گندم کی کاشت کی غیر ضروری حوصلہ افزائی نے بحران کو جنم دیا :چیمبر آف سمال ٹریڈرز

گندم کی کاشت کی غیر ضروری حوصلہ افزائی نے بحران کو جنم دیا :چیمبر آف سمال ...

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ حکومت سالانہ اربوں روپے کے نقصان سے بچنے کیلئے گندم کی کاشت کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ زیر کاشت رقبہ کم کیا جا سکے۔ گندم کی غیر ضروری حوصلہ افزائی نے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ پیداوار ہو رہی ہے اور ہر سال لاکھوں ٹن گندم ضائع ہو جاتی ہے۔اس گندم کو برامد بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اسکی قیمت بین الاقوامی منڈی میں دستیاب گندم سے دگنی ہے۔گندم اگانے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے دیگر کئی فصلوں کا کاشت کو ختم کر دیا ہے جس کا نوٹس لیا جائے۔ شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے گندم کی قیمت خرید 1300 روپے فی من مقرر کی ہے جبکہ بین الاقوامی منڈی میں گندم 700 روپے فی من میں دستیاب ہے اسلئے 90 ڈالر فی ٹن سبسڈی کے باوجود گندم برامد کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہر سال سرپلس گندم کے سٹاک میں اضافہ ہو رہا ہے جو پڑے پڑے سڑ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت کو کم کر کے ایک بزار روپے من مقرر کیا جائے تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ حکومت نے امسال گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ نہ کر کے اچھا کیا ہے جس سے افراط رز قابو میں رہے گا مگر اس میں کمی کی ضرورت ہے نہ کہ قیمت منجمد کرنے کی۔موجودہ صورتحال میں پاکستان کے غریب عوام دنیا میں سب سے مہنگا آٹا کھانے پر مجبور ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت نے امسال گندم کی پیداوار کا ہدف 26.01 ملین ٹن مقرر کیا گیا ہے جبکہ اضافی سٹاک کی موجودگی بڑے نقصان کا سبب بن رہی ہے۔ اس وقت ملک میں تیس لاکھ ٹن سرپلس گندم موجود ہے جس سے جان چھڑانے کا کوئی طریقہ کامیاب نہیں ہو رہا اس لئے امدادی قیمت میں کمی واحد آپشن ہے۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...