کالا باغ ڈیم بجلی وپانی کی پچاس فیصدسے زائدضروریات پوری کر سکتا ہے

کالا باغ ڈیم بجلی وپانی کی پچاس فیصدسے زائدضروریات پوری کر سکتا ہے

اسد اقبال

پاکستان میں سستی بجلی پیدا کرنے اور بوقت ضرورت پانی کی دستیابی کو ممکن بنانے کا سود مند ترین ذریعہ کالا باغ ڈیم ہے بد قسمتی سے ہمسایہ ملک بھارت ہر ایسے اقدام کو سبوتاڑ کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے جس کے ذریعے پاکستان میں خوشحالی آ سکے اپنے سازشی پروگرام کے تحت بھارت نے پاکستان میں کالا باغ ڈیم مخالف لابی پیدا کی جس پر انڈین حکومت اربوں روپے خرچ کرتی ہے حالانکہ بے تحاشا غربت میں کمی کے لیے بھارتی حکومت کو ایسی بھاری رقوم کی اپنے ہاں ضرورت ہوتی ہے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ انڈیا کی موجودہ اور سابقہ حکومتوں کے نزدیک اپنے غریب عوام کی غربت پر دھیان دینے کی بجائے دوسرے ملکوں کے خوشحالی پروگراموں کو روکنے اور اسلحہ کے انبار لگانے کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے حالانکہ اس کا قریبی ہمسایہ پاکستان ہے جس نے ہمیشہ پر امن طریقے سے رہنے پر زور دیا ہے پاکستان کے اند ر جب کبھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا مطالبہ سامنے آتا ہے بھارتی لابی کی طرف سے طرح طرح کی مخالف آوازیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں کبھی کہا جاتا ہے کہ نوشہرہ ڈوب جائے گا ۔زرعی زمینیں بنجر اور اپاہج بن جائیں گی یہاں تک دھمکی دی گئی کہ اگر کالا باغ ڈیم بنایا گیا تو بم مار کر تباہ کر دیا جائے گا حالانکہ واپڈا کے بیشتر سابق چیئرمینوں نے بر ملا اعلان کیا ہے کہ نوشہرہ یا کسی اور رہائشی یا زرعی علاقے کو کالا باغ ڈیم بننے سے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوگا واپڈ ا کے سابق چیئرمین اور معروف آبی ماہر شمس الملک نے تو یہاں تک کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم سے خیبر پختونخواہ کے کسی معمولی سے علاقہ کو نہ صرف کوئی خطرہ نہیں بلکہ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر نہ کیا گیا تو ہماری زمنیں اتھوپیہ اور معیشت تباہ ہو جائے گی ۔سابق صدرپاکستان محمد آصف زرداری کو اپنی حکومت قائم رکھنے کے لیے ووٹو ں کی ضرورت تھی اس لیے انہوں نے خیبر پختونخواہ ڈیم مخالف جماعت کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے دستکش ہونے کا فیصلہ کر لیا سندھ کے بعض وڈیرے سیاست دانوں کی زمینوں کو کبھی کسی قسم کا خدشہ لاحق نہیں ہوا محض مخالفت برائے مخالفت اور اپنا قد اونچا کرنے کے لیے انہوں نے بھی کالا باغ ڈیم کی مخالفت شروع کر رکھی ہے عذرہائے لنگ کو بنیاد بنا کر زر داری حکومت نے پاکستانی معیشت کے لیے حیات بخش منصوبہ کالا باغ ڈیم کو متنازعہ قرار دے کر ہمیشہ کے لیے سر د خانے میں پھینک دیا کالا باغ ڈیم کی تعمیر عوام کے دل کی آواز تھی ا س لیے انہیں مطمئن کرنے کے لیے دیا مر بھا شا ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کی خوش خبری سنائی گئی محض ایک اعلان تھا ایک جھانسا تھا وقت گزاری کے لیے ایک بہانہ سے زیادہ کچھ نہ تھا سابقہ حکومت نے کالا باغ ڈیم کے منصوبہ کو دفن کیا بھاشا ڈیم پر کا م شروع کرنے کا اعلان کیا لیکن عملی طور پر زمین تک مختص نہیں کی بلکہ ایسی کسی زمین تک اپروچ روڈ تک بھی تعمیر نہیں کی لوڈ شیڈنگ بڑھتی چلی گئی جب عوامی مطالبہ میں شدت پیدا ہوئی تو رینٹل پاور اسٹیشن منگوا لیے گئے یہ اسٹیشن مکمل طور پر کرپشن میں ڈوبے ہوئے تھے ان سے حاصل ہونے والی بجلی اس قدر مہنگی کہ اگر ان سے جان نہ چھوٹتی تو عوام کا کچومر نکل جاتا اور اس بجلی سے چلنے والی صنعتوں کی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ میں کسی طور فروخت نہ ہو سکتیں بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا لیکن حقیقت میں کچھ نہیں تھا الیکشن آیا اور سابقہ حکومت کے وقت گزاری منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے میاں محمد نوازشریف اقتدار میں آئے تو بجلی کی قلت بہت بڑا چیلینج بن کر ان کے سامنے تھی ۔شریف برادران نے دن رات ایک کیا دوست ملک چین کام آیا اس نے پاکستان کی معیشت کو انقلاب دوست بنانے کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری تعمیر کرنے پر آمادگی ظاہر کردی اور اس کے لیے 46 ارب ڈالر کی گرانقدر سرمای کاری بھی فراہم کردی اس رقم کا بیشتر حصہ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر خرچ ہوگا وزیر اعظم پاکستان کا اعلان ہے کہ 2018 تک ان منصوبوں سے بجلی ملنا شروع اور لوڈ شیڈنگ رخصت ہو جائے گی یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں حقیقی معاشی انقلاب اس وقت آئے گا جب آبی ذرائع سے وافر اور سستی بجلی ملنا شروع ہو گی وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے بڑے ڈیم کی تعمیر میں حائل متوقع دشواریوں کا صحیح طور جائزہ لیا اور فیصلہ کیا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ حاصل نہیں کیا جائے بلکہ اس ڈیم کو خود انحصار کی بنیاد پر تعمیر کیا جائے گا اس میں واپڈا اور دیگر بعض ملکی اداروں نے موثر کردار ادا کرنا ہوگا قرضوں سے ملکی منصوبوں کی تعمیر کے سلسلے میں بعض اوقات ناگزیر رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں ہمسایہ ملک بھارت پانیوں کو روک کر پاکستان کی زرعی زمینوں کو بنجر بنانے کی سازشیں کرتا رہتا ہے بھاشا ڈیم پانی کی قلت کے اندیشوں کو ختم کر دے گا 4500 میگا واٹ سستی بجلی پاکستان میں صنعتی اور زرعی انقلاب برپا کر دے گی۔

پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف)کے چیئر مین اور معروف کاروباری شخصیت عرفان اقبال شیخ نے کہا ہے کہ سستی ، وافر اور ماحول دوست بجلی کے حصول کا سب سے بہترین ذریعہ بڑے ڈیم ہیں۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے وافر پانی کی نعمت سے نوازا ہے لیکن اِس پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ہمارے پاس مناسب تعداد میں ڈیم موجود نہیں۔ گذشتہ پینتیس سالوں کے دوران پاکستان میں ایک بھی بڑا ڈیم تعمیر نہیں ہوا جبکہ وہ ہمسایہ ملک جس کے ساتھ ہمیشہ آٹے دال اور پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کرنے پر زور رکھا گیا نہ صرف اپنے دریاؤں بلکہ پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر بھی ڈیم بناکر اپنی معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچا رہا ہے ۔ دوسری طرف ہمارا ملک ہے جہاں سیاسی مفادات ہمیشہ ملکی مفادات پر غالب آتے رہے جس کی سب سے بڑی مثال کالاباغ ڈیم ہے۔ جب سے یہ منصوبہ پیش کیا گیا تب سے گذشتہ سال تک یہ منصوبہ ٹلتاہی آیا لیکن موجودہ حکومت نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اِس کا قصّہ ہی تمام کردیا حالانکہ متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ اکیلا کالاباغ ڈیم ہی بجلی اور پانی کی پچاس فیصد سے زائد ضروریات پوری کرسکتا ہے ۔ عرفان اقبال شیخ کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ 1953ء میں پیش کیا گیاجس کی رو سے یہ ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جانا تھا اور اس کی تعمیر کا مقصد صرف پانی ذخیرہ کرکے آبپاشی کی ضروریات پورا کرنا تھا ۔ 1973ء تک کالاباغ ڈیم کو صرف ایک بڑا آبی ذخیرہ ہی تصور کیا جاتا رہالیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا گیا جس نے کالاباغ ڈیم کی اہمیت کو بھی دوچند کردیا کیونکہ اِس ڈیم کے ذریعے وافر بجلی کا حصول بھی ممکن ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک رپورٹ کے مطابق کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے جو مقام منتخب کیا گیاوہ تربیلا ڈیم سے تقریباً ایک سو بیس میل جبکہ دریائے سندھ اور دریائے کابل کے ملاپ کے مقام سے بانوے میل آگے اور جناح بیراج سے تقریباً سولہ میل پیچھے واقع ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر مو جو د ہ حکومت کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر ے تو کالاباغ ڈیم کا ڈھانچہ دریا کی سطح سے 260فٹ بلند ہوگااور اِس ڈیم میں 6.1ملین ایکڑ فٹ قابلِ استعمال پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا جس سے سالانہ اندازاً گیارہ ہزار میگاواٹ سے کچھ زیادہ بجلی پیدا ہوسکے گی۔ 1987ء تک اگر کالاباغ ڈیم تعمیر کرلیا جاتا تو اِس پر پانچ ارب ایک کروڑ تریپن لاکھ ڈالر لاگت آتی لیکن سیمنٹ، سٹیل اور دوسرے خام مال کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے اب کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا تخمینہ اندازاً ساڑھے آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے لہذا حکومت وقت معاشی انقلاب لانے کے لیے کالا باغ ڈیم سمیت دیگر چھوٹے ڈیموں کی تعمیر جلد شروع کر ے ۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالباسط نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم سمیت دیگر چھو ٹے بڑے ڈیمز کی تعمیر پاکستان کے مستقبل کا تقاضا ہے انٹر نیشنل اصو ل کے مطابق اگر ایک ملین فٹ ایکڑ پانی سٹور کر لیا جائے تو اس سے 2ارب ڈالر سالانہ معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے تاہم اگر کالا باغ ڈیم تعمیر کیا جائے تو اس میں 6.1ملین ایکٹر فٹ پانی سٹور ہو سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان سالانہ 12ارب ڈالر سال کا فائدہ لے سکتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم 1993کو مکمل ہو جانا تھا جو بد قسمتی سے سیاست اور وڈیرہ کلچر کی نذر ہو گیا اور آج تئیس سال گزرنے کے بعد پاکستان نے 276ارب ڈالر کا نقصان کیا ہے انھوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم اگر بن جائے تو سندھ صحرا بن جائے گا پتہ نہیں ہمیں کب شعور آئے گا کیو نکہ اب بھارت نے بھی دھمکی دے دی ہے کہ پاکستان کا پانی مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا اگر انڈیا پانی بند کر دیتا ہے تو پورا پاکستان ہی صحرا بن جائے گا ۔عبدالباسط نے کہا کہ مو جو دہ حکومت نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے جس پر 114ارب ڈالر خرچ ہو نگے اور اس کو چودہ سالو ں میں مکمل کیا جائے گا ۔انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بھاشا ڈیم کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کا لا باغ ڈیم منصو بے کی تعمیر بھی شروع کر ے کیو نکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے جہاں وافر بجلی میسر ہو گی وہیں سستی بجلی سے صنعتیں پھلے پھو لے گی انھوں نے کہا کہ حکومت کو چائیے کہ پبلک لمیٹڈ کمپنی فار ڈیمز بنائے جس کے شیئر ز دنیا بھر میں فلور ٹ کیے جائیں جس کا استعمال کر کے نہ صرف دیگر ممالک کو بجلی فروخت کی جاسکتی ہے بلکہ ملک کے لیے کثیر ذر مبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے جس سے نہ ہمیں کسی سے قر ضہ لینے کی ضرورت پڑے گی بلکہ سیلف فنانس سکیم کے تحت مذید چھوٹے و بڑے ڈیمز تعمیر کیے جا سکتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ پاکستان ہر سال 35ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں پھینکتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان ہر سال 70ارب ڈالر کا نقصان کر رہا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پانی کی سٹوریج کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے ۔

توانائی و آبی ماہر اورہائیڈرو ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائر یکٹر محمد صدیق خان نے پاکستان سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ توانائی بحرا ن کا خاتمہ کر کے ملکی معیشت کو نہ صرف پروان چڑھایا جا سکتا ہے بلکہ پیداوری عمل میں تیزی آنے سے جہاں روزگار کے مواقع پیدا ہونگے وہیں مہنگائی کا بھی قلع قمع ہو گا لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کو محفو ظ کر نے کے لیے ڈیمز کی تعمیر کی جائے اور پانی سے بجلی سستے داموں تیار کر کے ملکی زراعت اور انڈسٹری کو دی جائے جس سے ملک میں معاشی انقلاب لایا جا سکتا ہے ۔ صدیق خان نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں قدرتی وسائل کے بڑے زخیرے ہیں جن میں تیل ، گیس ، معدنیات سمیت قدرت کے کئی ایک انمول خزانے ہیں جن کو بروئے کار لا کر نہ صرف ملک کی معاشی حالت بدلی جا سکتی ہے بلکہ خطے میں خو شحالی آنے سے پاکستان دنیا بھر کے لیے تو جہ کا مر کز بن سکتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہائبرو ٹیک پاک پرائیو یٹ لمیٹڈ نے خیبر پختو نخوا ہ میں 81میگا واٹ بجلی پیدا کر نے کے لیے پلانٹ لگایا ہے جو آپریشنل ہے جبکہ سوات ، کشمیر ، ہیڈ مرالہ اور پاکپتن میں بھی کئی ایک منصوبے شروع ہیں جن کی تکمیل کے بعد خیبر پختو نخواہ پورے ملک کو بجلی سپلائی کر سکتا ہے ۔

سستی وافر اور ماحول دوست بجلی کے حصول کا سب سے بہترین ذریعہ کالا باغ ڈیم سمیت دیگر چھوٹے ڈیمز ہیں ۔عرفان اقبال شیخ

کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے 6.1ملین ایکٹر فٹ پانی سٹور کر نے سے پاکستان سالانہ 12ارب ڈالر کا فائدہ لے سکتا ہے۔ عبدالباسط

خیبر پختونخواہ میں قدرتی وسائل کے کئی ایک انمول خزانے ہیں جن کو بروئے کار لا کر ملک کی معاشی حالت بدلی جا سکتی ہے ۔محمد صدیق خان

مزید : ایڈیشن 2