آزادمبصرین بھیجے جائیں ورنہ حلب میں قتل عام ہو سکتا ہے، فرانس کا انتباہ

آزادمبصرین بھیجے جائیں ورنہ حلب میں قتل عام ہو سکتا ہے، فرانس کا انتباہ

حلب(این این آئی)فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مسودہ قرار داد جمع کرایا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حلب سے شہریوں کے انخلاء کے عمل کی نگرانی کے لیے آزاد مبصرین وہاں روانہ کیے جائیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کی طرف سے تیار کردہ اس مجوزہ قرار داد کے مسودے میں کہاگیا ہے کہ شورش زدہ حلب میں پھنسے شہریوں کے انخلاء کے عمل کی نگرانی کی خاطر وہاں بین الاقوامی مبصرین تعینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ اس قرار داد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حلب میں شہریوں کی صورتحال کیا ہے؟ اس کے بارے میں بھی بین الاقوامی کمیونٹی کو علم ہونا چاہیے،حلب کی صورتحال پر خبردار کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں فرانسیسی سفیر نے کہا کہ حلب دوسرا سربرینتسا بن سکتا ہے، بلقان کی جنگ کے دوران 1995میں جب یہ شہر بوسنیا اور سرب فورسز کے کنٹرول میں آیا تھا تو وہاں ہزاروں بوسنیائی مردوں اور لڑکوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ سربرینتسا کے قتل عام کو جدید دور کی ایک بڑی جارحیت قرار دیا جاتا ہے۔فرانس کی طرف سے پیش کردہ اس قرار داد میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون سے کہا گیا ہے کہ وہ شام میں پہلے سے ہی تعینات مبصرین کو حلب روانہ کریں تاکہ وہاں سے شہریوں کے انخلاء کی نگرانی کی جا سکے اور وہاں شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے صورتحال معلوم ہو سکے۔

مزید : عالمی منظر