانہ تعمیر کر رکھا ہے۔ ہمارا وقت تو وہ ہے جس کی نہ کوئی ابتدا ہے نہ انتہا۔ یہ وقت ہمارے ضمیر کے گلستاں سے پھوٹتا ہے۔ جب ہمیں اس راز کا عرفان ہو جاتاہے تو انسانی زندگی میں انقلاب آ جاتا ہے۔ زندہ شخص گویا زندہ تر ہو جاتا ہے۔ اگر حقیقت کا ادراک ہو تو یہ جان لینا چاہیے کہ زندگی دہر (وٖقت) ہے اور دہر زندگی ہے۔۔۔ آنحضورﷺ کا ارشاد پاک ہے: ’’وقت کو برا مت کہو۔۔۔ ’’لاتسبو الدھر‘‘۔

وقت کی دوسری قسم کا نام ’’زمانی وقت‘‘ ہے۔ زمانی وقت جاری وقت سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ اس میں رات دن کی تمیز نہیں کی جا سکتی۔ خلاؤں میں جاری وقت کا کوئی تصور نہیں۔ ان کے خورشید اور ان کے ماہتاب اپنے اپنے ہیں۔ ان کے دن رات اپنے دورانیوں کے اعتبار سے مختلف ہوں گے۔کرۂ ارض جب سورج کے گرد اپنے مدار ارضی پر ایک چکر پورا کر لیتا ہے تو ہم اسے ایک سال کہتے ہیں۔ یہ 365 دنوں سے کچھ اوپر کے دورانیہ کا ہے جبکہ دوسرے کروں اور سیاروں کے سال اس دورانیہ کے نہیں ہیں۔ تو ثابت یہی ہوا کہ وقت کی تقویم میں زمانِ مسلسل (Serial Tims) کے علاوہ اور زمانے اور دوسرے اوقات بھی ہیں۔ انہی میں سے ایک زمانی وقت بھی ہے۔ اقبال اسے ’’زمانے کی رو‘‘ کا نام دیتا ہے۔ جس طرح خلا نوردوں کے لئے دن اور رات کا تصور باقی نہیں رہتا اور وہ خلاؤں میں پہنچ کر زمانے کی رو میں بہے چلے جاتے ہیں، اسی طرح زمانی وقت بھی روز و شب کا پابند نہیں۔ بندۂ مومن زمانی وقت پر اپنی کمند ڈال کر اس کو اسیر کر لیتا ہے۔دیکھئے زمان و مکان کے اس معروضی تصور کو اقبال نے اس شعر میں کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے:

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے

مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

قرآن حکیم میں بار بار رات اور دن کا ذکر آیا ہے۔ بار بار یہ فرمایا گیا ہے کہ تم لوگ طلوع و غروب اور صبح و شام کے لوٹ لوٹ کر آنے پر غور کیوں نہیں کرتے؟ یورپ کا مشہور فلسفی برگساں بھی وقت کی دو قسمیں بیان کرتا ہے۔جسے وہ زمان مسلسل (Serial Time)اور زمانِ لامحدود (Duration) کہتا ہے۔ وہ لامحدود وقت کو دائمی (Eternal) سمجھتا تھا۔جب اقبال سے یورپ میں اس کی ملاقات ہوئی تو اقبال نے برگساں کو کہا کہ دائمی وقت بھی تو گزر رہا ہے ، اس لئے لمحۂ حاضر (Now) جاودانی بھی ہے۔ اور جب اقبال نے اسے ’’لاتسبدو الوہر‘‘ (زمانے کو برا مت کہو کہ زمانہ خدا ہے) والی حدیث سنائی تھی تو برگساں یہ استدلال سن کر اچھل پڑا تھا۔ اسی زمانی وقت میں ماضی، حال اور مستقبل پوشیدہ ہیں۔ ماضی گزرا ہوا وقت ہے اور مستقبل آنے والا وقت ہے۔ گزرے ہوئے وقت کو ہم صرف اپنے حافظے کی مدد سے محسوس کر سکتے ہیں اور آنے والے وقت کی صرف امید کر سکتے ہیں۔۔۔ لیکن یہ حافظہ اور یہ امید دونوں حال کی حقیقتیں ہیں۔ مستقبل ایک لمحے میں حال بن جاتا ہے اور حال ایک لمحے میں ماضی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مولانا روم کہتے ہیں کہ وقت کا تصور ایک اضافی (Relative)یا معروضی تصور ہے۔ جس طرح انسانی رشتے اضافی ہوتے ہیں کہ ایک باپ دوسرے کا بیٹا ہے اور مناظر بھی اضافی ہوتے ہیں کہ ایک ہی چھت ایک کے لئے بالائے سر ہے اور دوسرے کے لئے فرشِ پا ہے، اسی طرح وقت بھی معروضی اور اضافی ہے۔ جو ہمارا ماضی ہے وہ ہمارے آباؤ و اجداد کا حال تھا اور جو ہمارا مستقبل ہے وہ ہماری آئندہ نسل کا حال ہوگا۔

بو علی سینا نے وقت کی تیسری قسم یعنی زمانِ خالص (Real Time) کو سرمدی وقت بھی کہا ہے۔ اس سے پہلے جیسا کہ اوپر کہا گیا زمانی وقت اور جاری وقت بھی ہیں۔زمان خالص کی آغوش میں باقی دونوں وقت سمائے ہوئے ہیں۔ جس کا کوئی ازل اور کوئی ابد نہیں۔ واقعہ معراج نبی اکرمﷺ میں اسی وقت کا ذکر ہے۔ زمین پر لحاف بھی گرم تھا اور دروازے کی کنڈی بھی ہل رہی تھی لیکن آنحضور پُرنورﷺ ہفت آسمانوں اور عرش بریں کی سیر کرکے جب واپس تشریف لائے تھے تو گویا سرمدی وقت سے جاری وقت میں آگئے تھے۔ سرمدی وقت میں گردش شمس و قمر گم ہو جاتی ہے۔

رسول پاکﷺ کی حدیث پاک ہے:

’’لی مع اللہ وقت لایسعنی فیہ ملک مقرب ولانبی مرسل‘‘۔

ترجمہ: میرے لئے اللہ کے ساتھ ایک وقت ایسا بھی ہے جس میں نہ کسی مقرب فرشتے کی گنجائش ہے، نہ نبی مرسل کی)

اسلامی دنیا کے انحطاط کے بعد تین چار سو برس سے تصوف اور نظریہء وحدت الوجود نے مسلمانوں سے ساری امنگیں، ساری آرزوئیں اور ساری جستجوئیں چھین لی تھیں۔ مسلم متکلمین سے لے کر فارسی اور اردو شعراء تک میں وقت کے غیر حقیقی ہونے کی ایک لہر دوڑی ہوئی تھی۔ دنیا کی بے ثباتی اور اپنی بے بسی کا اظہار عام تھا۔ یہی بے بسی اور بے چارگی مسلم قوم کامزاج بن گئی تھی۔ مسلمان تقدیر پرست ہو کر رہ گئے تھے۔ ’’الوقت سیف‘‘ امام شافعیؒ کا قول تھا، ان کا کہنا تھا: ’’تلوار کمزور کو قتل کرتی ہے اور مضبوط کو یہی تلوار فاتح بناتی ہے۔ اپنے ہاتھوں میں ہو تو برکت ہے اوراپنی گردن پر ہو تو موت ہے‘‘۔۔۔یہی تلوار تھی، جسے مغرب نے مسلمانوں کے مضبوط ہاتھوں سے چھین کر ان کی گردن پر رکھ دیا!

اقبال نے مثنوی ’’اسرار و رموز‘‘ میں اس موضوع پر اپنی ایک نظم میں بہت فکر انگیز بحث کی ہے۔ انہوں نے زمانِ مسلسل کو ایک تلوار قرار دے کر نہایت آبدار اشعار کہے ہیں۔ ذیل میں چند اشعار کا ترجمہ قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہوگا۔ وہ کہتے ہیں:

’’میں تمہیں کیا بتاؤں کہ اس تلوار کا مفہوم اور اس کے اندر چھپے ہوئے بھید کیا ہیں۔ یہ ایسی شمشیر ہے جس کی چمک دمک سے زندگی کی رونقیں ہیں۔ جس شخص کے ہاتھ میں یہ تلوار ہو وہ امید و خوف کی الجھنوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اس کا ہاتھ حضرت موسیٰ کے یدبیضا سے بھی زیادہ آبدار اور چمکدار بن جاتا ہے۔ اس تلوار کی ایک ہی ضرب پتھروں کو پانی کر دیتی ہے۔ بڑے بڑے سمندروں کا پانی خشک ہو کر انہیں چٹیل میدانوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں میں یہی تلوار تھی، جس کی ضرب نے تمام ممکنہ تدبیروں سے اوپر اٹھ کر ایک ایسا وار کیا جو یادگار رہے گا۔ ان کی شمشیر نے دریا کا سینہ چاک کر ڈالا تھا اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر خشک ہو گیا تھا۔ حضرت علی مشکل کشا کے ہاتھ میں یہی شمشیر تھی جس نے خیبر کے ناقابل تسخیر قلعہ کو مسخر کر ڈالا تھا‘‘۔

’’ذرا ان ایام کو یاد کر جب وقت کی تلوار ہم مسلمانوں کے مضبوط ہاتھوں میں تھی۔ ہم نے دل کی کھیتیوں میں دین اسلام کا بیج بویا اور حقیقت کے رخسار سے پردے اٹھائے۔ یہ ہم ہی تھے، جنہوں نے دنیا کے مختلف مسائل کی گتھیاں سلجھائیں۔ ہمارے سجدوں سے اس خاک ارضی کے بخت جاگے۔ ہم نے حقائق کے میخانوں سے شرابِ ناب کے جام کشید کئے اور پرانے شراب خانوں کو غارت کرکے رکھ دیا۔ آج اہلِ مغرب کے ساغر میں ہماری وہی پرانی شراب ہے، جس کی تندی اور تیزی سے شیشے کی صراحیاں پگھل پگھل جاتی تھیں۔ آج وہ لوگ تکبر اور غرور سے ہماری مفلسی پر طعنہ زن ہیں۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ اسی محفل میں ہمارے جام و سبو بھی صدہا برس تک گردش میں رہے اور ہمارے سینے بھی کبھی صاحب دل تھے؟ آج دنیا میں تہذیب و تمدن اور سائنس و ٹیکنالوجی کی جو چکا چوند ہے، وہ ہمارے نقوش پا کی خاک ہی ہے تو اٹھی ہے۔ دنیاوی حقائق اور سائنسی علوم کی کھیتیاں ہمارے ہی خون سے سیراب ہوئی ہیں اور آج کے فلاسفہ اور اہل دانش و علم ہمارے ہی ممنون احسان ہیں۔ ساری دنیا میں ہم نے علوم تازہ کو عام کیا اور ہماری مٹی ہی سے عہد حاضر کے علوم و فنون کے کعبے تعمیر کئے گئے۔ یہ امت مسلمہ ہی تھی جس کو ’’اقراء باسم ربک الذی خلق‘‘ کی تعلیم دی گئی۔ ساری دنیا کا رزق ہمارے ہاتھ سے تقسیم ہوتا تھا۔ ہم سے تاج و تخت چھن گیا ہے اور ہم مفلس و نادار اور بھکاری بن گئے ہیں تو ہمیں حقارت کی نظر سے مت دیکھو۔ تمہاری نگاہ میں شاید ہم قصور وار ہیں۔ ہمارا جرم شاید یہ ہے کہ ہم پرانے خیال کے لوگ ہیں، اسی وجہ سے ذلیل اور خوار ہوئے ہیں۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا اعتبار ’’لاالہ‘‘ سے ہے۔ ہم دونوں جہانوں کے وارث ہیں۔ ہم حال اور مستقبل کے غم سے آزاد ہیں کہ ہم نے کسی (ﷺ) کے ساتھ پیمان وفا باندھ رکھا ہے۔ ہم خدا تعالیٰ کا پوشیدہ بھید ہیں اور ہم موسیٰ و ہارون کے وارث ہیں۔ چاند اور ستارے ابھی تک ہمارے نور ہی سے روشنی لے رہے ہیں اور ہمارے بادلوں میں آج بھی بجلیاں باقی ہیں۔ ہمارا وجود ذات باری تعالیٰ کا آمیزہ ہے اور ہستی، مسلم اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے ایک ہے‘‘۔*

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...